جو نیکی کر کے پھر دریا میں اس کو ڈال جاتا ہے
جو نیکی کر کے پھر دریا میں اس کو ڈال جاتا ہے وہ جب دنیا سے جاتا ہے تو مالا مال جاتا ہے سنبھل کر ہی قدم رکھنا بیابان محبت میں یہاں سے جو بھی جاتا ہے بڑا بے حال جاتا ہے کبھی بھوکے پڑوسی کی خبر تو لی نہیں اس نے مگر کرنے وہ عمرہ اور حج ہر سال جاتا ہے مناؤں ہر برس جشن ولادت کس لئے ...