قومی زبان

ہوا کے دوش پہ یہ جو سوار پانی ہے

ہوا کے دوش پہ یہ جو سوار پانی ہے مرا یقین کرو بے شمار پانی ہے کہ پیاس بجھ نہیں پائی ہے اس سے پیاسوں کی اسی لیے تو بہت شرمسار پانی ہے بجھے کچھ ایسے ندی میں چراغ بہتے ہوئے ہوائیں ہنسنے لگیں سوگوار پانی ہے تو ایک جھیل ہے سیف الملوک کے جیسی میں ایسا تھر کہ جہاں آر پار پانی ہے میں ...

مزید پڑھیے

لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے

لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے کسی نے کیوں نہیں سوچا شجر گراتے ہوئے یہ زندگی تھی جو دھتکارتی رہی مجھ کو میں بات کرتا رہا اس سے مسکراتے ہوئے بدن تھا چور مرا ہجر کی مشقت سے سو نیند آئی مجھے درد کو سلاتے ہوئے کوئی تو اس پہ قیامت گزر گئی ہوگی کہ آپ بیتی وہ رونے لگا سناتے ...

مزید پڑھیے

ہوا کا شور تو آج اور بھی زیادہ ہے

ہوا کا شور تو آج اور بھی زیادہ ہے چراغاں آنکھ میں کر لو اگر ارادہ ہے میں رہ گزر میں کہیں پر بکھر ہی جاؤں گا یہ میری روح پہ مٹی کا اک لبادہ ہے بہت دنوں کی مسافت کے بعد مجھ پہ کھلا کہ چل رہا ہوں میں جس پر اجاڑ جادہ ہے یہ تیرا ظرف نہیں تنگ و تار گھاٹی نہیں یہ میرے دل کا ہے رستہ بھی ...

مزید پڑھیے

ہیں شاخ شاخ پریشاں تمام گھر میرے

ہیں شاخ شاخ پریشاں تمام گھر میرے کٹے پڑے ہیں بڑی دور تک شجر میرے چراغ ان پہ جلے تھے بہت ہوا کے خلاف بجھے بجھے ہیں جبھی آج بام و در میرے ہزاروں سال کی تاریخ لکھی جائے گی زمیں کے بطن سے ابھریں گے جب کھنڈر میرے یہ دیکھنا ہے کہ اب ہار مانتا ہے کون ادھر ہے وسعت امکاں ادھر ہیں پر ...

مزید پڑھیے

اک جسم ہیں کہ سر سے جدا ہونے والے ہیں

اک جسم ہیں کہ سر سے جدا ہونے والے ہیں ہم بھی زباں سے اپنی ادا ہونے والے ہیں تعریف ہو رہی ہے ابھی تھوڑی دیر بعد خوش ہونے والے سارے خفا ہونے والے ہیں سنتے ہیں وہ انار کلی کھلنے والی ہے کہئے کہ ہم بھی موج صبا ہونے والے ہیں قربت میں اس کی اور ہی کچھ ہونے والے تھے اس سے بچھڑ کے دیکھیے ...

مزید پڑھیے

اور سی دھوپ گھٹا اور سی رکھی ہوئی ہے

اور سی دھوپ گھٹا اور سی رکھی ہوئی ہے ہم نے اس گھر کی فضا اور سی رکھی ہوئی ہے کچھ مرض اور سا ہم نے بھی لگایا ہوا ہے اور اس نے بھی دوا اور سی رکھی ہوئی ہے اس قدر شور میں بس ایک ہمیں ہیں خاموش ہم نے ہونٹوں پہ صدا اور سی رکھی ہوئی ہے وہ دعا اور ہے جو مانگ رہے ہیں کہ ابھی دل میں اک اور ...

مزید پڑھیے

آسماں زاد زمینوں پہ کہیں ناچتے ہیں

آسماں زاد زمینوں پہ کہیں ناچتے ہیں ہم وہ پیکر ہیں سر عرش بریں ناچتے ہیں اپنا یہ جسم تھرکتا ہے بس اپنی دھن پر ہم کبھی اور کسی دھن پہ نہیں ناچتے ہیں اپنے رنگوں کو تماشے کا کوئی شوق نہیں مور جنگل میں ہی رہتے ہیں وہیں ناچتے ہیں تن کے ڈیرے میں ہے جاں مست قلندر کی طرح واہمے تھک کے جو ...

مزید پڑھیے

اک خواب ہے یہ پیاس بھی دریا بھی خواب ہے

اک خواب ہے یہ پیاس بھی دریا بھی خواب ہے ہے خواب تو بھی تیری تمنا بھی خواب ہے یہ التزام دیدۂ خوش خواب بھی ہے خواب رنگ بہار قامت زیبا بھی خواب ہے وہ منزلیں بھی خواب ہیں آنکھیں ہیں جن سے چور ہاں یہ سفر بھی خواب ہے رستہ بھی خواب ہے یہ رفعتیں بھی خواب ہیں یہ آسماں بھی خواب پرواز بھی ...

مزید پڑھیے

ہوں کہ جب تک ہے کسی نے معتبر رکھا ہوا

ہوں کہ جب تک ہے کسی نے معتبر رکھا ہوا ورنہ وہ ہے باندھ کر رخت سفر رکھا ہوا مجھ کو میرے سب شہیدوں کے تقدس کی قسم ایک طعنہ ہے مجھے شانوں پہ سر رکھا ہوا میرے بوجھل پاؤں گھنگھرو باندھ کر ہلکے ہوئے سوچنے سے کیا نکلتا دل میں ڈر رکھا ہوا اک نئی منزل کی دھن میں دفعتاً سرکا لیا اس نے ...

مزید پڑھیے

اگر ہوں گویا تو پھر بے تکان بولتے ہیں

اگر ہوں گویا تو پھر بے تکان بولتے ہیں مگر یہ لوگ لہو کی زبان بولتے ہیں زمیں جو پاؤں کے نیچے ہے اس کا مالک ہوں پہ میرے نام پہ کتنے لگان بولتے ہیں چھپا نہ قتل مرا احتیاط کے با وصف جو اس نے چھوڑے نہیں وہ نشان بولتے ہیں زمیں پہ جب کوئی مظلوم آہ بھرتا ہے ستارے ٹوٹتے ہیں آسمان بولتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5543 سے 6203