قومی زبان

محبت کی سزا پائی بہت ہے

محبت کی سزا پائی بہت ہے ہمارے غم میں گیرائی بہت ہے کھڑا میلے میں اکثر سوچتا ہوں مرے اندر تو تنہائی بہت ہے نہیں ہے اور کوئی صرف میں ہوں فلک سے یہ صدا آئی بہت ہے کما لیں شہرتیں سستی سی ہم بھی مگر اس میں تو رسوائی بہت ہے تصور شرط سب کچھ سامنے ہے نظر والوں کو بینائی بہت ہے عدیلؔ ...

مزید پڑھیے

بس لمحے بھر میں فیصلہ کرنا پڑا مجھے

بس لمحے بھر میں فیصلہ کرنا پڑا مجھے سب چھوڑ چھاڑ گھر سے نکلنا پڑا مجھے جب اپنی سر زمین نے مجھ کو نہ دی پناہ انجان وادیوں میں اترنا پڑا مجھے پاؤں میں آبلے تھے تھکن عمر بھر کی تھی رکنا تھا بیٹھنا تھا پہ چلنا پڑا مجھے اپنی پرکھ کے واسطے طوفاں کے درمیاں مضبوط کشتیوں سے اترنا پڑا ...

مزید پڑھیے

قرض جاں سے نمٹ رہی ہے حیات

قرض جاں سے نمٹ رہی ہے حیات اس کی جانب پلٹ رہی ہے حیات رفتہ رفتہ گھٹا چھٹے جیسے بس اسی طرح چھٹ رہی ہے حیات چہرہ پہچان تک نہیں پاتی گرد میں اتنی اٹ رہی ہے حیات جیسے سورج غروب ہوتا ہے پھیل کر یوں سمٹ رہی ہے حیات کتنے منظر ہیں ایک منظر میں کتنے حصوں میں بٹ رہی ہے حیات کوئی اس کو ...

مزید پڑھیے

یہ حال ماہ و سال ہے فراق سے وصال تک

یہ حال ماہ و سال ہے فراق سے وصال تک حیات کو زوال ہے فراق سے وصال تک الجھ رہے ہیں مستقل تلاش سادگی میں ہم یہ زندگی تو جال ہے فراق سے وصال تک وہ کس طرح کروں بیاں جو ہو خوشی کی داستاں ملال ہی ملال ہے فراق سے وصال تک گماں کو کس طرح لکھوں حقیقتوں کا ترجماں خیال ہی خیال ہے فراق سے وصال ...

مزید پڑھیے

نام سنتا ہوں ترا جب بھرے سنسار کے بیچ

نام سنتا ہوں ترا جب بھرے سنسار کے بیچ لفظ رک جاتے ہیں آ کر مری گفتار کے بیچ ایک ہی چہرہ کتابی نظر آتا ہے ہمیں کبھی اشعار کے باہر کبھی اشعار کے بیچ ایک دل ٹوٹا مگر کتنی نقابیں پلٹیں جیت کے پہلو نکل آئے کئی ہار کے بیچ کوئی محفل ہو نظر اس کی ہمیں پر ٹھہری کبھی اپنوں میں ستایا کبھی ...

مزید پڑھیے

ہم اپنا آپ لٹانے کہاں پہ آ گئے ہیں

ہم اپنا آپ لٹانے کہاں پہ آ گئے ہیں خود اپنی قدریں گنوانے کہاں پہ آ گئے ہیں دلوں سے دل ملے رہتے تھے غربتوں میں میاں شکم کی آگ بجھانے کہاں پہ آ گئے ہیں لکھا تھا پرکھوں نے صدیوں میں جن کو محنت سے وہ سارے شجرے جلانے کہاں پہ آ گئے ہیں جو چاہتے تھے رہے اپنی ذات تک ہر بات وہ اپنے زخم ...

مزید پڑھیے

ڈرائے گی بھلا کیا تیری گردش آسماں مجھ کو

ڈرائے گی بھلا کیا تیری گردش آسماں مجھ کو ملا رب سے دعائے فاطمہ کا سائباں مجھ کو چلی ہے چھوڑ کر تو کیوں بہار گلستاں مجھ کو خدا جانے کہاں لے جائے اب باد خزاں مجھ کو میں شکر رب کا قائل ہوں ہوا کیسی ہی چلتی ہو پتہ آسانیوں کا دے گئیں ہیں سختیاں مجھ کو جلا دوں گا حصول منزل مقصود کی ...

مزید پڑھیے

وقت مشکل ہے عطا کر دو ذرا تھوڑی سی

وقت مشکل ہے عطا کر دو ذرا تھوڑی سی بعد میں دینا جو دینی ہو سزا تھوڑی سی بس اک امید پہ چلتے رہے ہم ساتھ اس کے شاید اس شخص میں باقی ہو وفا تھوڑی سی حبس جاں قابل برداشت نہیں رب کریم کھول دے سینہ چلا اس میں ہوا تھوڑی سی یوں تو اک عمر گزاری ہے عبادت میں عدیلؔ جا کے مسجد میں بھی کر لیں ...

مزید پڑھیے

جہان علم کا باب نصاب ہوتے ہوئے

جہان علم کا باب نصاب ہوتے ہوئے بھٹک رہا ہوں میں اہل کتاب ہوتے ہوئے کچھ اور بھی ہے خرابی کی دوسری صورت میں خود کو دیکھ رہا ہوں خراب ہوتے ہوئے جو کام دل کو مرے فطرتاً نہیں بھاتے انہیں میں کر نہیں پاتا ثواب ہوتے ہوئے مرے ہی دم سے ہے جو کچھ بھی اس جہان میں ہے میں کیسے خود کو بھلا ...

مزید پڑھیے

یہ بھی قصہ تمام کر آیا

یہ بھی قصہ تمام کر آیا آج چوکھٹ پہ جان دھر آیا وہ جو اک گھر تھا میرے پرکھوں کا میرے حصے میں کب وہ گھر آیا کس تمنا سے گھر سے نکلا تھا پر مجھے راس کب سفر آیا امتحاں ختم ہی نہیں ہوتے کتنے مقتل میں پار کر آیا چاہتیں بانٹیں نفرتوں پائیں بیج کیا بویا کیا ثمر آیا دے کے آواز ہر طرف تجھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5706 سے 6203