قومی زبان

یہ گرم ریت یہ صحرا نبھا کے چلنا ہے

یہ گرم ریت یہ صحرا نبھا کے چلنا ہے سفر طویل ہے پانی بچا کے چلنا ہے بس اس خیال سے گھبرا کے چھٹ گئے سب لوگ یہ شرط تھی کہ قطاریں بنا کے چلنا ہے وہ آئے اور زمیں روند کر چلے بھی گئے ہمیں بھی اپنا خسارہ بھلا کے چلنا ہے کچھ ایسے فرض بھی ذمے ہیں ذمہ داروں پر جنہیں ہمارے دلوں کو دکھا کے ...

مزید پڑھیے

اس اندھے قید خانے میں کہیں روزن نہیں ہوتا

اس اندھے قید خانے میں کہیں روزن نہیں ہوتا بکھر جاتے طبیعت میں اگر بچپن نہیں ہوتا تجھے کیا علم کے ہر چوٹ پہ تارے نکلتے ہیں وہ آدم ہی نہیں جس کا کوئی دشمن نہیں ہوتا انہیں بھی ہم نے سیاروں سے واپس آتے دیکھا ہے جہاں بس عشق ہوتا ہے کوئی ایندھن نہیں ہوتا ہماری نا مرادی میں وفاداری ...

مزید پڑھیے

روشنی سانس ہی لے لے تو ٹھہر جاتا ہوں

روشنی سانس ہی لے لے تو ٹھہر جاتا ہوں ایک جگنو بھی چمک جائے تو ڈر جاتا ہوں مری عادت مجھے پاگل نہیں ہونے دیتی لوگ تو اب بھی سمجھتے ہیں کہ گھر جاتا ہوں میں نے اس شہر میں وہ ٹھوکریں کھائی ہیں کہ اب آنکھ بھی موند کے گزروں تو گزر جاتا ہوں اس لئے بھی مرا اعزاز پہ حق بنتا ہے سر جھکائے ...

مزید پڑھیے

تم پہ سورج کی کرن آئے تو شک کرتا ہوں

تم پہ سورج کی کرن آئے تو شک کرتا ہوں چاند دہلیز پہ رک جائے تو شک کرتا ہوں میں قصیدہ ترا لکھوں تو کوئی بات نہیں پر کوئی دوسرا دہرائے تو شک کرتا ہوں اڑتے اڑتے کبھی معصوم کبوتر کوئی آپ کی چھت پہ اتر جائے تو شک کرتا ہوں پھول کے جھنڈ سے ہٹ کر کوئی پیاسا بھنورا تیرے پہلو سے گزر جائے ...

مزید پڑھیے

جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں

جب سے میں خود کو کھو رہا ہوں کروٹ بدل کے سو رہا ہوں یہ جاگنا اور سونا کیا ہے آنکھوں میں جہاں سمو رہا ہوں دنیا سے الجھ کے سر پر شاید اپنی ہی بلا کو ڈھو رہا ہوں یہ لاگ اور لگاؤ کیا ہے اپنا وجود ہی ڈبو رہا ہوں اب تک جو زندگی ہے گزری کانٹے نفس میں بو رہا ہوں ہے کچھ تو اپنی پردہ ...

مزید پڑھیے

ریحان صدیقی کی یاد میں

جانے کتنے ہی راتیں ہوں گی جانے کتنے ہی دن ہوں گے جو تمہاری بیداری اور نیند میں چائے کی پیالیوں میں اور محبت کرنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں میں تمہاری آواز تو اب بھی سن رہا ہوں کئی دنوں سے میرا فون جو بند رہا وہ اب میری روح میں کھل گیا ہے اور ہماری روحوں کے درمیان کوئی فاصلہ ...

مزید پڑھیے

خاک بساط

جیون تو اسی شش و پنج میں گزر جاتا ہے دنیا رہنے کی جگہ ہے بھی یا نہیں وہ لوگ جن سے ہم بالکل ملنا نہیں چاہتے وہی ہم سے کیوں مسلسل مل رہے ہوتے ہیں جنہیں ہم بالکل دیکھنا نہیں چاہتے وہی کیوں مسلسل دکھائی دے رہے ہوتے ہیں چاہئے تو یہ تھا کہ ہم اپنے فضول دل کو کسی خیرات خانہ میں رکھ ...

مزید پڑھیے

انجلاء کے لئے ایک نظم

میرا دکھ میرا آبائی مکان ہے سو میری بیٹی جہاں سے تیرے جسم کی ایک بوند کو محفوظ رکھے ہوئے میں انجانے سفر پر نکلا اور زمین بھر کے تمام دکھوں میں عمر بھر سفر کرتا رہا میری بیٹی تو نے ان لالٹینوں کے ماضی کو نہیں دیکھا جن میں ہر رات کوئی نہ کوئی عورت روشن ہوتی اور پھر بجھ جاتی اور بجھی ...

مزید پڑھیے

اس کے نام جو مجھے نہیں جانتی

نہیں ہمیشؔ ایسا مت ہونے دو ابھی تو تمہیں اسم دینا ہے اس روٹی کے ٹکڑے کو جسے دنیا بھر کی بھوک سے چرایا گیا اور غریبی کس دیش کی دیو مالا ہے تمہیں اسم دینا ہے نوجوانی کے دنوں کی اس امنگ کو یا اس کے نام کے پیڑ کی ٹوٹی ہوئی ایک پتی کو یا ادھوری سچائیوں کے نام پر جلائی گئی کتابوں کو دیکھو ...

مزید پڑھیے

راستے میں شام کا مقدر ہونا

اس کے لہجے میں شام ہو رہی تھی اور راستے راستوں کو چھوڑتے ہوئے کسی اور راستے پر جا رہے تھے اس کا بدن خود سے الگ ہونے کے لئے اپنے ہی بدن سے پوچھ رہا تھا کنوارے رہنے کی تپسیا اکارت گئی کسی چاہنے والے کو اس نے ایک بوسہ بھی نہیں دیا اس کی مٹی نے کسی اور مٹی کو چھوا ہی نہیں شریعت کی آمریت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5599 سے 6203