کوئی تو آ کے مرے در کو کھٹکھٹائے بھی
کوئی تو آ کے مرے در کو کھٹکھٹائے بھی اندھیری رات میں جگنو سا جگمگائے بھی گماں کے پنجرے میں کب سے کوئی پرندہ ہے کبھی تو کھولے پروں کو کہ پھڑپھڑائے بھی انا کی دھوپ میں گم صم کھڑا ہے کون یہاں میں چھاؤں ہوں مجھے دیکھے وہ مسکرائے بھی وہ میری سانس کا جیسے اٹوٹ حصہ ہے اگر ہے اس کو بھی ...