جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثر
جو ہوتا آہ تری آہ بے اثر میں اثر تو کچھ تو ہوتا دل شوخ فتنہ گر میں اثر بس اک نگاہ میں معشوق چھین لیں ہیں دل خدا نے ان کی دیا ہے عجب نظر میں اثر نہ چھوڑی غم نے مرے اک جگر میں خون کی بوند کہاں سے اشک کا ہو کہیے چشم تر میں اثر ہو اس کے ساتھ یہ بے التفاتی گل کیوں جو عندلیب کے ہو نالۂ ...