قومی زبان

غیر‌ متوقع ملاقات

برسوں بعد جب اس کو دیکھا پھول سا چہرہ بدل چکا تھا پیشانی پر فکر کی آیت آنکھیں اب سنجیدہ تھیں ہونٹ کنول اب بھی ویسے پر شادابی کچھ کم کم تھی پکے پھلوں کا بوجھ اٹھائے جسم تنا بل کھاتا تھا رنگیں پیراہن میں اب بھی خواب کی صورت لگتی تھی جانے کیسی کیسی حکایت دیکھ اسے یاد آتی تھی پہلی ...

مزید پڑھیے

کون ہے مجرم شہر علم کی تاراجی کا

یہ جو بونے خدا بنے ہیں عجیب شے سے جو لگ رہے ہیں ہیں در حقیقت یہ آدمی ہی بس ان کی خصلت جدا ہے تھوڑی انا جو ان کی کچل چکی ہے ضمیر ان کا جو مر گیا ہے یہ سچ ہے ذہنی غلام ہیں اب خباثتوں کے امام ہیں یہ ہمیشہ جھک کر ملے دنی سے ثنا میں رطب اللسان ہو کر گنہ کو ان کے ثواب جانا فریب کو لا جواب کہہ ...

مزید پڑھیے

مجھے شرمندہ رکھتے ہیں

یہ ہر شب سوچ کر سوتا ہوں آنے والی صبحوں میں گلوں سے پتیوں سے اوس کی بوندیں چرانی ہیں شہہ آکاش کی نظریں نما کرنوں سے پہلے جاگ جانا ہے صبائے عنبریں کے لمس کو محسوس کرنا ہے لباس سبز میں ملبوس الھڑ پتیوں کی باتیں سننی ہیں حسیں دوشیزہ کی مسکان سی کلیوں سے دو اک بات کر لوں گا مگر کچھ کر ...

مزید پڑھیے

جنگل ہم اور کالے بادل

آیا اک ہوا کا جھونکا یادیں بہت سی لے آیا رات کے سناٹے کی خوشبو اجلی صبح کی چہکاریں سبز ملائم پتوں والے بھیگے تنوں کا تازہ لمس اونچے گھنے جنگل کے اندر سانپ سے بل کھاتے رستوں پر ہونٹوں پہ آنکھوں میں سجائے جھجک خلش کی تتلی کو میرا اس کا تنہا سایہ وہ لمحہ بھی یاد آیا جب ہم جیسے ہی ...

مزید پڑھیے

رب بھی تیرے جیسا ہے ماں

شیریں نرمل جھرنے جیسی ٹھنڈی تازہ ہوا کے ایسی رم جھم اور برکھا کی طرح تو سورج اور چندا سی سخی ہے جلتی دھوپ میں بادل ہے تو رب کے پیار کی چھاگل ہے تو ہاں ماں بالکل ایسی ہے تو تو سیتا تو مریم ہے ماں رابعہ اور صفیہ ہے تو ہے یشودھا تو ہے حلیمہ زینب تو ہے فاطمہؓ ہے تو پاروتی اور دیوکی ...

مزید پڑھیے

عالموں کو بن باس دینے والے

سورج سے سائے کی توقع بادل سے سنہری دھوپ کی کانٹوں سے مہکتے پھول کی خوشبو صحرا سے ہریالی کی کیسے بھولے آپ ہیں صاحب کیسی توقع رکھتے ہیں کیچڑ میں جب آپ چلیں گے پاؤں تو گندے ہوں گے ہی جھوٹوں کی صحبت میں رہ کر سچ کیسے کہہ پائیں گے مرے ہوئے انساں کے لحم سے کیوں رغبت رکھتے ہیں آپ اب بھی ...

مزید پڑھیے

لئے پھرتا ہے خوں آلود کب تک پیرہن آخر

لئے پھرتا ہے خوں آلود کب تک پیرہن آخر ملے گا بعد مرنے کے سفیدہ اک کفن آخر نہ آئے مجھ سے کیوں کر خوشبو مشک ہرن آخر چھوا تھا صندلی ہاتھوں سے اس نے یہ بدن آخر مچا اک رن ہے دنیا میں نہتھا شخص ہوں میں یاں جیوں کیسے رہوں کب تک یہاں میں خیمہ زن آخر اڑا ہے فاختہ جب سے ڈیوڑھی سے مرے گھر ...

مزید پڑھیے

ترے کانوں میں گونجی کیا مری آواز جان من

ترے کانوں میں گونجی کیا مری آواز جان من میں روتا ہوں طبیعت ہے بہت ناساز جان من بلا کے دکھ اٹھاتے ہیں ترے اک کن کے مارے ہم یہ کن ہے سارے دکھ کا نقطۂ آغاز جان من تری زلفوں کی خوشبو سے ہوا بھی رقص کرتی ہے تجھی سے ہے ہوا کو قوت پرواز جان من نہ مجھ کو رونے دیتا ہے نہ مجھ کو مرنے دیتا ...

مزید پڑھیے

اداسی اک اسیری ہے اداسی سے گھرا ہوں میں

اداسی اک اسیری ہے اداسی سے گھرا ہوں میں اداسی ہی اداسی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں اداسی اور اداسی اور اداسی اور اداسی بس اداسی مجھ پہ حاوی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں یقیں تیرا تھا بس مجھ کو خدارا کیوں کروں میں اب تری ہستی خیالی ہے اداسی سے گھرا ہوں میں بھٹکتا در بہ در رہتا ہوں میں ...

مزید پڑھیے

اداسی یہ سب حسرتیں مار دے گی

اداسی یہ سب حسرتیں مار دے گی امیدوں بھری ساعتیں مار دے گی تمہاری توجہ کے ہم منتظر ہے تمہاری توجہ ہمیں مار دے گی ہماری یہ قسمت ہے بد ذات کتنی یہ نازل ہوئی رحمتیں مار دے گی ہمارا ہی کاغذ ہماری عدالت ہماری ہی صحبت ہمیں مار دے گی ہماری حیا ایک صیاد جاناں ہماری حیا ہی تمہیں مار دے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5718 سے 6203