نامۂ جاناں
مدتوں بعد ملا نامۂ جاناں لیکن نہ کوئی دل کی حکایت نہ کوئی پیار کی بات نہ کسی حرف میں محرومئ جاں کا قصہ نہ کسی لفظ میں بھولے ہوئے اقرار کی بات نہ کسی سطر پہ بھیگے ہوئے کاجل کی لکیر نہ کہیں ذکر جدائی کا نہ دیدار کی بات بس وہی ایک ہی مضموں کہ مرے شہر کے لوگ کیسے سہمے ہوئے رہتے ہیں ...