نہ دھوپ دھوپ رہے اور نہ سایا سایا تو
نہ دھوپ دھوپ رہے اور نہ سایا سایا تو جنون شوق اگر پھر وہیں پہ لایا تو قدم بڑھا تو لوں آبادیوں کی سمت مگر مجھے وہ ڈھونڈھتا تنہائیوں میں آیا تو سلوک خود سے حریفانہ کون چاہے گا اگرچہ تو نے مجھے زندگی نبھایا تو میں جس کی اوٹ میں موسم کی مار سہتا ہوں کہیں کھنڈر بھی وہ بارش نے اب کے ...