یہ زمینی بھی ہے زمانی بھی
یہ زمینی بھی ہے زمانی بھی فطرت عشق آسمانی بھی شرط ہے جاں سے جائیے پہلے ہے عجب عمر جاودانی بھی تم نے جو داستاں سنائی ہے ہے وہی تو مری کہانی بھی کتنے دلچسپ لگنے لگتے ہیں میرے قصے تری زبانی بھی ہیں ضروری بہت ہمارے لیے یہ فضا آگ اور پانی بھی ہو گئی ختم اک کرن کے ساتھ رات بھی نیند ...