قومی زبان

کوئی تو آ کے مرے در کو کھٹکھٹائے بھی

کوئی تو آ کے مرے در کو کھٹکھٹائے بھی اندھیری رات میں جگنو سا جگمگائے بھی گماں کے پنجرے میں کب سے کوئی پرندہ ہے کبھی تو کھولے پروں کو کہ پھڑپھڑائے بھی انا کی دھوپ میں گم صم کھڑا ہے کون یہاں میں چھاؤں ہوں مجھے دیکھے وہ مسکرائے بھی وہ میری سانس کا جیسے اٹوٹ حصہ ہے اگر ہے اس کو بھی ...

مزید پڑھیے

سکون دل فنا ہے اور میں ہوں

سکون دل فنا ہے اور میں ہوں غموں کا قافلہ ہے اور میں ہوں کہانی کہہ رہی ہے رات اپنی مقابل آئنہ ہے اور میں ہوں نصاب گردش شام و سحر ہے سر رہ حادثہ ہے اور میں ہوں کہوں کیا ہستئ نا معتبر ہوں ترا ہی آسرا ہے اور میں ہوں وہی نیرنگئ رنگ زمانہ وہی دل کی صدا ہے اور میں ہوں اگرچہ جسم رکھتا ...

مزید پڑھیے

ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا

ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا گئے یگوں کے بتوں کا زوال آئے گا ہنر کا عکس بھی ہو آئنہ بھی بن جاؤ پھر اس کے بعد ہی رنگ کمال آئے گا حریف جاں ہے اگر وہ تو پھر کہو اس سے گئی جو جان تو دل کا سوال آئے گا یقین ہے کہ ملے گا عروج ہم کو بھی یقین ہے کہ ترا بھی زوال آئے گا ابھی امید کو ...

مزید پڑھیے

بے بسی کی دھوپ ہے غمگین کیا

بے بسی کی دھوپ ہے غمگین کیا پھر رہا ہے در بدر مسکین کیا ہنس رہا ہوں بے بسی کی دھوپ میں ہو رہی ہے ذوق کی تسکین کیا آ رہی ہیں دستکوں پر دستکیں زندگی پھر ہو گئی سنگین کیا آنکھ ہنستے ہنستے کیوں رونے لگی ہر خوشی کرتی ہے بس غمگین کیا اشک عادلؔ پی رہا ہوں آج کل ہو گیا ہے ذائقہ نمکین ...

مزید پڑھیے

انجام

ہمیشہ میں نے دیکھا ہے کہ سورج شام ہوتے ہی سما جاتا ہے اپنی موت کی آغوش میں لیکن عجب ہے موت کی وادی جہاں سے لوٹ کر کوئی نہیں آتا اگر ہے زندگی سورج تو اک دن ڈھل ہی جائے گی جتن کرتے رہو گے لاکھ واپس پھر نہ آئے گی مگر سورج تو آئے گا

مزید پڑھیے

گرد

اپنی منزل کی طرف مضمحل انداز سے چلتا ہوا میں جا رہا تھا تھی خبر کچھ بھی نہیں دھوپ کے ڈھلتے ہی پرچھائیں مری ساتھ میرا چھوڑ کر آگے مرے ہو جائے گی بے نور راہوں میں اکیلا گرد کو اڑتا ہوا میں دیکھتا رہ جاؤں گا

مزید پڑھیے

سفر بے سمت

زمیں سے آسماں کے درمیاں بے سمت راہوں میں مرے شہ پر سدا پرواز کرتے ہیں کہاں پرواز پر کوئی مری قدغن لگاتا ہے اور ان آنکھوں میں منزل ہی مری کب مسکراتی ہے

مزید پڑھیے

بگولے شور کرتے ہیں

بگولے شور کرتے ہیں مری خواہش کی دنیا میں جہاں ویرانیاں ہیں اور بہت سے بانجھ پیڑوں کی قطاریں ہیں کہ جن کی بے کرانی میں بہت دن ہو گئے موسم نہیں آئے بہاروں کے نہیں تو بلبلیں چہکیں نہیں تو پھول ہی مہکے مدھر آواز کوئل کی نہیں آئی بہت دن ہو گئے کہ ہر سو گہری ویرانی کا کیسا دور دورہ ...

مزید پڑھیے

سفر پر سفر

بیابان و صحرا کو میں زیر کرتا چلا جا رہا ہوں مگر یہ یقیں ہے کہ تاریک آنکھوں سے پردہ ہٹے گا اندھیرے اجالوں میں تبدیل ہوں گے نظر مجھ کو آئے گا روشن ستارہ کہ چاہت میں جس کی ازل سے زمیں پر سفر پر سفر طے کیے جا رہا ہوں

مزید پڑھیے

گناہ

پوچھتا ہوں جب کبھی میں ان فرشتوں سے کہ لکھا کیا ہے تم نے حال میرے ان گناہوں کا جنہیں میں روز کرتا ہوں تو ظالم کچھ بتاتے ہی نہیں ہیں ہاں مگر وہ حال میرے ان گناہوں کا سناتے ہیں جنہیں بھولے سے بھی میں نے کبھی سوچا نہیں ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5694 سے 6203