قومی زبان

ہجر زاد

مرے دکھ کا عہد طویل ہے مرا نام لوح فراق پر ہے لکھا ہوا میں جنم جنم سے کسی میں عکس مشابہت کی تلاش میں پھر اپنے خواب سراب ساتھ لیے ہوئے گیا شہر شہر نگر نگر تھیں عجیب بستیاں راہ میں میری جیت میری شکست کی کسی دوسرے کی صداقتیں مری راہبر مری راہزن لیے ساتھ ساتھ قدم قدم کبھی پیش خلوت ...

مزید پڑھیے

نیلی گرد کا زمزم

میں تخیل کے تشدد کا شکار دیکھتا ہوں آسماں سے سایہ سایہ چیتھڑے گرتے ہوئے سن رہا ہوں پھڑپھڑاتی دھوپ کی پیلی صدا درد کی بوڑھی چڑیلیں آنکھ کے صحرا میں اپنی ریتلی آواز میں سب کو پکاریں آؤ آؤ میں اکیلا اپنے سناٹے میں گرد و پیش کے آشوب میں کھویا ہوا چل رہا ہوں راستے کے سنگریزے آنکھ سے ...

مزید پڑھیے

آرا کش نے

الف انا کو کاٹ دیا اپنے سائے پر اوندھا گرنے والا میں تھا لیکن کیا کرتا میرے شہر کی ساری گلیاں بند بھی تھیں متوازی بھی تختیاں ہر دروازے پر ایک ہی نام کی لٹکی تھیں میں کیا کرتا شہر کے گردا گرد سدھائے فتووں کی دیواریں تھیں کوہ شمائل دیواریں جن سے باہر صرف جنازوں کے جانے کا رستہ ...

مزید پڑھیے

دیوار چین

کہاں سے پھیلا ہوا ہے یہ سلسلہ کہاں تک گزر گیا سیل ہمتوں کا بنا کے یہ کوس کوس صدیوں کی رہ گزر سی پہاڑ چلا چڑھی کمانوں سے تیر پھینکیں تو آسماں گر پڑے زمیں پر رواں دواں وقت کے بہاؤ میں ایک لمبی دراڑ جیسے پڑی ہوئی ہے عظیم دیوار سر اٹھائے کھڑی ہوئی ہے جھکے ہوئے آسمان کے نیچے جو اس صحیفے ...

مزید پڑھیے

چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا

چلے گا نہیں مجھ پہ فقرا تمہارا ہٹا لو کہ خنجر ہے جھوٹا تمہارا منائیں تو اب جان دے کر منائیں قیامت ہے یہ روٹھ جانا تمہارا بڑے سیدھے سادے بڑے بھولے بھالے کوئی دیکھے اس وقت چہرا تمہارا بچا ہے جو ساغر میں کیوں پھینکتے ہو ہمیں دے دو ہم پی لیں جھوٹا تمہارا یہ کیا ہے سبب آج چپ چپ ہو ...

مزید پڑھیے

نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی

نہ نکلا منہ سے کچھ نکلی نہ کچھ بھی قلب مضطر کی کسی کے سامنے میں بن گیا تصویر پتھر کی خدا سے کیوں نہ مانگوں واہ میں بندوں سے کیا مانگوں مجھے مل جائے گی جو چیز ہے میرے مقدر کی تصور چاہئے اے شیخ سب کا ایک ایما ہے صدا ہے پردۂ ناقوس میں اللہ اکبر کی دل راحت طلب کو قبر میں کیا بے قراری ...

مزید پڑھیے

کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کا

کیا کر رہے ہو ظلم کرو راہ راہ کا کہتے ہیں بے جگر ہے بڑا تیر آہ کا یوں رونگٹے لرزتے ہیں پوچھیں گے روز حشر کیوں ایک دن بھی خوف نہ آیا گناہ کا حالت پہ میری ان کے بھی آنسو نکل پڑے دیکھا گیا نہ یاس میں عالم نگاہ کا کسریٰ کا طاق کعبے کے بت منہ کے بل گرے شہرہ سنا جو اشہد ان لا الہ ...

مزید پڑھیے

شاعر رنگیں فسانہ ہو گیا

شاعر رنگیں فسانہ ہو گیا شعر بلبل کا ترانہ ہو گیا اس قدر نقشے اتارے یار نے یہ جہاں تصویر خانہ ہو گیا وہ چمن کی یاد نے مضطر کیا زہر مجھ کو آب و دانہ ہو گیا آنکھ سے ٹپکی جو آنسو کی لڑی قافلہ غم کا روانہ ہو گیا جان لینے آئے تھے شاعرؔ وہی موت کا تو اک بہانہ ہو گیا

مزید پڑھیے

زندگی اور خودی

خودی کو ذات کا عرفاں نہیں تو کچھ بھی نہیں خودی حقیقت عریاں نہیں تو کچھ بھی نہیں نہ پوچھ مجھ سے وہ راحت جو اضطراب میں ہے تو مثل انجم رخشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں ہو شعلہ بار کہ دنیا ہے تودۂ خاشاک تری خودی شرر افشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں خرد ہے لذت ایماں کے ذکر سے بیزار حیات لذت ایماں ...

مزید پڑھیے

بے بسی

یہ بھٹکتی ہوئی روحیں یہ نشیب اور فراز تیری محفل میں فروزاں نہ ہوئی شمع نیاز تجھ کو تکلیف سماعت رہی میری آواز آنسوؤں سے نہ ہوئی سرد تری آتش ناز مہر و الفت کے ترانے رہے خوابیدۂ ناز عشق بیچارہ سمجھتا ہے جسے صبح چمن پیکر صبح میں اک رات ہے ویرانے کی گردش رنگ سے تزئین نظر کیا ہوتی ہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5639 سے 6203