اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا
اتراتا گریباں پر تھا بہت، رہ عشق میں کب کا چاک ہوا وہ قصۂ آزادانہ روی، اس زلف کے ہاتھوں پاک ہوا کیا کیا نہ پڑھا اس مکتب میں، کتنے ہی ہنر سیکھے ہیں یہاں اظہار کبھی آنکھوں سے کیا کبھی حد سے سوا بے باک ہوا جس دن سے گیا وہ جان غزل ہر مصرعے کی صورت بگڑی ہر لفظ پریشاں دکھتا ہے، اس ...