قومی زبان

ساس اور بہو

لو آج صبح ہی سے انہوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔ ’’اے بہن! کیا پوچھتی ہو کہ تمہاری ساس کیوں خفا ہو رہی ہیں۔ ان کی عادت ہی یہ ہے۔ ہر آئے گئے سب کے سامنے میرا رونا لے کر بیٹھ جاتی ہیں۔ ساری دنیا کے عیب مجھ میں ہیں۔ صورت میری بری، پھوہڑ میں، بچوں کو رکھنا میں نہیں جانتی، اپنے بچوں ...

مزید پڑھیے

غریبوں کا بھگوان

درگا مصیبت کی ماری چار بچوں کو پالتے پالتے بالکل بے دم ہو رہی تھی۔ محنت مزدوری کسی سے اسے دریغ نہ تھا۔ بیوگی، غربت اور چار بچے! سلائی کڑھائی کے سوا اسے اور کچھ نہ آتا تھا۔ اسی سلائی کی بدولت پانچ چھ روپے مشکل سے جمع ہو جاتے اور گزارہ چل جاتا۔ صبح ہی صبح اٹھ کر پوجا کرتی۔ گڑگڑا کر ...

مزید پڑھیے

آصف جہاں کی بہو

آصف جہاں کے شوہر ایک بہت پیسہ والے ڈپٹی کلکٹر تھے اور ان کا اکلوتا لڑکا نور الحسن کئی بچوں کے مرنے کے بعد جیا تھا۔ سب ہی کا لاڈلا تھا۔ ایسے کنبہ میں تو کوئی ایسا نہ تھا جو خوشی سے اپنی بیٹی نور الحسن کو نہ دے دیتا، لیکن آصف جہاں کی آرزو تھی کہ کبریٰ کی لڑکی اپنے بچے کے لئے ...

مزید پڑھیے

وہ

میری اس سے شفا خانے میں ملاقات ہوئی، وہ بھی دوا لینے گئی تھی اور میں بھی۔ اس کو دیکھ کر سب عورتیں بچنے لگیں۔ ڈاکٹر نے بھی اپنی کراہت کا اظہار آنکھیں بند کر کے کیا۔ گھن تو مجھ کو بھی آئی لیکن میں نے کسی نہ کسی طرح سے اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا، وہ بھی مسکرائی۔ کم از کم کوشش تو کی۔ ...

مزید پڑھیے

مجرم کون

شام کا وقت ہے، انگلش کلب میں آج بہت رونق ہے۔ سٹرک پر دور دور تک موٹریں کھڑی ہیں۔ دیواروں پر ٹینس کے نیلے پردے کسے ہوئے ہیں جو اندر کی کارروائی گندی اور غلیظ ہندوستانی آنکھوں سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پھر بھی کسی نہ کسی صاحب یا میم صاحب یا کسی ہندوستانی افسر پر نظر پڑ ہی ...

مزید پڑھیے

میرا ایک سفر

شکنتلا۔۔۔ تم لڑکیاں بھی کتنی بد مذاق ہو، میری گھڑی پیچھے کردی، اگر ریل چھوٹ جاتی تو؟ کل کالج سے اتنی دیر کر کے چلی کہ اسٹیشن پر پہنچی تو گاڑی گھڑی تو تھی، لیکن گارڈ سیٹی پر سیٹی بجا رہا تھا۔ جس مصیبت سے میں نے اسے پکڑا بس میں ہی جانتی ہوں۔ اپنی ساڑی اونچی اٹھا میں نے پل پر سے ...

مزید پڑھیے

کفن بکس والا

نہ تو وہ کبھی آس پاس کی بستیوں میں دیکھا گیا تھا اور نہ ہی اسے یہاں کوئی جانتا تھا۔ اس پر ایک نظر ڈالتے ہی قدیم دور کی گم شدہ انسانی نسلوں کے ہیولے ذہن میں تھر تھر انے لگتے تھے۔ پھر بھی یہ اندازہ لگا نا مشکل تھا کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے۔ لوگوں نے بھی کھوج کی ضرورت نہیں سمجھی ...

مزید پڑھیے

ہرے دروازے والا مکان

عقیل بیگ نے چلتی ہوئی بس سے اپنے اسٹاپ پر چھلانگ لگائی اور شہر کی سب سے بڑی سڑک کو عبور کر کے مانڈلی والے سے اپنے برانڈ کاپیکٹ خریدا اور اس میں سے ایک سگریٹ نکال کر سلگاتے ہوئے اس نے اخباروں کے اسٹال پر روزناموں کی سرخیوں پر نگاہ دوڑائی۔ اس کے بعد وہ گردوپیش کی چیزوں کو غور سے ...

مزید پڑھیے

ایک اور مکان

نیند کی چڑیا کا چپ چاپ اڑ جانا اس کے لیے کم ازیت ناک نہ تھا۔ لیکن یہ روز نہیں ہو تا تھا۔ کیونکہ وہ چڑیا کو تو کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پکڑ سکتا تھا۔ مثلاً بس میں سفر کر تے ہو ئے یا گھر میں اخبار پڑھتے ہو ئے۔ بس ذرا آنکھ میچنے کی دیر تھی۔ لیکن اب جسم کے اعضاء کی خستگی کے سبب وہ اس کی ...

مزید پڑھیے

آڑھتی اوراس کابیٹا

گھنگھروئوں کی آواز کب تھمی۔ناچتے پائوں کب رکے اور تھرکتاجسم کب ساکت ہوا۔ وہ نہیں جانتا اس کے لیے ہر شے ابھی تک حرکت میں تھی۔ وہ خود کہیں ٹھہرا ہوا تھا مگر گھوم رہا تھا۔ دائرے میں ناچتے جسم کے ساتھ یہاں، وہاں۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں مگر وہ سویا، سویا تھا۔اسے پتا نہیں چل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5966 سے 6203