قومی زبان

کسی سے عشق مرا والہانہ ہوتے ہوئے

کسی سے عشق مرا والہانہ ہوتے ہوئے میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے وہ ٹیلیفون کی گھنٹی یقیں دلاتی ہے مرے قریب ہے تو غائبانہ ہوتے ہوئے وہ نسل نو کے لئے دے گیا نیا فیشن میں جس لباس کو پہنوں پرانا ہوتے ہوئے مرا رقیب تھا جب تک مرے قریب رہا وہ مجھ سے دور ہے اب دوستانہ ہوتے ...

مزید پڑھیے

حسین رخ پہ ابھی تم نقاب رہنے دو

حسین رخ پہ ابھی تم نقاب رہنے دو نہ کھولو بند غزل کی کتاب رہنے دو اٹھوں گا دیکھنا اک دن میں آندھیوں کی طرح ابھی کرو نہ سوال و جواب رہنے دو ہم اپنا فرض کسی روز بھول بیٹھیں نا ہمارے کاندھوں پہ کنبے کا داب رہنے دو ہر ایک چیز کی مجھ میں تمیز ہے بھائی تم اپنے پاس عذاب و ثواب رہنے ...

مزید پڑھیے

نظر میں کچھ نہ تھی پہلے کبھی توقیر مٹی کی

نظر میں کچھ نہ تھی پہلے کبھی توقیر مٹی کی فرشتے دنگ ہیں اب دیکھ کے تقدیر مٹی کی ہزاروں نعمتیں دیتی ہیں لیکن ضرب سہ سہ کر خدا نے بھی بنائی ہے عجب تقدیر مٹی کی سنائی دے گی ظالم تجھ کو تب مجبور کی آہیں جکڑ لے گی ترے پیروں کو جب زنجیر مٹی کی کہ جیسے پیڑ کی ہر شاخ مجھ سے بات کرتی ہے کہ ...

مزید پڑھیے

فطرت پہ اس کی میں ہوا حیران زیادہ

فطرت پہ اس کی میں ہوا حیران زیادہ انساں کی شکل میں ملے شیطان زیادہ مجھ سے تمہارے حسن کی تحسیں نہ ہو سکی اتنی سی بات پہ اٹھا طوفان زیادہ اچھا تھا تجھ سے میری شناسائی نہیں تھی اے نا شناس میں ہوں پریشان زیادہ بارش ہے تیز چھت ہے شکستہ جگہ جگہ اس پہ ہمارے گھر میں ہیں مہمان ...

مزید پڑھیے

تمہارے طنز کا ہر ایک تیر زندہ ہے

تمہارے طنز کا ہر ایک تیر زندہ ہے کہ کھا کے زخم دل بے ضمیر زندہ ہے مجھے خریدنے والا یہ کہہ کے لوٹ گیا عجیب شخص ہے اب تک ضمیر زندہ ہے سنائی دیتی ہے زنجیر کی سدا اکثر ہماری ذات میں شاید اسیر زندہ ہے ہمارا عہد ڈھلے گا ہمارے شعروں میں ہماری سوچ کی جب تک لکیر زندہ ہے اٹھا کے دیکھ لو ...

مزید پڑھیے

یہ تم سے کس نے کہا ہے کہ داستاں نہ کہو

یہ تم سے کس نے کہا ہے کہ داستاں نہ کہو مگر خدا کے لیے اتنا سچ یہاں نہ کہو یہ کیسی چھت ہے کہ شبنم ٹپک رہی ہے یہاں یہ آسمان ہے تم اس کو سائباں نہ کہو رہ حیات میں ناکامیاں ضروری ہیں یہ تجربہ ہے اسے سعیٔ رائیگاں نہ کہو مری جبین بتائے گی عظمتیں اس کی اسے خدا کے لیے سنگ آستاں نہ ...

مزید پڑھیے

جو سارے ہم سفر اک بار حرز جاں کر لیں

جو سارے ہم سفر اک بار حرز جاں کر لیں تو جس زمیں پہ قدم رکھیں آسماں کر لیں اشارہ کرتی ہیں موجیں کہ آئے گا طوفاں چلو ہم اپنے ارادوں کو بادباں کر لیں پروں کو جوڑ کے اڑنے کا شوق ہے جن کو انہیں بتاؤ کہ محفوظ آشیاں کر لیں جو قتل تو نے کیا تھا بنا کے منصوبہ ترے ستم کو بڑھائیں تو داستاں ...

مزید پڑھیے

چشم ظاہر بیں کو ہر اک پیش منظر آشنا

چشم ظاہر بیں کو ہر اک پیش منظر آشنا مل نہیں سکتا تجھے اب مجھ سے بہتر آشنا ظرف تیرا مجھ پہ روشن ہو گیا ہے اس طرح جس طرح قطرے سے ہوتا ہے سمندر آشنا ٹوٹنا تقدیر اس کی توڑنا اس کا خمیر غیر ممکن ہے نہ ہو شیشے سے پتھر آشنا ہر طرح کے پھول ہیں دل کی زمیں پر دیکھیے کس طرح کہہ دوں نہیں سینے ...

مزید پڑھیے

مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا

مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا سفر میں ہم سفر اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا شکست فاش کا غم زندگی جینے سے بد تر ہے جھکانے کی بجائے سر کٹا لیتے تو اچھا تھا کبھی اشکوں پہ اتنا ضبط بھی اچھا نہیں ہوتا یہ چشمہ پھر ضرر دے گا بہا لیتے تو اچھا تھا بھلا کیا فائدہ اب قبر پہ آنسو ...

مزید پڑھیے

کرب فرقت روح سے جاتا نہیں

کرب فرقت روح سے جاتا نہیں حل کوئی غم کا نظر آتا نہیں کاش ہوتا علم یہ انسان کو جو گزر جاتا ہے پل آتا نہیں مٹ گیا شکوے سے لطف انتظار اب ہمیں وہ راہ دکھلاتا نہیں ہم وفائیں کر کے بھی ہیں شرمسار وہ جفائیں کر کے شرماتا نہیں درد وہ انعام ہے ساحلؔ کہ جو ہر کسی انساں کو راس آتا نہیں

مزید پڑھیے
صفحہ 5823 سے 6203