عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں
عمر بھر کی تلخ بیداری کا ساماں ہو گئیں ہائے وہ راتیں کہ جو خواب پریشاں ہو گئیں میں فدا اس چاند سے چہرے پہ جس کے نور سے میرے خوابوں کی فضائیں یوسفستاں ہو گئیں عمر بھر کم بخت کو پھر نیند آ سکتی نہیں جس کی آنکھوں پر تری زلفیں پریشاں ہو گئیں دل کے پردوں میں تھیں جو جو حسرتیں پردہ ...