قومی زبان

ادھر صبا نے خبر دی آ کر کہ آج ابر بہار آیا

ادھر صبا نے خبر دی آ کر کہ آج ابر بہار آیا ادھر گریباں سیے ہوئے میں چمن میں دیوانہ وار آیا دعا ہے اپنی یہی شب غم نہ ہو کبھی اضطراب دل کم یہ زندگی زندگی کہاں پھر جو دل کو اپنے قرار آیا گلہ ستم کا جفا کا شکوہ زباں پہ آیا تمہیں کہو کب یہ کیوں ہے پھر ہم سے سرگرانی یہ دل میں کیسے غبار ...

مزید پڑھیے

آرزو کو سلام کرتے ہیں

آرزو کو سلام کرتے ہیں دل کا قصہ تمام کرتے ہیں آ سکے گا نہ لب پہ راز عشق حسن کا احترام کرتے ہیں اس فریب خیال کے صدقے آپ مجھ سے کلام کرتے ہیں اے فلک کچھ تو چین لینے دے دو گھڑی کو مقام کرتے ہیں خاک بھی اب نہیں شہیدوں کی کیوں وہ عزم خرام کرتے ہیں سب ہی دیتے ہیں جان یوں کیفیؔ آپ کیا ...

مزید پڑھیے

نئے سرے سے پھر آج کیفیؔ ہم اپنی دنیا بسا رہے ہیں

نئے سرے سے پھر آج کیفیؔ ہم اپنی دنیا بسا رہے ہیں جو کھو چکے اس سے بے خبر ہیں جو رہ گیا وہ لٹا رہے ہیں نشاط امروز کی قسم ہے کہ دل نے سب محفلیں بھلا دیں دیے تھے ماضی نے داغ جتنے وہ خود بہ خود مٹتے جا رہے ہیں خوشا یہ دور شباب ان کا یہ دل نواز التفات ان کا کہ بے پیے آج ہر قدم پر مرے قدم ...

مزید پڑھیے

خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا

خیال پرسش فردا سے گھبرانا نہیں آتا گنہ کرتا ہوں لیکن مجھ کو پچھتانا نہیں آتا یقین دعویٔ الفت نہیں مانا نہیں آتا مگر یہ بھی تو ہے جھوٹوں کو جھٹلانا نہیں آتا طبیعت ہے غیور ایسی کہ تشنہ کام رہتا ہوں لگی لپٹی کسی کی سن کے پی جانا نہیں آتا مری ناکامیاں دل کا چمن شاداب رکھتی ہیں یہ ...

مزید پڑھیے

ہر گھڑی اک نئی مصیبت ہے

ہر گھڑی اک نئی مصیبت ہے ان کا آنا بھی کیا قیامت ہے دل ہے ناکامیوں کی لذت ہے نہ تمنا ہے اب نہ حسرت ہے گاہے راحت گہے مصیبت ہے ہائے کیا چیز یہ محبت ہے عرض مطلب کی ان سے جرأت ہے دل ناداں یہ کیا قیامت ہے غیر پر بھی وہی ہے رنگ ستم ہاں مجھے آپ سے شکایت ہے باز آؤ بھی عشق سے کیفیؔ عافیت ...

مزید پڑھیے

نقش ہے ہر ظلم جس کا وادئ کشمیر پر

نقش ہے ہر ظلم جس کا وادئ کشمیر پر اس نے دہشت گرد لکھا امن کی تصویر پر کاہلی کی لگ گئی دیمک ہر اک تدبیر پر اکتفا کرکے وہ شاید رہ گیا تقدیر پر تیز رکھنا دھار اپنے حوصلے کی ہر گھڑی منحصر ہے زندگی کی جنگ اس شمشیر پر رکھ توازن کچھ تو واعظ تو بھی قول و فعل میں لوگ گرویدہ نہیں ہوتے فقط ...

مزید پڑھیے

نظر پڑ جائے پتھر پر تو ہو برق و شرر پیدا

نظر پڑ جائے پتھر پر تو ہو برق و شرر پیدا مگر ہوتا ہے مشکل سے بشر میں یہ ہنر پیدا نہیں بنتا ہے تو کردار انسانی نہیں بنتا وگرنہ یوں تو کر لیتے ہیں سب ہی مال و زر پیدا بدل دے جو زمانے کے نظام پست و باطل کو تو صدیوں بعد ہوتا ہے کوئی ایسا بشر پیدا زمیں پر کام ہیں لاکھوں فلک پر ڈھونڈتے ...

مزید پڑھیے

میں پستی اخلاق بشر دیکھ رہا ہوں

میں پستی اخلاق بشر دیکھ رہا ہوں پھر نظم جہاں زیر و زبر دیکھ رہا ہوں مظلوم کی آہوں کا گزر دیکھ رہا ہوں گو دور بہت باب اثر دیکھ رہا ہوں مقصد یہ شہیدان وطن کا نہ تھا ہرگز جو آج شہادت کا ثمر دیکھ رہا ہوں یوں تو ہے ہر اک جنس گراں ہند میں لیکن ارزاں ہے فقط خون بشر دیکھ رہا ہوں غنچوں ...

مزید پڑھیے

ظلم یاد آئے کبھی ان کے ستم یاد آئے

ظلم یاد آئے کبھی ان کے ستم یاد آئے یہ بجا ہے کہ بہ انداز کرم یاد آئے پھیر لیں اپنوں نے غیروں کی طرح جب آنکھیں کس قدر اس گھڑی غیروں کے کرم یاد آئے نہ ملا جب کسی صورت رہ ہستی کا سراغ کاروانوں کو مرے نقش قدم یاد آئے عیش کے دن رہے غیروں کے لئے سب مخصوص وقت جب سخت پڑا کوئی تو ہم یاد ...

مزید پڑھیے

نثار دل بھی کیا اور ہر خوشی دے دی

نثار دل بھی کیا اور ہر خوشی دے دی لو آج ہم نے تمہیں اپنی زندگی دے دی یہ کیا کیا کہ نظر سے نظر ملی بھی نہ تھی قرار لوٹ لیا دل کو بے کلی دے دی ہمارے حسن تخیل کا احترام کرو تمہارے عزم کے پھولوں کو تازگی دے دی جلا کے دل کے نشیمن کو اپنے ہاتھوں سے تمہارے شوق کے جذبوں کو روشنی دے دی یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5771 سے 6203