قومی زبان

مسکراہٹ

اس نے میری گردن کو بازوؤں میں جکڑ لیا اور میرے گالوں کو چومنے لگا۔ پھر اس کے دانت گالوں میں پیوست ہوتے چلے گئے۔ اس کی غلیظ رال چہرے پر پھیل گئی۔ میں نے اس کے بال کھینچے، پرے دھکیلنے کی کوشش کی۔ لیکن اس کے نتھنوں سے گرم سانسیں میری جلد کے مساموں میں گھسنے لگیں۔ بے چار گی سے میری ...

مزید پڑھیے

بچھڑی گونج

معمول کے کام نمٹاکر وہ سستانے بیٹھی تو سوچ رہی تھی ’’کھا نا پودینے کی چٹنی سے کھالوں گی، بیٹے کے لیے انڈا بنا نا پڑے گا۔ پرسوں والا گوشت رکھا ہے۔ آلو ساتھ ملا کر شام کو سالن بنالوں گی۔‘‘ اس نے فریزر کھول کر گوشت کو ٹٹولا کہ پو را پڑ جائے گا یا نہیں ۔پھر اسے ایک نیا کام یاد ...

مزید پڑھیے

بیل دوج کی ٹھیکری

کتنے دنوں سے وہ روز خوابوں میں آجاتی ہے۔ رات کو نیند میں دن کو آرام کر تے ہوئے یا دوپہر کو قیلولے کے وقت۔ حتیٰ کہ جاگتے ہو ئے بھی ایسا لگتا ہے کہ میری آنکھیں اسے دیکھ رہی ہیں ۔ میرا جسم اس کی موجودگی کو محسوس کر رہا ہے۔ میں اس کی سرگوشیاں بھی سنتی ہوں۔ دھیمی، غمگین، مسرور۔ وہ ...

مزید پڑھیے

گلاں کی سرگوشیاں

پچھلی چوری کو اکیالیس دن گزر چکے تھے ۔ اس کی ملامت ابھی تک جیون کے دل میں اٹکی ہوئی تھی۔ کبھی کبھار وہ اسے محسوس کر لیتا تھا اور ٹھنڈی آہ بھر کے رہ جاتا تھا۔ پچھلی مرتبہ وہ چھٹی کی رات گھر میں لیٹا ہوا تھا۔ اس کی نئی نویلی، کالی کلوٹی اور کم سن بیوی، اس کی بالوں سے اٹی چھاتی میں ...

مزید پڑھیے

انڈونیشی سگریٹ

غلام رسول دن بھر کی آمدنی، گندے اور کسیلے نوٹ گن رہا تھا۔ اس کی بس جب آخری اسٹاپ پر کھڑی ہوگئی اور بچے کھچے لوگ اس میں سے اتر گئے۔ ڈرائیور نے چابی نکالی۔ نشست سے اٹھا اور کھڑکی ے باہر کو د گیا۔ غلام رسول نے اسے ایک نظر دیکھاتو، مگر اس کا دھیان نوٹوں کی گڈی پر لگا رہا۔ تھوڑی دیر بعد ...

مزید پڑھیے

پرانا شہر

پرانے شہر کی فصیلیں منہدم ہو چکی ہیں۔ شہر ضرور سلامت ہے۔ اس طرح نور محلہ اور نور مسجد بقید حیات ہیں۔ انہیں لوگ جانتے ہیں۔ بیگم نور حیات کو بھول گئے ہیں۔ اس کی توقبر کا نشان بھی نہیں رہا۔ اسی نے یہ محلہ بسایا اور چھوٹی سی عبادت گاہ بھی بنا دی جس کی مرمت کی ذمہ داری اللہ رکھا نے ...

مزید پڑھیے

اودھم پور کی رانی

اگر ڈیرہ دارنی اور ٹکیائی کے درمیان میں کوئی چیز ہوسکتی تھی تو وہ سلطانہ تھی، جس نے ہوشیار پور میں پورا ہوش سنبھالا۔ وہیں پلی، بڑھی، جوان ہوئی۔ اس کی آواز اور بدن کے ساز دونوں میں سات سُر لگ گئے، پھر بھی وہ بے سری رہی۔ ٹھمریوں کے نگر میں رہتے ہوئے بھی ٹھمری نہ گاسکی اور گا بھی ...

مزید پڑھیے

افلاس کی آغوش

ایک ہی رات میں تین قتل!شہر میں سنسنی پھیل گئی۔ ایک آدمی خبر پڑھتے پڑھتے غش کھاگیا۔ کوٹھیاں، کوٹھی خانے، کھڑکیاں، بالکنیاں، بام ودر ایک ساتھ بولنے لگے۔ مفت خورے اخبار خرید کر پڑھنے والوں پر ٹوٹ پڑے اور گھر گھر اخبار لے گئے۔ کچھ پلٹ کر نہ آئے اور کچھ پلٹ کر آئے تو چکنا چور ...

مزید پڑھیے

سمجھوتہ

حویلی کی نیچی دیوار کی پرلی طرف جانے کس کی پگڑی کاطرہ لہرایا کہ نوری ایک دم سہم کر جھاڑی کے پیچھے دبک گئی۔ سات کوس دور ایک گاؤں وتہ خیل سے وہ پیدل چلتی آرہی تھی۔ اور ان سات کوسوں میں اٹھتے ہوئے ہر ایک قدم کےساتھ اس کا دل بے شمار بار دھڑکا تھا۔ لیکن آسمانی رنگ کے اس طرے کو دیکھ کر ...

مزید پڑھیے

نصیب جلی

دروازے کے باہر سائیکل کی گھنٹی سنتے ہی موتا سنگھ کے بچے۔ دروازہ کھولنے کے لیے دوڑ پڑے۔ تینوں بچوں نے ایک ساتھ کنڈی پر ہاتھ رکھا ۔ دروازہ کھول کر تینو ایک ساتھ چلائے، ’’دار جی آگئے، دار جی آگئے!‘‘ اور پھر تینوں ایک ساتھ ہی اچانک موتا سنگھ کی سائیکل پر سوار ہوگئے۔ ایک آگے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5967 سے 6203