قومی زبان

نامۂ جاناں

مدتوں بعد ملا نامۂ جاناں لیکن نہ کوئی دل کی حکایت نہ کوئی پیار کی بات نہ کسی حرف میں محرومئ جاں کا قصہ نہ کسی لفظ میں بھولے ہوئے اقرار کی بات نہ کسی سطر پہ بھیگے ہوئے کاجل کی لکیر نہ کہیں ذکر جدائی کا نہ دیدار کی بات بس وہی ایک ہی مضموں کہ مرے شہر کے لوگ کیسے سہمے ہوئے رہتے ہیں ...

مزید پڑھیے

واپسی

اس نے کہا سن عہد نبھانے کی خاطر مت آنا عہد نبھانے والے اکثر مجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیں تم جاؤ اور دریا دریا پیاس بجھاؤ جن آنکھوں میں ڈوبو جس دل میں اترو میری طلب آواز نہ دے گی لیکن جب میری چاہت اور مری خواہش کی لو اتنی تیز اور اتنی اونچی ہو جائے جب دل رو دے تب لوٹ ...

مزید پڑھیے

سفید چھڑیاں

جنم کا اندھا جو سوچ اور سچ کے راستوں پر کبھی کبھی کوئی خواب دیکھے تو خواب میں بھی عذاب دیکھے یہ شاہراہ حیات جس پر ہزار ہا قافلے رواں ہیں سبھی کی آنکھیں ہر ایک کا دل سبھی کے رستے سبھی کی منزل اسی ہجوم کشاں کشاں میں تمام چہروں کی داستاں میں نہ نام میرا نہ ذات میری مرا قبیلہ سفید ...

مزید پڑھیے

کر گئے کوچ کہاں

اتنی مدت دل آوارہ کہاں تھا کہ تجھے اپنے ہی گھر کے در و بام بھلا بیٹھے ہیں یاد یاروں نے تو کب حرف محبت رکھا غیر بھی طعنہ و دشنام بھلا بیٹھے ہیں تو سمجھتا تھا کہ یہ در بدری کا عالم دور دیسوں کی عنایت تھا سو اب ختم ہوا تو نے جانا تھا کہ آشفتہ سری کا موسم دشت غربت کی ودیعت تھا سو اب ختم ...

مزید پڑھیے

اے میرے سارے لوگو

اب مرے دوسرے بازو پہ وہ شمشیر ہے جو اس سے پہلے بھی مرا نصف بدن کاٹ چکی اسی بندوق کی نالی ہے مری سمت کہ جو اس سے پہلے مری شہہ رگ کا لہو چاٹ چکی پھر وہی آگ در آئی ہے مری گلیوں میں پھر مرے شہر میں بارود کی بو پھیلی ہے پھر سے ''تو کون ہے میں کون ہوں'' آپس میں سوال پھر وہی سوچ میان من و تو ...

مزید پڑھیے

پہلی آواز

اتنا سناٹا کہ جیسے ہو سکوت صحرا ایسی تاریکی کہ آنکھوں نے دہائی دی ہے جانے زنداں سے ادھر کون سے منظر ہوں گے مجھ کو دیوار ہی دیوار دکھائی دی ہے دور اک فاختہ بولی ہے بہت دور کہیں پہلی آواز محبت کی سنائی دی ہے

مزید پڑھیے

ہمدرد

اے دل ان آنکھوں پر نہ جا جن میں وفور رنج سے کچھ دیر کو تیرے لیے آنسو اگر لہرا گئے یہ چند لمحوں کی چمک جو تجھ کو پاگل کر گئی ان جگنوؤں کے نور سے چمکی ہے کب وہ زندگی جس کے مقدر میں رہی صبح طلب سے تیرگی کس سوچ میں گم سم ہے تو اے بے خبر ناداں نہ بن تیری فسردہ روح کو چاہت کے کانٹوں کی ...

مزید پڑھیے

میں اور تو

روز جب دھوپ پہاڑوں سے اترنے لگتی کوئی گھٹتا ہوا بڑھتا ہوا بیکل سایہ ایک دیوار سے کہتا کہ مرے ساتھ چلو اور زنجیر رفاقت سے گریزاں دیوار اپنے پندار کے نشے میں سدا استادہ خواہش ہم دم دیرینہ پہ ہنس دیتی تھی کون دیوار کسی سائے کے ہمراہ چلی کون دیوار ہمیشہ مگر استادہ رہی وقت دیوار کا ...

مزید پڑھیے

زیر لب

کس بوجھ سے جسم ٹوٹتا ہے اتنا تو کڑا سفر نہیں تھا وہ چار قدم کا فاصلہ کیا پھر راہ سے بے خبر نہیں تھا لیکن یہ تھکن یہ لڑکھڑاہٹ یہ حال تو عمر بھر نہیں تھا آغاز سفر میں جب چلے تھے کب ہم نے کوئی دیا جلایا کب عہد وفا کی بات کی تھی کب ہم نے کوئی فریب کھایا وہ شام وہ چاندنی وہ خوشبو منزل کا ...

مزید پڑھیے

سرحدیں

کس سے ڈرتے ہو کہ سب لوگ تمہاری ہی طرح ایک سے ہیں وہی آنکھیں وہی چہرے وہی دل کس پہ شک کرتے ہو جتنے بھی مسافر ہیں یہاں ایک ہی سب کا قبیلہ وہی پیکر وہی گل ہم تو وہ تھے کہ محبت تھا وطیرہ جن کا پیار سے ملتا تو دشمن کے بھی ہو جاتے تھے اس توقع پہ کہ شاید کوئی مہماں آ جائے گھر کے دروازے کھلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5579 سے 6203