قومی زبان

سرنگ

گہری تاریکی اور مکمل خاموشی تھی۔۔۔ سارے احساسات نیند میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کہیں کچھ نہیں رہا تھا۔۔۔ یہ کیفیت کب سے تھی۔ یاد نہیں آرہا تھا۔ اس سے پہلے کیا تھا۔۔۔ اس کا بھی علم نہ تھا۔ پھر جیسے کسی ہیولے کی طرح زمین پر اترنے کااحساس ہوا۔ اور لگا کہ پیٹھ زمین سے لگتی جارہی ہے۔ دور ...

مزید پڑھیے

بے ڈھنگا

نوری نے ماچس کی ڈبیا ہلائی ،تو ابھی اس میں اچھی خاصی تیلیاں موجود تھیں۔اس نے ٹیڑھی میڑھی لکڑیاں درست کرتے ہوئے سوچا کہ ان سے کچھ دن چولھا گرم رکھا جا سکتا ہے ۔اس نے ایک تیلی مسالے پر رگڑی تو جیسے سورج روشن ہونے لگا۔ نوری نے ایک امید بھری نگاہ افق پر ڈالی ، لکیر گلابی ہونے لگی ...

مزید پڑھیے

آئی ایم سوری ژندی جان!

’’ژندی جان!۔۔۔آئی ایم سوری یار!۔۔۔میں کہانی بھول گیا تھا۔جب یاد آئی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔۔۔خیر تم اس بات کو چھوڑواور کہانی سنو!۔۔۔زرد کلغی والے مرغ کی کہانی۔ ایک پنجرے میں کئی مرغ اور مرغیاں رہتے تھے۔پنجرہ بہت بڑا تھا۔اتنا بڑا کہ اس کی سلاخیں نظر نہ آتی تھیں۔سلاخیں نظر نہ ...

مزید پڑھیے

مکروہ

بدبودار، بد مزہ اور جان لیوا حد تک مکروہ گوشت کے بے ہنگم لوتھڑے اور سڑاند سے لبریز تہہ دار جھلی کو زبان سے سہلاتے ہوئے اسے محسوس ہوا جیسے کریہہ رقیق مادے کے ننھے ننھے چشمے پھوٹ کر زبان کی پھسلن میں آسانی پیدا کرنے لگے ہیں۔ آج اپنے دل میں کراہت نہ پا کر شاید پہلی مرتبہ اس پر یہ ...

مزید پڑھیے

کتبے کے نیچے

پھپھو نے میرو مسلی کو بکرا بنے دیکھ کر، ایک ہی وارمیں اس کا سر کھول دیا تھا پھروہ بی بی کو مکوں،تھپڑوں اور ٹھڈوں سے نیلو نیل کر کے بھی مطمئن نہ ہوئیں تو بالوں سے گھسیٹ گھسیٹ کر دیوار سے پٹختی رہیں۔ بڑا کمرہ دیر تک ان کی بے ترتیب سانسوں سے تھرتھراتا رہا۔جب سانس کچھ بحال ہوئی تو ...

مزید پڑھیے

ذرا ہور اوپر

نواب صاحب نوکر خانے سے جھومتے جھامتے نکلے تو اصلی چنبیلی کے تیل کی خوشبو سے ان کا سارا بدن مہکا جا رہا تھا۔ اپنے شاندار کمرے کی بے پناہ شاندار مسہری پر آ کر وہ دھپ سے گرے تو سارا کمرہ معطر ہو گیا۔۔۔ پاشا دولہن نے ناک اٹھا کر فضا میں کچھ سونگھتے ہی خطرہ محسوس کیا۔ اگلے ہی لمحے وہ ...

مزید پڑھیے

کوئلہ بھئی نہ راکھ

رات تاریک ہے، میرے نصیب کی طرح۔۔۔ آسمان پر اکا دکا ستارے ٹمٹمارہے ہیں۔ ان کا میرے آنسوئوں سے کیا مقابلہ؟ میری آنکھوں میں تو ان گنت ستارے جھملارہے ہیں، جھلملاتے ہی رہتے ہیں۔ کتنے دن ہو گئے میری آنکھوں نے مسکرانا چھوڑ دیا ہے۔۔۔؟ ایسا معلوم ہوتا ہے ہنسی سے میری شناسائی ہی ...

مزید پڑھیے

اے رود موسیٰ

تم میری باتیں غور سے سن تو رہے ہونا؟ سترہ سال کی عمر میں میں خوبصورتی کا مکمل نمونہ تھی۔ میرا جسم متناسب تھا، قد لمبا لمبا ہاتھ پاؤں صندلیں۔ آنکھیں شراب کے پیالے۔ رنگت ایسی جیسے کسی نے میدہ، گلابی پانی سے گوندھ کر رکھ دیا ہو۔ تم اگر اسے خود ستائی نہ کہو تو میں یہ کہنے کی جرات ...

مزید پڑھیے

شعلے

نکہت کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آ رہا تھا۔ اندر اسلم صاحب درد سے کراہتے پڑے تھے۔ اور وہ خود باہر ہاتھ ملتی کھڑی تھی۔ اس نے لپک کر شانو کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ اور اس کے کان میں بولی۔ ’’ڈاکٹر صاحب کا فون نمبر یاد ہے تمہیں۔؟ ’’جی ہاں۔ 9434‘‘۔ وہ حیرت سے بولی۔ کیوں مگر ’’تم ...

مزید پڑھیے

منزل

مسعود میاں بڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے۔ ابھی صبح کا ملگجا ملگجا اندھیارا دور نہیں ہوا تھا۔ دالان میں تو آنگن کے مقابلے میں یونہی زیادہ اندھیرا تھا۔ ساری چیزیں مٹی مٹی اور غیر واضح تھیں۔ مگر روشنی کی کمی کے باوجود مسعود میاں نے دیکھ لیا کہ ان کا بستر آج پھر گیلا گیلا سا تھا۔ سانس روک کر ا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5909 سے 6203