قومی زبان

آپ نے جب کہا کہ خوش ہوں میں

آپ نے جب کہا کہ خوش ہوں میں مجھ کو ایسا لگا کہ خوش ہوں میں آئنہ دیکھتا ہوں حیرت سے خوش ہے یہ آئنہ کہ خوش ہوں میں لاکھ سمجھا رہا ہوں میں دل کو دل نہیں مانتا کہ خوش ہوں میں جانے کیا کہہ رہا تھا وہ مجھ سے میں نے بھی کہہ دیا کہ خوش ہوں میں دل تو یہ چاہتا تھا وہ بھی کہے میں ہی کہتا رہا ...

مزید پڑھیے

وہاں پہنچا دیا ہے عشق نے اب مرحلہ دل کا

وہاں پہنچا دیا ہے عشق نے اب مرحلہ دل کا جہاں سب فرق مٹ جاتا ہے بسمل اور قاتل کا جدائی کا وفا کا جور کا الفت کی مشکل کا رہا ہے سامنا ہر سنگ سے آئینۂ دل کا چلو اچھا ہوا تم آ گئے دم توڑتا تھا میں یہی دشوار تھی ساعت یہی تھا وقت مشکل کا پلٹ آتا ہوں میں مایوس ہو کر ان مقاموں سے جہاں سے ...

مزید پڑھیے

ایک آنکھ کا وائسرائے

مولانا عبدالمجید سالکؔ ہشاش و بشاش رہنے کے عادی تھے اور جب تک دفتر میں رہتے ،دفتر قہقہہ زار رہتا ۔ ان کی تحریروں میں بھی ان کی طبیعت کی طرح شگفتگی ہوتی تھی ۔ جب لارڈ ویول ہندوستان کے وائسرائے مقرر ہوئے تو سالکؔ نے انوکھے ڈھنگ سے بتایا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہیں ۔ چنانچہ مولانا ...

مزید پڑھیے

دل جلے کا تبصرہ

عبدالمجید سالک کو ایک بار کسی دل جلے نے لکھا: ’’آپ اپنے روزنامہ میں گمراہ کن خبریں چھاپتے ہیں اور عام لوگوں کو بے وقوف بناکر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں ۔‘‘ سالک صاحب نے نہایت حلیمی سے اسے جواب دیتے ہوئے لکھا: ’’ہم توجو کچھ لکھتے ہیں ملک و قوم کی بہبودی کے جذبہ کے زیر اثر لکھتے ...

مزید پڑھیے

اشک ڈھلتے نہیں دیکھے جاتے

اشک ڈھلتے نہیں دیکھے جاتے دل پگھلتے نہیں دیکھے جاتے پھول دشمن کے ہوں یا اپنے ہوں پھول جلتے نہیں دیکھے جاتے تتلیاں ہاتھ بھی لگ جائیں تو پر مسلتے نہیں دیکھے جاتے جبر کی دھوپ سے تپتی سڑکیں لوگ چلتے نہیں دیکھے جاتے خواب دشمن ہیں زمانے والے خواب پلتے نہیں دیکھے جاتے دیکھ سکتے ...

مزید پڑھیے

اک سیل بے پناہ کی صورت رواں ہے وقت

اک سیل بے پناہ کی صورت رواں ہے وقت تنکے سمجھ رہے ہیں کہ وہم و گماں ہے وقت پرکھو تو جیسے تیغ دو دم ہے کھنچی ہوئی ٹالو تو ایک اڑتا ہوا سا دھواں ہے وقت جو دل ہدف ہوا ہو وہ شاید بتا سکے ناوک بھی آپ آپ ہی چڑھتی کماں ہے وقت ہم اس کے ساتھ ہیں کہ وہ ہے اپنے ساتھ ساتھ کس کو خبر کہ ہم ہیں ...

مزید پڑھیے

لگے ہے آسماں جیسا نہیں ہے

لگے ہے آسماں جیسا نہیں ہے نظر آتا ہے جو ہوتا نہیں ہے تم اپنے عکس میں کیا دیکھتے ہو تمہارا عکس بھی تم سا نہیں ہے ملے جب تم تو یہ احساس جاگا اب آگے کا سفر تنہا نہیں ہے بہت سوچا ہے ہم نے زندگی پر مگر لگتا ہے کچھ سوچا نہیں ہے یہی جانا ہے ہم نے کچھ نہ جانا یہی سمجھا ہے کچھ سمجھا نہیں ...

مزید پڑھیے

چاندنی رات میں ہر درد سنور جاتا ہے

چاندنی رات میں ہر درد سنور جاتا ہے جانے کیا کیا سر احساس بکھر جاتا ہے دیکھتے ہم بھی ہیں کچھ خواب مگر ہائے رے دل ہر نئے خواب کی تعبیر سے ڈر جاتا ہے موت کا وقت معین ہے تو پھر بات ہے کیا کون ہے مجھ میں جو ہر سانس پہ مر جاتا ہے دل میں گڑ جاتی ہے جب ساعت ماضی کی صلیب وقت رک جاتا ہے ...

مزید پڑھیے

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا مانگے کا نور بھی تو بڑا کام کر گیا یہ بھی بہت ہے سینکڑوں پودے ہرے ہوئے کیا غم جو بارشوں میں کوئی پھول مر گیا ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے دریا میں ہم جو اترے تو دریا اتر گیا سایہ بھی آپ کا ہے فقط روشنی کے ساتھ ڈھونڈوگے تیرگی میں کہ سایہ ...

مزید پڑھیے

یاد یوں ہوش گنوا بیٹھی ہے

یاد یوں ہوش گنوا بیٹھی ہے جسم سے جان جدا بیٹھی ہے راہ تکنا ہے عبث سو جاؤ دھوپ دیوار پہ آ بیٹھی ہے آشیانے کا خدا ہی حافظ گھات میں تیز ہوا بیٹھی ہے دست گلچیں سے مروت کیسی شاخ پھولوں کو گنوا بیٹھی ہے کیسے آئے کسی گلشن میں بہار دشت میں آبلہ پا بیٹھی ہے شہر آسیب زدہ لگتا ہے کوچے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5768 سے 6203