قومی زبان

یوں سکونت کی طلب گار ہوئی جاتی ہے

یوں سکونت کی طلب گار ہوئی جاتی ہے زندگی سایۂ دیوار ہوئی جاتی ہے ہر ملاقات پہ کچھ اور بہکتی نظریں کیا تری ذات پر اسرار ہوئی جاتی ہے صبح کہتی ہے مرے ساتھ چلو آگے بڑھو مت کہو زیست گراں بار ہوئی جاتی ہے یوں سمائی ہے تری سانس مری سانسوں میں ہر نفس گرمیٔ افکار ہوئی جاتی ہے ڈگمگا کر ...

مزید پڑھیے

ہر کسی کا ہر کسی سے رابطہ ٹوٹا ہوا

ہر کسی کا ہر کسی سے رابطہ ٹوٹا ہوا آنکھ سے منظر خبر سے واقعہ ٹوٹا ہوا کیوں یہ ہم صورت رواں ہیں مختلف اطراف میں ہے کہیں سے قافلے کا سلسلہ ٹوٹا ہوا وائے مجبوری کہ اپنا مسخ چہرہ دیکھیے سامنے رکھا گیا ہے آئنا ٹوٹا ہوا خودبخود بدلے تو بدلے یہ زمیں اس کے سوا کیا بشارت دے ہمارا حوصلہ ...

مزید پڑھیے

ہاں اسی دن دھوپ میں ہریالیاں شامل ہوئیں

ہاں اسی دن دھوپ میں ہریالیاں شامل ہوئیں اس زمیں کی زردیوں میں لالیاں شامل ہوئیں باد آزادی میں ہم سب ناچنے والوں کے ساتھ پھول پہنے رقص کرتی ڈالیاں شامل ہوئیں بوئے گل سے جانئے کیوں بوئے خوں آنے لگی باغ میں جب سے تری رکھوالیاں شامل ہوئیں قہر تو اس وقت ٹوٹا تھا صف اعدا میں جب چشم ...

مزید پڑھیے

میں جب بھی چھونے لگوں تم ذرا پرے ہو جاؤ

میں جب بھی چھونے لگوں تم ذرا پرے ہو جاؤ یہ کیا کہ لمس میں آتے ہی دوسرے ہو جاؤ یہ کار عشق مگر ہم سے کیسے سرزد ہو الاؤ تیز ہے صاحب ذرا پرے ہو جاؤ تمہاری عمر بھی اس آب کے حساب میں ہے نہیں کہ اس کے برسنے سے تم ہرے ہو جاؤ یہ گوشہ گیر طبیعت بھی ایک محبس ہے ہوا کے لمس میں آؤ ہرے بھرے ہو ...

مزید پڑھیے

اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں

اک چادر بوسیدہ میں دوش پہ رکھتا ہوں اور دولت دنیا کو پاپوش پہ رکھتا ہوں آنکھوں کو ٹکاتا ہوں ہنگامۂ دنیا پر اور کان سخن ہائے خاموش پہ رکھتا ہوں کیفیت بے خبری کیا چیز ہے کیا جانوں بنیاد ہی ہونے کی جب ہوش پہ رکھتا ہوں میں کون ہوں، ازلوں کی حیرانیاں کیا بولیں اک قرض ہمیشہ کا میں ...

مزید پڑھیے

نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا

نظر کے سامنے رہنا نظر نہیں آنا ترے سوا یہ کسی کو ہنر نہیں آنا یہ انتظار مگر اختیار میں بھی نہیں پتہ تو ہے کہ اسے عمر بھر نہیں آنا یہ ہجرتیں ہیں زمین و زماں سے آگے کی جو جا چکا ہے اسے لوٹ کر نہیں آنا ذرا سی غیب کی لکنت زبان میں لاؤ بغیر اس کے سخن میں اثر نہیں آنا ہر آنے والا نیا ...

مزید پڑھیے

وہ آسماں کے درخشندہ راہیوں جیسا

وہ آسماں کے درخشندہ راہیوں جیسا اندھیری شب میں سحر کی گواہیوں جیسا کرن شعور، دل جہل میں اتارتا جا کہ وقت آن پڑا ہے تباہیوں جیسا فقر فردا! ترے نام سے ملا ہے ہمیں یہ ملک خواب، تری بادشاہیوں جیسا نیاز و عرض سخن سے کہاں فرو ہووے غرور و ناز کہ ہے کج کلاہیوں جیسا کہا تھا کس نے کہ ...

مزید پڑھیے

بات ایک جیسی ہے ہجو یا قصیدہ لکھ

بات ایک جیسی ہے ہجو یا قصیدہ لکھ بے نیازیاں اس کی ہو کے آب دیدہ لکھ جمع کر یہ آوازیں میری خود کلامی کی اور ان کے املے سے درد کا جریدہ لکھ ذہن کی ہدایت ہے کاتب زمانہ کو عقل کی دلیلوں سے آج کا عقیدہ لکھ رنگ و روشنائی کی حد اوج سے اوپر ہو سکے تو اندازاً قامت کشیدہ لکھ دیکھ ان ...

مزید پڑھیے

رزق کا جب ناداروں پر دروازہ بند ہوا

رزق کا جب ناداروں پر دروازہ بند ہوا بستی کے گوشے گوشے سے شور بلند ہوا مطلعٔ بے انوار سے پھوٹا شوخ تبسم کرنوں کا رات کے گھر میں سورج جیسا جب فرزند ہوا سادہ بے آمیزش جذبۂ پیر فقیر کرامت کا جس کے اسم سے مایوسی کا زہر بھی قند ہوا اول اول شور اٹھا سینے میں عام تمنا کا بند فصیلوں کے ...

مزید پڑھیے

ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مرا

ہزیمتیں جو فنا کر گئیں غرور مرا انہی کے دم سے منور ہوا شعور مرا میں حیرتی کسی منصور کی تلاش میں ہوں کرے جو آ کے یہ آئینہ چور چور مرا رواج ذہن سے میں اختلاف رکھتا تھا سر صلیب مجھے لے گیا فتور مرا وہ اجنبی ہے مگر اجنبی نہیں لگتا یہی کہ اس سے کوئی ربط ہے ضرور مرا میں ڈوب کر بھی کسی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5636 سے 6203