قومی زبان

بچھڑ گیا تھا تو اس کا خیال کیوں آیا

بچھڑ گیا تھا تو اس کا خیال کیوں آیا یہی تو دکھ ہے کہ شیشے میں بال کیوں آیا نئی کرن سے ابھی آشنا ہوئی تھی زمیں جواں تھا مہر یہ اس پر زوال کیوں آیا جب ایک برگ نہ اشجار آرزو پہ رہا تو مست موسم باد شمال کیوں آیا ہر آرزو ہوئی کیوں اس کی بزم میں گھائل ہر ایک خواب وہاں سے نڈھال کیوں ...

مزید پڑھیے

اک تبسم کا تھا سودا ہم کو

اک تبسم کا تھا سودا ہم کو تو نے سستے میں خریدا ہم کو موج در موج ہے غم ہائے فراق پار کرنا ہے یہ دریا ہم کو بھولتے جاتے ہیں تجھ کو جاناں زخم دے پھر کوئی تازہ ہم کو بیٹھ جاتے کسی دیوار کے ساتھ کب ہوا یہ بھی گوارہ ہم کو اے فلک تھوڑی سی رحمت ہم پر اے زمیں تھوڑا سا ٹکڑا ہم کو

مزید پڑھیے

خوابوں کے بیوپاری

ہم خوابوں کے بیوپاری تھے پر اس میں ہوا نقصان بڑا کچھ بخت میں ڈھیروں کالک تھی کچھ اب کے غضب کا کال پڑا ہم راکھ لیے ہیں جھولی میں اور سر پہ ہے ساہوکار کھڑا یاں بوند نہیں ہے ڈیوے میں وہ باج بیاج کی بات کرے ہم بانجھ زمین کو تکتے ہیں وہ ڈھور اناج کی بات کرے ہم کچھ دن کی مہلت مانگیں وہ آج ...

مزید پڑھیے

عید کارڈ

تجھ سے بچھڑ کر بھی زندہ تھا مر مر کر یہ زہر پیا ہے چپ رہنا آسان نہیں تھا برسوں دل کا خون کیا ہے جو کچھ گزری جیسی گزری تجھ کو کب الزام دیا ہے اپنے حال پہ خود رویا ہوں خود ہی اپنا چاک سیا ہے کتنی جانکاہی سے میں نے تجھ کو دل سے محو کیا ہے سناٹے کی جھیل میں تو نے پھر کیوں پتھر پھینک دیا ...

مزید پڑھیے

مت قتل کرو آوازوں کو

تم اپنے عقیدوں کے نیزے ہر دل میں اتارے جاتے ہو ہم لوگ محبت والے ہیں تم خنجر کیوں لہراتے ہو اس شہر میں نغمے بہنے دو بستی میں ہمیں بھی رہنے دو ہم پالنہار ہیں پھولوں کے ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں تم کس کا لہو پینے آئے ہم پیار سکھانے والے ہیں اس شہر میں پھر کیا دیکھو گے جب حرف یہاں مر ...

مزید پڑھیے

انتساب

ہماری چاہتوں کی بزدلی تھی ورنہ کیا ہوتا اگر یہ شوق کے مضموں وفا کے عہد نامے اور دلوں کے مرثیے اک دوسرے کے نام کر دیتے زیادہ سے زیادہ چاہتیں بد نام ہو جاتیں ہماری دوستی کی داستانیں عام ہو جاتیں تو کیا ہوتا یہ ہم جو زیست کے ہر عشق میں سچائیاں سوچیں یہ ہم جن کا اثاثہ تشنگی، تنہائیاں ...

مزید پڑھیے

میورکا

میورکا کے ساحلوں پہ کس قدر گلاب تھے کہ خوشبوئیں تھی بے طرح کہ رنگ بے حساب تھے تنک لباسیاں شناوروں کی تھیں قیامتیں تمام سیم تن شریک جشن شہر آب تھے شعاع مہر کی ضیا سے تھے جگر جگر بدن قمر جمال جن کے عکس روشنی کے باب تھے کھلی فضا کی دھوپ وہ کہ جسم سانولے کرے بتان آذری کہ مست غسل آفتاب ...

مزید پڑھیے

دوستی کا ہاتھ

گزر گئے کئی موسم کئی رتیں بدلیں اداس تم بھی ہو یارو اداس ہم بھی ہیں فقط تمہیں کو نہیں رنج چاک دامانی کہ سچ کہیں تو دریدہ لباس ہم بھی ہیں تمہارے بام کی شمعیں بھی تابناک نہیں مرے فلک کے ستارے بھی زرد زرد سے ہیں تمہارے آئنہ خانے بھی زنگ آلودہ مرے صراحی و ساغر بھی گرد گرد سے ہیں نہ ...

مزید پڑھیے

مجھ سے پہلے

مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمان وفا کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں شاید اب لوٹ کے آئے نہ تری محفل میں اور کوئی دکھ نہ رلائے تجھے ...

مزید پڑھیے

اے میرے وطن کے خوش نواؤ

اک عمر کے بعد تم ملے ہو اے میرے وطن کے خوش نواؤ ہر ہجر کا دن تھا حشر کا دن دوزخ تھے فراق کے الاؤ روؤں کہ ہنسوں سمجھ نہ آئے ہاتھوں میں ہیں پھول دل میں گھاؤ تم آئے تو ساتھ ہی تمہارے بچھڑے ہوئے یار یاد آئے اک زخم پہ تم نے ہاتھ رکھا اور مجھ کو ہزار یاد آئے وہ سارے رفیق پا بجولاں سب کشتۂ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5578 سے 6203