مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے
مطمئن اپنے یقیں پر اگر انساں ہو جائے سو حجابوں میں جو پنہاں ہے نمایاں ہو جائے اس طرح قرب ترا اور بھی آساں ہو جائے میرا ایک ایک نفس کاش رگ جاں ہو جائے وہ کبھی صحن چمن میں جو خراماں ہو جائے غنچہ بالیدہ ہو اتنا کہ گلستاں ہو جائے عشق کا کوئی نتیجہ تو ہو اچھا کہ برا زیست مشکل ہے تو ...