قومی زبان

کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں

کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں ہمیں زندگی سے ہو بحث کیا کوئی واقعہ تو ہوا نہیں مگر ایسی کوئی خلش بھی تھی جو فقط ہمارا نصیب تھی کہ جو روگ ہم نے لگا لیا کسی اور کو تو لگا نہیں ذرا دیکھنا کہ وہ کون ہے پس رمز وحشت عاشقی بھلا کس نے ہم کو شکست دی کبھی پہلے ایسا ہوا ...

مزید پڑھیے

ادھر کی شے ادھر کر دی گئی ہے

ادھر کی شے ادھر کر دی گئی ہے زمیں زیر و زبر کر دی گئی ہے یہ کالی رات ہے دو چار پل کی یہ کہنے میں سحر کر دی گئی ہے تعارف کو ذرا پھیلا دیا ہے کہانی مختصر کر دی گئی ہے نہ پوچھو کیسے گزری عمر ساری ذرا میں عمر بھر کر دی گئی ہے عبادت میں بسر کرنی تھی لیکن خرابوں میں بسر کر دی گئی ...

مزید پڑھیے

کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے

کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے دل سلامت نہیں تو کیا رکھیے لکھیے کچھ اور داستان دل اور زمانہ کو مبتلا رکھیے سر میں سودا رہے محبت کا پاؤں میں خاک کی انا رکھیے بوند بھر آب کیا مقدر ہے ابر رکھیے تو کچھ ہوا رکھیے اس سے پہلے کوئی جلانے آئے آپ اپنا ہی گھر جلا رکھیے قبل انصاف چل بسا ...

مزید پڑھیے

صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں

صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں عجیب ہے بساط عشق عجب نظام الاماں تھے کبھی جو سرخ رو وہ تو ہم نہیں رہے تم تو ہو چنیں چناں تمہارا نام الاماں گزر گئی یہ زندگی قدم قدم گھسیٹ کے موت بھی آ رہی ہے کیا گام بہ گام الاماں پھر رہا تھا جا بہ جا فقیر رزق کے لئے آخر اسے غذا ملی وہ بھی حرام ...

مزید پڑھیے

کس کو معلوم ہے کیا ہوگا نظر سے پہلے

کس کو معلوم ہے کیا ہوگا نظر سے پہلے ہوگا کوئی بھی جہاں ذات بشر سے پہلے کون اس راز سے ہے ماورا کیا جانتے ہو کون موجود صدف میں تھا گہر سے پہلے راحت وصل ہے کیا رات کا آرام ہے کیا گویا جاگ اٹھتے ہیں ہم لوگ سحر سے پہلے

مزید پڑھیے

کس کا شعلہ جل رہا ہے شعلگی سے ماورا

کس کا شعلہ جل رہا ہے شعلگی سے ماورا کون روشن ہے بھلا اس روشنی سے ماورا جیتے جی تو کچھ نہیں دیکھا نظر سے ہاں مگر حیرتیں ڈھونڈا کیے اس حیرتی سے ماورا کون سا عالم ہے مالک تیرے عالم میں نہاں کون سجدے میں چھپا ہے بندگی سے ماورا کوئی تو بتلائے گا آگے کہاں مڑتی ہے راہ کوئی تو ہوگی ...

مزید پڑھیے

تم ساتھ چلے تھے تو مرے ساتھ چلا دن

تم ساتھ چلے تھے تو مرے ساتھ چلا دن تم راہ سے بچھڑے تھے کہ بس ڈوب گیا دن جو تم سے مہک جائے اک ایسی نہ ملی رات جو تم سے چمک جائے اک ایسا نہ ملا دن اک رنگئی حالات سے پتھرا گئیں آنکھیں جس طرح کٹی رات اسی طرح کٹا دن وہ اور مسافت تھی جسے جھیل چکے ہم یہ اور مسافت ہے جسے جھیل رہا دن

مزید پڑھیے

وجود گرچہ مرا خاک مختصر سے اٹھا

وجود گرچہ مرا خاک مختصر سے اٹھا مہہ‌ و نجوم کا حلقہ مری شرر سے اٹھا بدل گیا ہے مری کشت جاں خرابے میں وہ حشر جو کہ تری چشم فتنہ گر سے اٹھا جنون شوق تو ہر پل ہے گویا پا بہ رکاب تکان کہتی ہے اب پاؤں کو سفر سے اٹھا شراب وصل کی مدہوشی ہے رگ و پے میں اسیر زلف کو اب حسن کے اثر سے ...

مزید پڑھیے

جو آئی خوشبو کبھی تیرے پیرہن کی طرح

جو آئی خوشبو کبھی تیرے پیرہن کی طرح گلاب جلنے لگے ہیں مرے بدن کی طرح یہ تیرے ناز و ادا تیری شوخی و شنگی ہیں دل فریب بہت تیرے بانکپن کی طرح جنوں کو راس تو آئی سکونت صحرا کہاں وہ لطف مگر تیری انجمن کی طرح ہیں گل ہزاروں شگفتہ چمن چمن لیکن کہاں وہ نکہت گل زخم جان و تن کی طرح بہار ...

مزید پڑھیے

آنکھوں میں جو سمائے نہ منظر لپیٹ دے

آنکھوں میں جو سمائے نہ منظر لپیٹ دے یا میری فکر میں کوئی محشر لپیٹ دے ان کی نگاہ مست کا دل میں سرور ہے ساقی سے کہہ دو بادہ و ساغر لپیٹ دے دنیا کو یوں خبر تو ہو آلام زیست کی کانٹوں کے ساتھ آج گل تر لپیٹ دے ہوں محو خواب ان کے تصور کی گود میں اے وقت اپنے درد کا بستر لپیٹ دے ہوتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5602 سے 6203