قومی زبان

میں اپنے آپ کو پہچان ہی نہیں پایا

میں اپنے آپ کو پہچان ہی نہیں پایا اسی لئے میں تجھے جان ہی نہیں پایا یہ دیکھ کر وہ پریشاں ہے تیری محفل میں کسی کو اس نے پریشان ہی نہیں پایا ابھی سے تجھ کو پڑی ہے وصال کی مری جاں ابھی تو ہجر نے عنوان ہی نہیں پایا وہ ایک لمحہ مری زندگی پہ طاری ہے جو ایک لمحہ ابھی آن ہی نہیں ...

مزید پڑھیے

راستہ یہ بتا رہا ہے مجھے

راستہ یہ بتا رہا ہے مجھے وے بہت ڈھونڈھتا رہا ہے مجھے پاس رہ کر نہ پاس آیا تو دور سے کیا بلا رہا ہے مجھے جھانک کر دیکھ اپنی آنکھوں میں چھپ کے تو دیکھتا رہا ہے مجھے بھول بیٹھا ہوں اس کی سب باتیں وے مگر یاد آ رہا ہے مجھے کیا بتاؤں چھپا ہے مجھ میں کون کون مجھ میں چھپا رہا ہے ...

مزید پڑھیے

کفن کی جیب بھی خالی نہیں ہے

کفن کی جیب بھی خالی نہیں ہے یہ بد حالی ہے خوشحالی نہیں ہے تو کیا یہ پھول خود ہی کھل گیا تھا جو کہتا ہے کوئی مالی نہیں ہے انہیں مت دیکھ خوش رہنے دے ان کو تری خاطر یہ دیوالی نہیں ہے تری تصویر جھوٹی ہے مصور مرے شہروں میں ہریالی نہیں ہے وہ گھر گرنے لگا ہے جس کی ہم نے ابھی بنیاد بھی ...

مزید پڑھیے

زمانے کو زمانے کی پڑی ہے

زمانے کو زمانے کی پڑی ہے ہمیں وعدہ نبھانے کی پڑی ہے یہ دنیا چاند پر پہنچی ہوئی ہے تجھے لاہور جانے کی پڑی ہے ذرا دیکھو ادھر میں جل رہا ہوں تمہیں آنسو چھپانے کی پڑی ہے فسانہ ہی حقیقت بن گیا ہے حقیقت کو فسانے کی پڑی ہے ابھی جو شعر لکھا بھی نہیں ہے ابھی سے وہ سنانے کی پڑی ہے ترے ...

مزید پڑھیے

دل دینا مشکل ہوتا ہے

دل دینا مشکل ہوتا ہے دل کا بھی اک دل ہوتا ہے ہم ہوتے ہیں جب محفل میں تو جان محفل ہوتا ہے موج میں آ کر صحرا بولا مجھ میں بھی ساحل ہوتا ہے جس رستے میں تم مل جاؤ وہ رستہ منزل ہوتا ہے دیکھ مجھے سب دیکھ رہے ہیں تو ہی کیوں غافل ہوتا ہے کوئی نظر ہو یا خنجر ہو قاتل تو قاتل ہوتا ...

مزید پڑھیے

اب وہ پہلی سی شدت کہاں ہے

اب وہ پہلی سی شدت کہاں ہے ہجر میں وے تمازت کہاں ہے ہم تو ٹھہرے سدا کے گداگر تو بتا تیری دولت کہاں ہے دیکھ کر چاند جلتا تھا جس کو آج وہ خوب صورت کہاں ہے سانس خود ہی چلی آ رہی ہے سانس لینے کی فرصت کہاں ہے آئنہ میں نے دیکھا تو دیکھا سارے عالم کی حیرت کہاں ہے اب تو بس ایک دل ہی بچا ...

مزید پڑھیے

وقت ساکن ہے میں گزر رہا ہوں

وقت ساکن ہے میں گزر رہا ہوں میں تو اس آگہی سے مر رہا ہوں بول کر جو مجھے دبا رہا ہے اس کی آواز سے ابھر رہا ہوں آئنہ مجھ کو دیکھ کر چپ ہے جانے میں کس سے بات کر رہا ہوں میں یہ سمجھا تھا وہ ٹھہر رہا ہے وے یہ سمجھا تھا میں ٹھہر رہا ہوں اک پرندہ بنایا کاغذ پر اور اب اس کے پر کتر رہا ...

مزید پڑھیے

تو اگر میرا تذکرہ کرے گا

تو اگر میرا تذکرہ کرے گا جھوٹ بولے گا اور کیا کرے گا خود کو تو جانتا نہیں شاید تو سمجھتا ہے سب خدا کرے گا زخم کھا کر بھی جو دعائیں دے کون اس کا مقابلہ کرے گا کیا اسے یاد بھی نہ آؤں گا کیا مجھے یاد وہ کیا کرے گا پھر کہاں مل سکے گا وہ مجھ سے جو مجھے آپ سے جدا کرے گا اپنی جھوٹی انا ...

مزید پڑھیے

سب مجھے عارضی سا لگتا ہے

سب مجھے عارضی سا لگتا ہے تو مگر زندگی سا لگتا ہے آئنہ ہے مگر نہ جانے کیوں آدمی آدمی سا لگتا ہے خود کو کتنا بھلا دیا میں نے تو بھی اب اجنبی سا لگتا ہے عشق میں زندگی بسر کرنا عقل کو خودکشی سا لگتا ہے جو ترے ہجر میں ملا مومنؔ بس وہی غم خوشی سا لگتا ہے

مزید پڑھیے

یقین کون کرے گا گماں پہ آیا ہوں

یقین کون کرے گا گماں پہ آیا ہوں میں اپنے آپ سے چھپ کر یہاں پہ آیا ہوں مجھے بھی عقل پریشان کرتی رہتی ہے نہیں نہیں سے گزر کر میں ہاں پہ آیا ہوں مجھے وہ دیکھ کے حیران کیوں نہیں ہوگا زمین اوڑھ کے میں آسماں پہ آیا ہوں یہ بات تو ہی بتا کس طرح بتاؤں تجھے میں دل کے راستے تیری زباں پہ آیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5767 سے 6203