دل تجھے پا کے بھی تنہا ہوتا
دل تجھے پا کے بھی تنہا ہوتا دور تک ہجر کا سایا ہوتا اور تو اپنے لیے کیا ہوتا اپنا دکھ ہی کوئی اپنا ہوتا آپ آتے کہ نہ آتے دل میں جلتا بجھتا کوئی شعلہ ہوتا آرزو پھر نئی کرتے تعبیر پھر نیا کوئی تماشا ہوتا پھر وہی ایک خلش سی ہوتی پھر کسی نے ہمیں دیکھا ہوتا زخم پھر کوئی مہکتا دل ...