قومی زبان

دل دریا

ایک ٹھاٹھیں مارتا دریا سامنے ہے اور پار کرنے کے لیے کوئی چیز نہیں۔ ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اسے پار کیا ہی نہ جائے اور اسی کنارے چلتے چلے جائیں ، شاید کہیں کوئی راستہ مل جائے یا ادھر کا کنارہ کسی دوسرے کنارے سے ہم آہنگ ہو جائے۔ لیکن کب تک؟ کبھی نہ کبھی تو پار جانا ہو گا، دریا ...

مزید پڑھیے

ست رنگے پرندے کے تعاقب میں

ناشتہ کرتے ہوئے اچانک ہی خیال آیا کہ پچھلے ٹیرس پر پڑی چارپائی کو بنوانا چاہیے۔ محلے والے گھر سے اس نئے گھر میں منتقل ہوتے ہوئے اپنا بہت سا پرانا سامان وہیں بانٹ بونٹ آئے تھے۔ بس یہ ایک چارپائی کسی طرح ساتھ آگئی۔ کچھ عرصہ پچھلے ٹیرس پر دھوپ میں بیٹھنے کے کام آئی۔ پھرزندگی ...

مزید پڑھیے

جنگل شہر ہوئے

برگد کا وہ پیڑ، جہاں اس سے ملاقات ہوئی تھی، بہت پیچھے رہ گیا ہے اور شناسائی کی لذت صدیوں کی دھول میں اَٹ کر بدمزہ ذائقہ بن گئی ہے، ملاقات کی یاد۔۔۔ بس ایک دھندلی سی یاد ہے۔ جب وہ اسے کریدنے کی کوشش کرتا ہے تو دور کہیں ایک مدھم سی آواز سنائی دیتی ہے اور اس کے اندر بہت نیچے کوئی چیز ...

مزید پڑھیے

دریچے سے دور

کبھی وہ زمانہ تھا کہ کہانی شفیق ماں کی طرح اسے لوریاں دیتی تھی۔ اس وقت وہ ورکشاپ میں کام کرتا تھا۔ دن بھر ہتھوڑوں کی آوازوں میں کرچ کرچ ہو کر جب شام کو گھر لوٹتا تو کہانی دبے پاؤں اس کے پیچھے آتی اور کسی سنسان سڑک پر اس کا ہاتھ تھام کر یوں اس کے ساتھ ساتھ چلتی جیسے کوئی محبوبہ۔۔۔ ...

مزید پڑھیے

چلتے رہنا بھی اِک موت ہے

جوں ہی رات دبے پاؤں کمرے میں داخل ہوتی ہے، کارنس پر رکھا مجسمہ آہستہ سے نیچے اترتا ہے اور اس کے سرہانے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، وہ پوچھتا ہے۔۔۔ ’’کون؟‘‘ مجسمہ کہتا ہے۔۔۔ ’’میں ؟‘‘ ’’میں کون؟‘‘ ’’میں ماضی ہوں۔‘‘ وہ سر اٹھا کر اسے دیکھتا ہے۔۔۔ ’’لیکن میں تمہیں نہیں ...

مزید پڑھیے

سناٹا بولتا ہے

ہم سب زمانے کے کاغذ پر دم توڑتے ہوئے وہ حرف ہیں جنہیں بے معنویت کی دیمک چاٹ گئی ہے۔ وہ ان دم توڑتے ہوئے حرفوں میں ایک ایسا کردار ہے جس کا کوئی نام نہیں۔ ایک زمانے میں اس کا ایک نام تھا، لیکن مسلسل بولے جانے کے بعد اب اسے اپنے نام کے حرفوں میں کوئی دلکشی نظر نہیں آتی، اس لیے اس نے ...

مزید پڑھیے

بے خوشبو عکس

داستان گو اس کہانی کو یوں سنا تا ہے کہ جب میں شہر میں داخل ہوا تو کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، ہر طرف ایک شور اور ہنگامہ تھا۔ شہر کے کل مرد، عورتیں ، بوڑھے، جوان اور بچے ہاتھوں میں کچھ نہ کچھ پکڑے بجا رہے تھے۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں ایک شیر بدحواسی کے عالم میں کبھی ایک ...

مزید پڑھیے

خزاں گزیدہ

قیدی کو اس حالت میں لایا گیا کہ گلے میں طوق اور پاﺅں میں زنجیریں، زنجیروں کی چھبن سے پاﺅں جگہ جگہ سے زخمی ہوگئے تھے اور ان سے خون رس رہا تھا۔ طوق کے دباﺅ سے گردن کے گرد سرخ حلقہ بن گیا تھا جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا تھا۔ قیدی طوق کے بوجھ اور پاﺅں کی زنجیروں کی وجہ سے سیدھا کھڑا نہیں ...

مزید پڑھیے

دلی کی سیر

’’اچھی بہن ہمیں بھی تو آنے دو‘‘ یہ آواز دالان میں سے آئی، اور ساتھ ہی ایک لڑکی کرتے کے دامن سے ہاتھ پونچھتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی۔ ملکہ بیگم ہی پہلی تھیں جو اپنی سب ملنے والیوں میں پہلے پہل ریل میں بیٹھی تھیں۔ اور وہ بھی فرید آباد سے چل کر دہلی ایک روز کے لیے آئی تھیں محلہ ...

مزید پڑھیے

افطار

روزہ دار روزہ کھلوادے، اللہ تیرا بھلا کرے گا۔ کی صدائیں ڈیوڑھی سے آئیں۔ ڈپٹی صاحب کی بیگم صاحبہ جن کا مزاج پہلے ہی سے چڑچڑا تھا بولیں، ’’نامعلوم کم بخت یہ سارے دن کہاں مر جاتے ہیں۔ روزہ بھی تو چین سے نہیں کھولنے دیتے!‘‘ ’’اللہ تیرا بھلا کرے گا!‘‘ کی کانپتی آواز پھر گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5965 سے 6203