قومی زبان

دنیا نے جب ڈرایا تو ڈرنے میں لگ گیا

دنیا نے جب ڈرایا تو ڈرنے میں لگ گیا دل پھر بھی پیار آپ سے کرنے میں لگ گیا شاید کہیں سے آپ کی خوشبو پہنچ گئی ماحول جان و دل کا سنورنے میں لگ گیا اک نقش موج آب سے برہم ہوا تو کیا اک نقش زیر آب ابھرنے میں لگ گیا جاویدؔ نزد آب رواں کہہ گیا فقیر دریا میں جو گیا وہ گزرنے میں لگ گیا

مزید پڑھیے

میں تیری ہی آواز ہوں اور گونج رہا ہوں

میں تیری ہی آواز ہوں اور گونج رہا ہوں اے دوست مجھے سن کہ میں گنبد کی صدا ہوں جس راہ سے پہلے کوئی ہو کر نہیں گزرا اس راہ پہ میں نقش قدم چھوڑ رہا ہوں میں اپنے اصولوں کا گراں بار اٹھائے ہر وقت ہواؤں کے مخالف ہی چلا ہوں بے مایہ حبابو مجھے دیکھو کہ عدم سے میں سوئے ابد سیل کی صورت میں ...

مزید پڑھیے

جانب در دیکھنا اچھا نہیں

جانب در دیکھنا اچھا نہیں راہ شب بھر دیکھنا اچھا نہیں عاشقی کی سوچنا تو ٹھیک ہے عاشقی کر دیکھنا اچھا نہیں اذن جلوہ ہے جھلک بھر کے لیے آنکھ بھر کر دیکھنا اچھا نہیں اک طلسمی شہر ہے یہ زندگی پیچھے مڑ کر دیکھنا اچھا نہیں اپنے باہر دیکھ کر ہنس بول لیں اپنے اندر دیکھنا اچھا ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ اے ہم نفس افسانۂ رنج و محن میرا

نہ پوچھ اے ہم نفس افسانۂ رنج و محن میرا نہ ہے بس میں زباں میری نہ قابو میں دہن میرا شمیم زلف نے مہکا دیا دل کا ہر اک گوشہ جو بکھریں یار کی زلفیں بنا پلو ختن میرا ستا لے جتنا جی چاہے مگر اتنا سمجھ رکھنا رسا ہوگا کبھی تو نالہ اے چرخ کہن میرا نہ دامن ہی سلامت ہے نہ جیب و آستیں ...

مزید پڑھیے

ستم کے پردے میں پھر کرم کر سکون کو اضطراب کر دے

ستم کے پردے میں پھر کرم کر سکون کو اضطراب کر دے دل فسردہ کو زندگی دے شباب کو پھر شباب کر دے یہ مانا لاکھوں حکایتیں ہیں ہزاروں دل میں شکایتیں ہیں مگر کہیں کیا جو اک نظر میں کوئی ہمیں لا جواب کر دے ٹھہر دل بے قرار دم بھر وہ آئے ہیں بے حجاب ہو کر سنبھل کہ یہ اضطراب نو ہی کہیں نہ حائل ...

مزید پڑھیے

امتحاں ضبط کا پھر بزم گہہ ناز میں ہے

امتحاں ضبط کا پھر بزم گہہ ناز میں ہے جلوۂ طور نگاہ غلط انداز میں ہے اہل دل دیدۂ تر دیکھ کے پہچان گئے میں سمجھتا تھا مری بات ابھی راز میں ہے آشیانے کو نہیں برق نوازی سے پناہ ایک ہی لطف وہی سوز میں ہے ساز میں ہے میرے مٹنے کا کریں سوگ کسی کے دشمن کیوں اداسی سی کسی جلوہ گہہ ناز میں ...

مزید پڑھیے

آتش دل کو تیز تر دیکھا

آتش دل کو تیز تر دیکھا آہ کا ہم نے بھی اثر دیکھا نہ ملا ترک مدعا سے سکوں چارہ گر ہم نے یہ بھی کر دیکھا دوست دشمن سبھی تھے بالیں پر ہائے تو نے نہ اک نظر دیکھا چل بسا آخرش مریض غم حاصل سعیٔ چارہ گر دیکھا

مزید پڑھیے

فریب خوردۂ پیمان یار ہونا تھا

فریب خوردۂ پیمان یار ہونا تھا رہین کشمکش انتظار ہونا تھا لکھیں ازل سے تھیں محرومیاں مقدر میں نشانۂ ستم روزگار ہونا تھا تغافل آپ کا شیوہ سہی مگر کچھ تو خیال خاطر امیدوار ہونا تھا غضب ہوا کہ سحر سے ہی پہلے دل ڈوبا ابھی کچھ اور شب انتظار ہونا تھا

مزید پڑھیے

نہ دے فریب وفا لے نہ امتحاں اپنا

نہ دے فریب وفا لے نہ امتحاں اپنا ہے بے‌ نیاز کرم یار بد گماں اپنا پہنچ چکے تھے سر شاخ گل اسیر ہوئے لٹا ہے سامنے منزل کے کارواں اپنا ہر ایک ذرۂ عالم ہے اور سجدۂ شوق رکھیں اٹھا کے وہ اب سنگ آستاں اپنا وہی ہے عالم افسردگی وہی ہم ہیں خوشی کا جس میں گزر ہو وہ دل کہاں اپنا نگاہ یاس ...

مزید پڑھیے

اٹھ جانے پر تو جلوے تمہارے نہاں کہاں

اٹھ جانے پر تو جلوے تمہارے نہاں کہاں تار نظر ہے پردہ کوئی درمیاں کہاں کل کائنات کیا ہے بجز یاس و آرزو دل سے زیادہ وسعت کون و مکاں کہاں اٹھے ہیں اب نگاہ سے پردے فریب کے جز درد و غم خوشی کا جہاں میں نشاں کہاں کیفیؔ کرشمے اپنے ہی کیف نظر کے ہیں اس دہر بے بساط میں رنگینیاں کہاں

مزید پڑھیے
صفحہ 5770 سے 6203