قومی زبان

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں

عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں میں فدا اس چاند سے چہرے پہ جس کے نور سے میرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ہو گئیں عمر بھر کم بخت کو پھر نیند آ سکتی نہیں جس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ ...

مزید پڑھیے

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے

ان رس بھری آنکھوں میں حیا کھیل رہی ہے دو زہر کے پیالوں پہ قضا کھیل رہی ہے ہیں نرگس و گل کس لیے مسحور تماشا گلشن میں کوئی شوخ ادا کھیل رہی ہے اس بزم میں جائیں تو یہ کہتی ہیں ادائیں کیوں آئے ہو، کیا سر پہ قضا کھیل رہی ہے اس چشم سیہ مست پہ گیسو ہیں پریشاں میخانے پہ گھنگھور گھٹا ...

مزید پڑھیے

آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم

آؤ بے پردہ تمہیں جلوۂ پنہاں کی قسم ہم نہ چھیڑیں گے ہمیں زلف پریشاں کی قسم چاک داماں کی قسم چاک گریباں کی قسم ہنسنے والے تجھے اس حال پریشاں کی قسم میرے ارمان سے واقف نہیں شرمائیں گے آپ آپ کیوں کھاتے ہیں ناحق مرے ارماں کی قسم نیند آئے نہ کبھی تجھ سے بچھڑ کر ظالم اپنی آنکھوں کی ...

مزید پڑھیے

نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے

نہ بھول کر بھی تمنائے رنگ و بو کرتے چمن کے پھول اگر تیری آرزو کرتے جناب شیخ پہنچ جاتے حوض کوثر تک اگر شراب سے مے خانے میں وضو کرتے مسرت آہ تو بستی ہے کن ستاروں میں زمیں پہ عمر ہوئی تیری جستجو کرتے ایاغ بادہ میں آ کر وہ خود چھلک پڑتا گر اس کے مست ذرا اور ہاؤ ہو کرتے انہیں مفر نہ ...

مزید پڑھیے

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے کبھی آنکھوں میں آنسو ہیں کبھی لب پر ہنسی بھی ہے انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے یوں ہی تکمیل ہوگی حشر تک تصویر ہستی کی ہر اک تکمیل آخر میں پیام نیستی بھی ہے یہ وہ ساغر ہے صہبائے خودی سے ...

مزید پڑھیے

حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل

حزیں ہے بیکس و رنجور ہے دل محبت پر مگر مجبور ہے دل تمہارے نور سے معمور ہے دل عجب کیا ہے کہ رشک طور ہے دل تمہارے عشق سے مسرور ہے دل ابھی تک مست ہے مخمور ہے دل کیا ہے یاد اس یاد جہاں نے الٰہی کس قدر مسرور ہے دل بہت چاہا نہ جائیں تیرے در پر مگر کیا کیجیے مجبور ہے دل فقیری میں اسے ...

مزید پڑھیے

اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی

اس مہ جبیں سے آج ملاقات ہو گئی بے درد آسمان یہ کیا بات ہو گئی آوارگان عشق کا مسکن نہ پوچھئے پڑ رہتے ہیں وہیں پہ جہاں رات ہو گئی ذکر شب وصال ہو کیا قصہ مختصر جس بات سے وہ ڈرتے تھے وہ بات ہو گئی مسجد کو ہم چلے گئے مستی میں بھول کر ہم سے خطا یہ پیر خرابات ہو گئی پچھلے غموں کا ذکر ہی ...

مزید پڑھیے

دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا

دل شکستہ حریف شباب ہو نہ سکا یہ جام ظرف نواز شراب ہو نہ سکا کچھ ایسے رحم کے قابل تھے ابتدا ہی سے ہم کہ ان سے بھی ستم بے حساب ہو نہ سکا نظر نہ آیا کبھی شب کو ان کا جلوۂ رخ یہ آفتاب کبھی ماہتاب ہو نہ سکا نگاہ فیض سے محروم برتری معلوم ستارہ چمکا مگر آفتاب ہو نہ سکا ہے جام خالی تو ...

مزید پڑھیے

ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے

ہر ایک جلوۂ رنگیں مری نگاہ میں ہے غم فراق کی دنیا دل تباہ میں ہے کسی کی یاد کرم اف ارے معاذ اللہ تباہ ہو کے بھی ظالم دل تباہ میں ہے ہزار پردوں میں او چھپنے والے یہ سن لے ترا جمال مرے دامن نگاہ میں ہے جہاں میں مجھ سے بھی ناکام آرزو کم ہیں نہ رنگ آہ میں ہے اور نہ سوز آہ میں ہے

مزید پڑھیے

یارو کوئے یار کی باتیں کریں

یارو کوئے یار کی باتیں کریں پھر گل و گلزار کی باتیں کریں چاندنی میں اے دل اک اک پھول سے اپنے گل رخسار کی باتیں کریں آنکھوں آنکھوں میں لٹائے مے کدے دیدۂ سرشار کی باتیں کریں اب تو ملیے بس لڑائی ہو چکی اب تو چلئے پیار کی باتیں کریں پھر مہک اٹھے فضائے زندگی پھر گل و رخسار کی باتیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5378 سے 6203