قومی زبان

کل کی بات لگتی ہے

پیار کی کہانی بھی مختصر جوانی بھی وہ گھڑی سہانی بھی وقت کی روانی بھی کس کے ہات لگتی ہے دشت بحر و بر امبر پھول چشم تر گوہر آئینہ ہو یا پتھر فتنہ سازیٔ منظر واردات لگتی ہے طرف گل کھلے تھے جب زخم ہی سلے تھے جب غم کے سلسلے تھے جب تم کو کچھ گلے تھے جب سب کی مات لگتی ہے اپنی بھول کچھ بھی ...

مزید پڑھیے

ہم ازل سے ان چاہے ضابطوں میں رہتے ہیں

ہم ازل سے ان چاہے ضابطوں میں رہتے ہیں زندگی کا لالچ ہے قاتلوں میں رہتے ہیں ہم عجب مسافر ہیں راستوں سے ڈرتے ہیں منزلوں کی خواہش ہے اور گھروں میں رہتے ہیں آج بھی رہائی کے کچھ بچے کھچے جذبے ہم شکست خوردہ ہم جیدوں میں رہتے ہیں ڈھونڈتے ہیں اپنے کچھ گمشدہ ارادوں کو ہم کہ اپنے خوابوں ...

مزید پڑھیے

غرور پاس روایت بدل کے رکھ دوں گا

غرور پاس روایت بدل کے رکھ دوں گا میں رفتگاں کی شریعت بدل کے رکھ دوں گا گدائے علم ہوں نکلا تو پھر قرینے سے تمہارا طرز طریقت بدل کے رکھ دوں گا صلاح دوست شرافت سے مان لے ورنہ میں یہ لباس شرافت بدل کے رکھ دوں گا جو عہد رفتہ سے جاؤں گا رفتگاں کی طرف تو پھر سکون سے وحشت بدل کے رکھ دوں ...

مزید پڑھیے

نفرتوں سے چہرہ چہرہ گرد تھا

نفرتوں سے چہرہ چہرہ گرد تھا مجرم انسانیت ہر فرد تھا کچھ ہواؤں میں بھی تھا خوف و ہراس کچھ فضاؤں کا بھی چہرہ زرد تھا بے حسی میں دفن تھی انسانیت آدمیت کا بھی لہجہ سرد تھا اپنے کاندھوں پر اٹھائے اپنا بوجھ کوئی آوارہ کوئی شب گرد تھا پھول سے چہرے تھے مرجھائے ہوئے شہر گل بھی آج شہر ...

مزید پڑھیے

دلی کی گلیاں تین منظر

پہلا منظر سن انیس سو اڑتیس ہے سردی کی ٹھٹھری راتیں ہیں رات کے کوئی آٹھ بجے ہیں آج یہ سب گزری باتیں ہیں موری دروازے کے باہر نشے میں دھت فوجی گورے انگریزی سرکار کے چھورے تانگے والوں کو پیٹ رہے ہیں تانگے والے گھبرا گھبرا کر ادھر ادھر سب بھاگ رہے ہیں اور سپاہی آنکھ چرا کر دوسری ...

مزید پڑھیے

بے چارگی

ہزار بار ہوا یوں کہ جب امید گئی گلوں سے رابطہ ٹوٹا نہ خار اپنے رہے گماں گزرنے لگا ہم کھڑے ہیں صحرا میں فریب کھانے کی جا رہ گئی، نہ سپنے رہے نظر اٹھا کے کبھی دیکھ لیتے تھے اوپر نہ جانے کون سے اعمال کی سزا ہے کہ آج یہ واہمہ بھی گیا سر پہ آسماں ہے کوئی

مزید پڑھیے

ایک لڑکا

دیار شرق کی آبادیوں کے اونچے ٹیلوں پر کبھی آموں کے باغوں میں کبھی کھیتوں کی مینڈوں پر کبھی جھیلوں کے پانی میں کبھی بستی کی گلیوں میں کبھی کچھ نیم عریاں کم سنوں کی رنگ رلیوں میں سحر دم جھٹپٹے کے وقت راتوں کے اندھیرے میں کبھی میلوں میں ناٹک ٹولیوں میں ان کے ڈیرے میں تعاقب میں کبھی ...

مزید پڑھیے

ایک احساس

غنودگی سی رہی طاری عمر بھر ہم پر یہ آرزو ہی رہی تھوڑی دیر سو لیتے خلش ملی ہے مجھے اور کچھ نہیں اب تک ترے خیال سے اے کاش درد دھو لیتے مرے عزیزو مرے دوستو گواہ رہو برہ کی رات کٹی آمد سحر نہ ہوئی شکستہ پا ہی سہی ہم سفر رہا پھر بھی امید ٹوٹی کئی بار منتشر نہ ہوئی ہیولیٰ کیسے بدلتا ہے ...

مزید پڑھیے

بلاوا

نگر نگر کے دیس دیس کے پربت ٹیلے اور بیاباں ڈھونڈ رہے ہیں اب تک مجھ کو کھیل رہے ہیں میرے ارماں میرے سپنے میرے آنسو ان کی چھلنی چھاؤں میں جیسے دھول میں بیٹھے کھیل رہے ہوں بالک باپ سے روٹھے روٹھے! دن کے اجالے سانجھ کی لالی رات کے اندھیارے سے کوئی مجھ کو آوازیں دیتا ہے آؤ آؤ آؤ ...

مزید پڑھیے

اتفاق

دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہو شدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر کچھ اتفاق ہو ایسا کہ ایک شام کہیں کسی اک ایسی جگہ سے ہو یونہی میرا گزر جہاں ہجوم گریزاں میں تم نظر آ جاؤ اور ایک ایک کو حیرت سے دیکھتا رہ جائے!

مزید پڑھیے
صفحہ 5418 سے 6203