قومی زبان

یہ زمینی بھی ہے زمانی بھی

یہ زمینی بھی ہے زمانی بھی فطرت عشق آسمانی بھی شرط ہے جاں سے جائیے پہلے ہے عجب عمر جاودانی بھی تم نے جو داستاں سنائی ہے ہے وہی تو مری کہانی بھی کتنے دلچسپ لگنے لگتے ہیں میرے قصے تری زبانی بھی ہیں ضروری بہت ہمارے لیے یہ فضا آگ اور پانی بھی ہو گئی ختم اک کرن کے ساتھ رات بھی نیند ...

مزید پڑھیے

رہ حیات میں جو لوگ جاوداں نکلے

رہ حیات میں جو لوگ جاوداں نکلے وہی وفا و محبت کے ترجماں نکلے عجیب سحر کا عالم تھا اس کی محفل میں زباں پہ ناز تھا جن کو وہ بے زباں نکلے وہاں وہاں پہ وفاداریوں کا زور بڑھا تمہارے چاہنے والے جہاں جہاں نکلے سفر کی حسرتیں نکلیں بہت مری یا رب مگر جو دل میں تھے ارمان وہ کہاں ...

مزید پڑھیے

جس طرح چاہیے کب کار وفا ہوتا ہے

جس طرح چاہیے کب کار وفا ہوتا ہے حق محبت کا کہاں ہم سے ادا ہوتا ہے ہم بہت چاہتے ہیں امن و محبت ہر سو وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے مشکلوں میں بھی بزرگوں کا وظیفہ یہ تھا اچھے کاموں کا تو اچھا ہی صلا ہوتا ہے فطرتاً ساز میں آواز کہاں ہوتی ہے اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ...

مزید پڑھیے

آج چلی ہے ہوا

آج چلی ہے ہوا مدتوں کے بعد حیات سے تعلق تھا جس کا ہر وہ شے ترس گئی کہ گوش کو تنفس کی سرگم نصیب ہو سنائی دے سرسراتی سی ایک آواز کوئی سرگوشی کوئی دستک بن کر آتی جاتی جو میرے قریب ہو دست ماضی سے جوڑ اپنے بازو یاد ایام کے آغوش میں گم گشتہ دیدۂ تر چل پڑا ہے ایک تلاش میں یا تو آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

کل آج اور کل

اپنے مستقبل و ماضی کی فقط سوچ سے تو ارے نادان کسی طرح پریشان نہ ہو حال ہی تیرا وجود اور تیری پونجی ہے خرچ کر اس کو کھلے ہاتھ پشیمان نہ ہو مانا سننے میں سنانے میں بھلی لگتی ہیں یا کتابوں میں پڑھی جاتی ہیں ایسی باتیں پر حقیقت میں پرے ہوتی ہیں سچائی سے صرف اک فلسفہ ہی رہتی ہیں ایسی ...

مزید پڑھیے

کاش وقت تھم جاتا

کتاب حیات کا یہ پنا اچھا ہوتا جو برقرار رہتا وقت کی تیز رفتار پر کاش میرا بھی اختیار رہتا ایک دل کش سفینہ بن کر گزرے وقت کا لمحہ لمحہ آنکھوں کی گہری جھیل میں کھائے ہچکولے رفتہ رفتہ یہ سفینہ ساحل پا بھی لیتا گر ہاتھ میں پتوار رہتا یوں تو ایک لمبے عرصے تک ساتھ رہے ہم ایک جگہ لیکن ...

مزید پڑھیے

شاعری

کوئی تعارف ہوا نہیں نہیں کوئی آشنائی بھی ہوتی ہے تبھی حیرت شاعروں پہ تصورات کی پرچھائیوں کو ایک وجود دے پاتے ہیں کیسے اور تخیل کے پرندوں کو کورے صفحہ پر قید کر پاتے ہیں کیسے وہ حرف جو صرف حرف ہی تھے جڑ کر کس ڈور سے پر اثر اشعار بن گئے چند بکھرے ہوئے بے مطلب لفظ سمٹ کر اک دائرے ...

مزید پڑھیے

رخت سفر یوں ہی تو نہ بے کار لے چلو

رخت سفر یوں ہی تو نہ بے کار لے چلو رستہ ہے دھوپ کا کوئی دیوار لے چلو طاقت نہیں زباں میں تو لکھ ہی لو دل کی بات کوئی تو ساتھ صورت اظہار لے چلو دیکھوں تو وہ بدل کے بھلا کیسا ہو گیا مجھ کو بھی اس کے سامنے اس بار لے چلو کب تک ندی کی تہہ میں اتاروگے کشتیاں اب کے تو ہاتھ میں کوئی پتوار لے ...

مزید پڑھیے

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گی اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے ...

مزید پڑھیے

تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے

تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے تیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے تو بھی کچھ اور اور ہے ہم بھی کچھ اور اور ہیں جانے وہ تو کدھر گیا جانے وہ ہم کدھر گئے راہوں میں ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5707 سے 6203