جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا
جب چاہا خود کو شاد یا ناشاد کر لیا اپنے لئے فریب سا ایجاد کر لیا کیا سوچنا کہ شوق کا انجام کیا ہوا جب اختیار پیشۂ فرہاد کر لیا خود سے چھپا کے خود کو زمانے کے خوف سے ہم نے تو اپنے آپ کو برباد کر لیا تھا عشق کا حوالہ نیا ہم نے اس لئے مضمون دل کو پھر سے طبع زاد کر لیا یوں بھی پناہ ...