کام ہر زخم نے مرہم کا کیا ہو جیسے
کام ہر زخم نے مرہم کا کیا ہو جیسے اب کسی سے کوئی شکوہ نہ گلا ہو جیسے عمر بھر عشق کو غم دیدہ نہ رکھے کیوں کر حادثہ وہ کہ ابھی کل ہی ہوا ہو جیسے ایک مدت ہوئی دیکھا تھا جسے پہلے پہل تیرے چہرے میں وہی چہرہ چھپا ہو جیسے حسن کے بھید کا پا لینا نہیں ہے آساں ہے یہ وہ راز کہ رازوں میں پلا ...