قومی زبان

مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے

مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے سو حجابوں میں جو پنہاں ہے نمایاں ہو جائے اس طرح قرب ترا اور بھی آساں ہو جائے میرا ایک ایک نفس کاش رگ جاں ہو جائے وہ کبھی صحن چمن میں جو خراماں ہو جائے غنچہ بالیدہ ہو اتنا کہ گلستاں ہو جائے عشق کا کوئی نتیجہ تو ہو اچھا کہ برا زیست مشکل ہے تو ...

مزید پڑھیے

مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے فغاں تو عشق کی اک مشق ابتدائی ہے ابھی تو اور بڑھے گی یہ لے ابھی کیا ہے تمام عمر اسی رنج میں تمام ہوئی کبھی یہ تم نے نہ پوچھا تری خوشی کیا ہے تم اپنے ہو تو نہیں غم کسی مخالف کا زمانہ کیا ہے فلک کیا ہے مدعی ...

مزید پڑھیے

ساقی و واعظ میں ضد ہے بادہ کش چکر میں ہے

ساقی و واعظ میں ضد ہے بادہ کش چکر میں ہے تو بہ لب پر اور لب ڈوبا ہوا ساغر میں ہے روک لے اے ضبط جو آنسو کہ چشم تر میں ہے کچھ نہیں بگڑا ہے اب تک گھر کی دولت گھر میں ہے دب گیا تھا میرے مرنے سے جو اے محشر خرام کیا وہی خوابیدہ فتنہ صورت محشر میں ہے جس کو تو چاہے جلا دے جس کو چاہے مار ...

مزید پڑھیے

باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا

باہم جو حسن و عشق میں یارانہ ہو گیا کوئی پری بنا کوئی دیوانہ ہو گیا اتنی سی بات پر کہ ہوئی شمع بے حجاب تیار جان دینے کو پروانہ ہو گیا تنگ آ گیا ہوں وسعت مفہوم عشق سے نکلا جو حرف منہ سے وہ افسانہ ہو گیا ہر دل میں یاد بن کے چھپے ہیں بتان عشق اللہ تیرا گھر بھی صنم خانہ ہو گیا فارغ ...

مزید پڑھیے

کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتا

کیوں چپ ہیں وہ بے بات سمجھ میں نہیں آتا یہ رنگ ملاقات سمجھ میں نہیں آتا کیا داد سخن ہم تمہیں دیں حضرت ناصح ہے سو کی یہ اک بات سمجھ میں نہیں آتا شیخ اور بھلائی سے کرے تذکرہ تیرا اے پیر خرابات سمجھ میں نہیں آتا سایہ بھی شب ہجر کی ظلمت میں چھپا ہے اب کس سے کریں بات سمجھ میں نہیں ...

مزید پڑھیے

جب تک اپنے دل میں ان کا غم رہا

جب تک اپنے دل میں ان کا غم رہا حسرتوں کا رات دن ماتم رہا ہجر میں دل کا نہ تھا ساتھی کوئی درد اٹھ اٹھ کر شریک غم رہا کر کے دفن اپنے پرائے چل دیے بیکسی کا قبر پر ماتم رہا سیکڑوں سر تن سے کر ڈالے جدا ان کے خنجر کا وہی دم خم رہا آج اک شور قیامت تھا بپا تیرے کشتو کا عجب عالم ...

مزید پڑھیے

کشش حسن کی یہ انجمن آرائی ہے

کشش حسن کی یہ انجمن آرائی ہے ساری دنیا ترے کوچے میں سمٹ آئی ہے درد نے کھوے ہوئے دل کی جگہ پائی ہے اک بلا سر سے گئی ایک بلا آئی ہے جاں نثاروں کو سہارا جو نہ جینے کا ملا کوئے قاتل میں قضا کھینچ کے لے آئی ہے میں چھپاتا ہوں غم عشق تو بنتا نہیں کام اور کہتا ہوں تو گویا مری رسوائی ...

مزید پڑھیے

تمہاری لن ترانی کے کرشمے دیکھے بھالے ہیں

تمہاری لن ترانی کے کرشمے دیکھے بھالے ہیں چلو اب سامنے آ جاؤ ہم بھی آنکھ والے ہیں نہ کیونکر رشک دشمن سے خلش ہو خار حسرت کی یہ وہ کانٹا ہے جس سے پاؤں میں کیا دل میں چھالے ہیں یہ صدمہ جیتے جی دل سے ہمارے جا نہیں سکتا انہیں وہ بھولے بیٹھے ہیں جو ان پر مرنے والے ہیں ہماری زندگی سے ...

مزید پڑھیے

اک نظر میں درد کھو دینا دل بیمار کا

اک نظر میں درد کھو دینا دل بیمار کا یہ تو ادنیٰ سا کرشمہ ہے نگاہ یار کا غیر ممکن ہے کہ ہو پامال کوئی حشر میں ہو نہ جب تک کچھ اشارہ آپ کی رفتار کا حضرت آدم سے تا ایں دم ہوئے سب عشق دوست ہے ازل سے دور دورہ حسن کی سرکار کا ہم جو مر کر جی اٹھے اس پر تعجب کیا کہ ہے وہ کرامت چال کی یہ ...

مزید پڑھیے

دل جھکا مائل طبیعت ہو گئی

دل جھکا مائل طبیعت ہو گئی آج بسم اللہ الفت ہو گئی محو دل سے سب شکایت ہو گئی سامنے جب ان کی صورت ہو گئی میرا حال زار تو دیکھا مگر یہ نہ پوچھا کیوں یہ حالت ہو گئی وہ فریب ناز دے کر لے گئے کتنی ارزاں دل کی قیمت ہو گئی دل میں جب تک آہ تھی اک بات تھی لب تک آتے ہی حکایت ہو گئی جب نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5528 سے 6203