قومی زبان

کام ہر زخم نے مرہم کا کیا ہو جیسے

کام ہر زخم نے مرہم کا کیا ہو جیسے اب کسی سے کوئی شکوہ نہ گلا ہو جیسے عمر بھر عشق کو غم دیدہ نہ رکھے کیوں کر حادثہ وہ کہ ابھی کل ہی ہوا ہو جیسے ایک مدت ہوئی دیکھا تھا جسے پہلے پہل تیرے چہرے میں وہی چہرہ چھپا ہو جیسے حسن کے بھید کا پا لینا نہیں ہے آساں ہے یہ وہ راز کہ رازوں میں پلا ...

مزید پڑھیے

سب کی آنکھوں میں جو سمایا تھا

سب کی آنکھوں میں جو سمایا تھا کون تھا وہ کہاں سے آیا تھا کس نے کی آج پرسش احوال کوئی اپنا تھا یا پرایا تھا مٹ گئے ہم تو یہ ہوا معلوم بھول کر کوئی مسکرایا تھا ایک لذت تھی خود فریبی میں ورنہ کس نے فریب کھایا تھا آ گئیں یاد پھر وہی باتیں کل بہ مشکل جنہیں بھلایا تھا سب تھے آسیب ...

مزید پڑھیے

کالی غزل سنو نہ سہانی غزل سنو

کالی غزل سنو نہ سہانی غزل سنو موسم یہ کہہ رہا ہے کہ دھانی غزل سنو جاگا وہ درد دل میں کہ آنسو نکل پڑے برسا ہے آج ٹوٹ کے پانی غزل سنو افسانۂ جنوں نہیں پابند ماہ و سال یاد آ رہا ہے دور جوانی غزل سنو اپنی تمام عقل پرستی کے باوجود یہ زندگی ہے اب بھی دوانی غزل سنو یوں تو سخن کے اور ...

مزید پڑھیے

جب یہ دعوے تھے کہ ہر دکھ کا مداوا ہو گئے

جب یہ دعوے تھے کہ ہر دکھ کا مداوا ہو گئے کس لیے تم باعث خون تمنا ہو گئے شوق کا انجام نکلا حسرت آغاز شوق راز بن جانے سے پہلے راز افشا ہو گئے اک نگاہ آشنا کا آسرا جاتا رہا آج ہم تنہائیوں میں اور تنہا ہو گئے تیرا ملنا اور بچھڑنا کیا کہیں کس سے کہیں ایک جان ناتواں پر ظلم کیا کیا ہو ...

مزید پڑھیے

ضمیر‌ نوع انسانی کے دن ہیں

ضمیر‌ نوع انسانی کے دن ہیں صداقت کی جہاں بانی کے دن ہیں طلسم‌ صبح کاذب خود ہی ٹوٹا طلوع‌ صبح نورانی کے دن ہیں جمود فکر توڑا پھر بشر نے عروج‌ ذہن انسانی کے دن ہیں حکومت وقف‌ استبداد کیوں ہو اسی نکتے کی ارزانی کے دن ہیں ہوئے بے دست و پا ظالم پرانے ستم کی خانہ ویرانی کے دن ...

مزید پڑھیے

اب تک علاج رنجش بے جا نہ کر سکے

اب تک علاج رنجش بے جا نہ کر سکے اک عمر میں بھی حسن کو اپنا نہ کر سکے تھی ایک رسم عشق سو ہم نے بھی کی ادا دنیا میں کوئی کام انوکھا نہ کر سکے کل رات دل کے ساتھ بجھے اس طرح چراغ یادوں کے سلسلے بھی اجالا نہ کر سکے اب اس سے کیا غرض ہے کہ انجام کیا ہوا یہ تو نہیں کہ تیری تمنا نہ کر ...

مزید پڑھیے

کھو کے دیکھا تھا پا کے دیکھ لیا

کھو کے دیکھا تھا پا کے دیکھ لیا ہر طرح دل دکھا کے دیکھ لیا پھر کھلے ابتدائے عشق کے باب اس نے پھر مسکرا کے دیکھ لیا یاد کچھ بھی رہا نہ اس کے سوا ہم نے اس کو بھلا کے دیکھ لیا زندگی نے خوشی کے دھوکے میں ربط غم سے بڑھا کے دیکھ لیا ایسے بچھڑے کہ پھر ملے نہ کبھی خوب دامن چھڑا کے دیکھ ...

مزید پڑھیے

چاند کا رقص ستاروں کا فسوں مانگتی ہے

چاند کا رقص ستاروں کا فسوں مانگتی ہے زندگی پھر کوئی انداز جنوں مانگتی ہے مدتیں گزریں کہ یخ بستہ ہوئے قلب و جگر غیرت عشق مگر سوز دروں مانگتی ہے فیض موسم تھا پرندے ہوئے آزاد مگر خوئے صیاد وہی صید زبوں مانگتی ہے فصل گل کے لیے کیا جان پہ کھیلے کوئی اب تو ہر موج ہوا تحفۂ خوں ...

مزید پڑھیے

گویا چمن چمن نہ تھا

گویا چمن چمن نہ تھا ایسا اجاڑ بن نہ تھا خوں سے تر روش روش رنگ گل و سمن نہ تھا خار الم سے تار تار کون سا پیرہن نہ تھا سکۂ‌ دل خراب حال اس کا کہیں چلن نہ تھا آج اگر گزر گیا کل کا کوئی جتن نہ تھا بزم ادب بھی دم بخود کہنے کو کچھ سخن نہ تھا نثر تمام تر فضول شعر اثر فگن نہ تھا

مزید پڑھیے

بستیاں لٹتی ہیں خوابوں کے نگر جلتے ہیں

بستیاں لٹتی ہیں خوابوں کے نگر جلتے ہیں ہم وہاں ہیں کہ جہاں شام و سحر جلتے ہیں دل کے ایوان میں افسردہ چراغوں کا دھواں دور کچھ دور وہ یادوں کے کھنڈر جلتے ہیں پھر کسی منزل جاں سوز کی جانب ہیں رواں چوب صحرا کی طرح اہل سفر جلتے ہیں یوں تو پر امن ہے اب شہر ستم گر لیکن کچھ مکاں خود ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5711 سے 6203