قومی زبان

دل میں ہے کیا عذاب کہے تو پتہ چلے

دل میں ہے کیا عذاب کہے تو پتہ چلے دیوار خاموشی کی ڈھے تو پتہ چلے سب کچھ ہی بانٹنے کو چلی آتی کیوں ندی اس کی طرح سے کوئی بہے تو پتہ چلے بیٹے تو جانتا نہیں ہے ماں کی اہمیت ماں کی طرح تو درد سہے تو پتہ چلے کیسے بتائے کوئی جیو کیسے زندگی تو پنچھیوں کے ساتھ رہے تو پتہ چلے پینے کو ...

مزید پڑھیے

درد سے دل نے واسطہ رکھا

درد سے دل نے واسطہ رکھا وقت بدلے گا حوصلہ رکھا رو دئیے میرے حال پہ پنچھی چگنے جب صرف باجرا رکھا میں پرندہ بنا ہوں جب سے تو سرحدوں سے نہ واسطہ رکھا دھوکہ اکثر ملے ہے اپنوں سے اپنوں سے تھوڑا فاصلہ رکھا تاکہ نکلیں نہیں مرے آنسو درد سہنے کا سلسلہ رکھا مندروں مسجدوں میں ڈھونڈھے ...

مزید پڑھیے

شجر جس پہ میں رہتا ہوں اسے کاٹا نہیں کرتا

شجر جس پہ میں رہتا ہوں اسے کاٹا نہیں کرتا میں آتشؔ ملک سے سپنے میں بھی دھوکا نہیں کرتا بناتے کیسے ہیں مٹی سے سونا مجھ کو آتا ہے مگر میں دوستو ایسا کوئی دعویٰ نہیں کرتا بھلا دیتے ہیں لوگ اکثر محبت میں کئے وعدے تبھی تو جان میں تم سے کوئی وعدا نہیں کرتا میں اک بوڑھا شجر جس کو جواں ...

مزید پڑھیے

بات بچوں کی تھی لڑنے کو سیانے نکلے

بات بچوں کی تھی لڑنے کو سیانے نکلے پھر عجب کیا ہے کہ بچے بھی لڑاکے نکلے دھیان ماں رکھتی تھی میرا وہ زمانے نکلے ہیں یوں اب روز سویرے سے کمانے نکلے آم کے باغ سے جب سے ہیں پرندے غائب بعد اس کے کہاں پھر آم رسیلے نکلے پوٹلی جس کے لئے لڑتی رہیں اولادیں ماں کی اس پوٹلی میں صرف جھروکے ...

مزید پڑھیے

کاش میں تجھ سا بے وفا ہوتا

کاش میں تجھ سا بے وفا ہوتا پھر مجھے تجھ سے کیا گلہ ہوتا عشق ہوتا ہے کیا پتا ہوتا گر پرندوں سے واسطہ ہوتا بول کے مجھ سے گر جدا ہوتا ملنے جلنے کا سلسلہ ہوتا یوں ہو کہ گھر بنائیں دیواریں رات ہوتے ہی گھر گیا ہوتا بے وفائی کا سرخ رنگ بھی ہے عشق میں ورنہ کیا مزہ ہوتا خود پہ گر ...

مزید پڑھیے

الفتوں کا خدا نہیں ہوں میں

الفتوں کا خدا نہیں ہوں میں رنج و غم سے جدا نہیں ہوں میں ایک عرصہ ہوا گئے اس کو اب تو اس کا پتا نہیں ہوں میں کلیوگی سوچ سے ہوں پردوشت کوئی تازہ ہوا نہیں ہوں میں خرچوں کے بوجھ نے کمر توڑی شوق سے کوئی جھکا نہیں ہوں میں بے وفا با وفا نہیں ہوگا عشق کی کیمیا نہیں ہوں میں چند سکے ہیں ...

مزید پڑھیے

عشق سے دل کو اوبا دیکھا

عشق سے دل کو اوبا دیکھا جسم کا جب سے سودا دیکھا بھوکا ہم نے راجہ دیکھا ساگر کو بھی پیاسا دیکھا دنیا دیکھی کب بچوں نے سی سی پلس پلس جاوا دیکھا امیدیں ماں باپ کی دیکھیں بچوں کا جب بستہ دیکھا شاہی پتھ کا لالچ مت کر سچا رستہ کچا دیکھا بدل کے دیکھا ہم نے پھر بھی راجہ لیکن بہرا ...

مزید پڑھیے

موت انسان کے جینے کا بدل ہوتی ہے

موت انسان کے جینے کا بدل ہوتی ہے زندگانی میں ہی پوشیدہ اجل ہوتی ہے اے مرے کاتب تقدیر ذرا یہ تو بتا تیری تحریر بھی کیا رد و بدل ہوتی ہے تم اگر چاہو تو وہ خون بھی دے سکتا ہے ایک مظلوم کی ہر بات اٹل ہوتی ہے شعر گوئی کی اذیت بھی اذیت ہے عجیب قوت فکر ہر اک شعر پہ شل ہوتی ہے خون جلتا ...

مزید پڑھیے

پھول اچھا نہیں لگتا ہے چمن سے باہر

پھول اچھا نہیں لگتا ہے چمن سے باہر بد نصیبی ہمیں لے آئی وطن سے باہر ایک بھی شخص اگر ہو تو بتا دو مجھ کو کون اس دور میں ہے رنج و محن سے باہر زر پرستو کبھی سوچا بھی ہے کہ کیوں آخر ہاتھ رکھے تھے سکندر کے کفن سے باہر چند سکے نہیں ملتی ہے اذیت پھر بھی لوگ اکثر چلے جاتے ہیں وطن سے ...

مزید پڑھیے

کہیں پہ دھوپ کہیں پر ہیں سائبان بہت

کہیں پہ دھوپ کہیں پر ہیں سائبان بہت قدم قدم پہ ہیں دنیا میں امتحان بہت مجھے سپرد تو لوگوں نے کر دیا اس کے مگر عزیز ہے قاتل کو میری جان بہت اگر یہ چاہے تو اک پل میں انقلاب آئے ہماری قوم میں ایسے ہیں نوجوان بہت مگر دراڑ نہ آنے دی میں نے رشتے میں بھرے ہیں لوگوں نے ویسے تو میرے کان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5822 سے 6203