اشلوک
گیان بلندی کا کشٹ ہے اس لئے آسانی سے نہیں ملتا یہ اور بات ہے کہ تھوڑی دیر کی بارش میں ان گنت برساتی گڑھے آسمان کا عکس کھینچ کر اتراتے ہیں اور گہرے سمندر پہ ہنستے ہیں
گیان بلندی کا کشٹ ہے اس لئے آسانی سے نہیں ملتا یہ اور بات ہے کہ تھوڑی دیر کی بارش میں ان گنت برساتی گڑھے آسمان کا عکس کھینچ کر اتراتے ہیں اور گہرے سمندر پہ ہنستے ہیں
دن کی گہری دھوپ نے جو جو گھاؤ دیئے ہیں ان میں میرے درد کا کوئی بھید نہ ڈھونڈو میرے دکھ تو ان دیکھے ہیں دیکھو اس دیوار کے پیچھے برسوں کی نفرت سے گھائل تھکی ہوئی انجانی یادیں پتیاں بن کے بکھر گئی ہیں دور آکاش کے اس کونے میں ایک میلی چادر میں لپٹی شام کھڑی ہے آؤ چلیں اس شام کی چادر ...
کس لئے کہاں سے کیا ہوا کہ میں یہاں آ پہنچا اب مجھے کیسے لے جایا جائے گا وہاں جہاں محبت تھی انوراگ تھا اور اس کا راج تھا آواز کے خدا اب تو ہی بتا کہ افسوس کس پر کیا جائے اور کس کو دہائی دی جائے کس نے مجھے اس طرح مار دیا کہ نہ تو میں اپنی نظر میں رہا نہ دنیا میری نظر میں اٹھاؤ اسے وہاں ...
یہاں تک ہم آ گئے ہیں اور ہاں تمہارا پتہ انہیں لوگوں سے معلوم ہوا جو مر چکے تھے جب ہم چلے تھے تو آدھی عمر بتانے کے پچھتاوے کے سامنے دن ڈوب رہا تھا ایک گھوڑا کھڑا تھا اور ہانپ رہا تھا ایک منٹ ٹھہرو میں تھوڑی سی چائے پی لوں تو آگے بڑھوں میرے ہاتھ میں یہ جو سفید کاغذ ہے اسے تمہاری ...
جس جہان میں میری آواز نے مجھے چھوڑا تھا وہ اب میری سماعت سے پرے ہے مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا مشکل یہ ہے کہ آدمی بہت کچھ سن سکتا نہ دیکھ سکتا ہے پھر بھی شاید کچھ ایسا ہوتا ہے کہ کسی بھی مرنے والے آدمی کی آنکھوں کی کگار پر جب اس کی جان ٹھہر جاتی ہے تو اس کے نام کا پرندہ اسے اچانک اڑا لے ...
جسم کی بھی ایک جمہوریت ہے جو ہر کس و ناکس میں بے نام تقسیم ہو کے آدمی کو بے اثر کر دیتی ہے جسم کی بھی ایک آمریت ہوتی ہے جو کسی ایک میں جل بجھ کے سب کے لیے راکھ بن جاتی ہے
تجھ سے بچھڑوں تو تری ذات کا حصہ ہو جاؤں جس سے مرتا ہوں اسی زہر سے اچھا ہو جاؤں تم مرے ساتھ ہو یہ سچ تو نہیں ہے لیکن میں اگر جھوٹ نہ بولوں تو اکیلا ہو جاؤں میں تری قید کو تسلیم تو کرتا ہوں مگر یہ مرے بس میں نہیں ہے کہ پرندہ ہو جاؤں آدمی بن کے بھٹکنے میں مزا آتا ہے میں نے سوچا ہی ...
تمام بھیڑ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تماش بین وہ چہرہ اچھل کے دیکھتے ہیں نزاکتوں کا یہ عالم کہ رونمائی کی رسم گلاب باغ سے باہر نکل کے دیکھتے ہیں تو لا جواب ہے سب اتفاق رکھتے ہیں مگر یہ شہر کے فانوس جل کے دیکھتے ہیں اسے میں اپنے شبستاں میں چھو کے دیکھتا ہوں وہ چاند جس کو سمندر ...
عمل بر وقت ہونا چاہئے تھا زمیں نم تھی تو بونا چاہئے تھا سمجھنا تھا مجھے بارش کا پانی تمہیں کپڑے بھگونا چاہئے تھا تو جادو ہے تو کوئی شک نہیں ہے میں پاگل ہوں تو ہونا چاہئے تھا میں مجرم ہوں تو مجرم اس لیے ہوں مجھے سالم کھلونا چاہئے تھا اگر کٹ پھٹ گیا تھا میرا دامن تمہیں سینہ ...
تنہائی سے بچاؤ کی صورت نہیں کروں مر جاؤں کیا کسی سے محبت نہیں کروں سوئے فلک ہوائی سفر ہے تو کیا ہوا ڈر جاؤں ماہتاب کی صورت نہیں کروں آنکھیں ہیں یا شراب کے ساغر بھرے ہوئے پی جاؤں کیا خیال شریعت نہیں کروں قبضے میں ان کے شہر طلسمات ہی سہی کھو جاؤں کیا خدا کی عبادت نہیں کروں جب طے ...