اے درد نہ تھم سر اور اٹھا دل چارہ گری کی راہ نہ تک
اے درد نہ تھم سر اور اٹھا دل چارہ گری کی راہ نہ تک دیکھ اشک فشاں ہے اب تجھ پر صحراؤں میں دیوانہ تک تم لوٹ چکے ہو گر تو کہو یا باقی ہے ارمان ابھی پہلے ہی تمہیں ہم دے بیٹھے ہیں جان کا یہ نذرانہ تک صحرا میں بسے سب دیوانے شہروں میں بھی محشر ہے برپا اللہ تری اس خلقت سے باقی نہ رہا ...