قومی زبان

حبس دروں پہ جسم گراں بار سنگ تھا

حبس دروں پہ جسم گراں بار سنگ تھا وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھا کچھ دور تک سحاب رفاقت رہا رفیق پھر اہتمام بارش تیر و تفنگ تھا سہمی ہوئی فضائے غزالاں کے رو بہ رو جنگل تھا قہقہے تھے خدا تھا میں دنگ تھا اب شہر جستجو میں ترے بعد کچھ نہیں آبادئ بدن میں جو دل تھا ملنگ تھا جی یہ کرے ...

مزید پڑھیے

کچھ فاصلہ نہیں ہے عدو اور شکست میں

کچھ فاصلہ نہیں ہے عدو اور شکست میں لیکن کوئی سراغ نہیں ہے گرفت میں کچھ دخل اختیار کو ہو بود و ہست میں سر کر لوں یہ جہان الم ایک جست میں اب وادئ بدن میں کوئی بولتا نہیں سنتا ہوں آپ اپنی صدا بازگشت میں رخ ہے مرے سفر کا الگ تیری سمت اور اک سوئے مرغ زار چلے ایک دشت میں کس شاہ کا گزر ...

مزید پڑھیے

گہری سونی راہ اور تنہا سا میں

گہری سونی راہ اور تنہا سا میں رات اپنی چاپ سے ڈرتا سا میں تو کہ میرا آئنہ ہوتا ہوا اور تیرے عکس میں ڈھلتا سا میں کب ترے کوچے سے کر جانا ہے کوچ اس تصور سے ہی گھبراتا سا میں میری راہوں کے لیے منزل تو ہی تیرے قدموں کے لیے رستا سا میں آسماں میں رنگ بکھراتا سا تو اور سراپا دید بن ...

مزید پڑھیے

کھلی اور بند آنکھوں سے اسے تکتا رہا میں بھی

کھلی اور بند آنکھوں سے اسے تکتا رہا میں بھی تری دنیا کے پیچھے بھاگتا پھرتا رہا میں بھی مری آواز پچھلی رات تجھ تک کیسے آ پاتی کسی گہرے کنویں میں رات بھر سوتا رہا میں بھی بہ ظاہر دیکھتی آنکھیں بہ ظاہر جاگتی روحیں بہ ظاہر ان سبھوں کے ساتھ ہی جیتا رہا میں بھی میں ہوں اس کارساز بے ...

مزید پڑھیے

تو ساتھ ہے مگر کہیں تیرا پتا نہیں

تو ساتھ ہے مگر کہیں تیرا پتا نہیں شاخوں پہ دور تک کوئی پتا ہرا نہیں خاموشیاں بھری ہیں فضاؤں میں ان دنوں ہم نے بھی موسموں سے ادھر کچھ کہا نہیں تو نے زباں نہ کھولی سخن میں نے چن لیے تو نے وہ پڑھ لیا جسے میں نے لکھا نہیں یہ کون سی جگہ ہے یہ بستی ہے کون سی کوئی بھی اس جہان میں تیرے ...

مزید پڑھیے

قرار گم شدہ میرے خدا کب آئے گا

قرار گم شدہ میرے خدا کب آئے گا مری دعاؤں میں رنگ دعا کب آئے گا بدن سے بھرنے لگے ہیں ہم اپنی روح کے گھاؤ ہمیں سلیقۂ دارو دوا کب آئے گا یہیں کہیں سے وہ آواز دے رہا ہے مگر نواح جاں میں مرا نا خدا کب آئے گا غروب ہوتا ہوا روشنی کا سیارہ اندھیرے موسموں میں کیا پتا کب آئے گا سماعتوں کو ...

مزید پڑھیے

حیرت کے دفتر جاؤں

حیرت کے دفتر جاؤں میں اپنے اندر جاؤں آنکھیں چار کروں سب سے آئینے سے ڈر جاؤں دنیا مل ہی جائے گی زینے چند اتر جاؤں ایسا کوئی پل آئے سائے سے باہر جاؤں تجھ کو سوچوں پل بھر میں زنجیروں سے بھر جاؤں جس رستے ہیں خار ببول اس رستے اکثر جاؤں دکھ کے جنگل سے نکلوں تیری راہ گزر جاؤں رات ...

مزید پڑھیے

میں نہیں ہوں نہیں کہیں بھی نہیں

میں نہیں ہوں نہیں کہیں بھی نہیں اب کوئی آسمان ہے نہ زمیں ایک دنیا ہوئی ہے زیر نگیں شہ نشیں ہو گیا ہے خاک نشیں یہ سکوں بھی ہوا ملال کے ساتھ وہ بہر طور جی رہا ہے یہیں بارہا تو نے خواب دکھلائے بارہا ہم نے کر لیا ہے یقیں ایک ویرانہ تھا بسا نہ کبھی بستیاں ہم سے گو ہزار بسیں جیسے ...

مزید پڑھیے

حیرت سے دیکھتا ہوا چہرہ کیا مجھے

حیرت سے دیکھتا ہوا چہرہ کیا مجھے صحرا کیا کبھی کبھی دریا کیا مجھے کچھ تو عنایتیں ہیں مرے کارساز کی اور کچھ مرے مزاج نے تنہا کیا مجھے پتھرا گئی ہے آنکھ بدن بولتا نہیں جانے کس انتظار نے ایسا کیا مجھے تو تو سزا کے خوف سے آزاد تھا مگر میری نگاہ سے کوئی دیکھا کیا مجھے آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

لہو تیزاب کرنا چاہتا ہے

لہو تیزاب کرنا چاہتا ہے بدن اک آگ دریا چاہتا ہے میسر سے زیادہ چاہتا ہے سمندر جیسے دریا چاہتا ہے اسے بھی سانس لینے دے کہ ہر دم بدن باہر نکلنا چاہتا ہے مجھے بالکل یہ اندازہ نہیں تھا وہ اب رستہ بدلنا چاہتا ہے نئی زنجیر پھیلائے ہے بانہیں کوئی آزاد ہونا چاہتا ہے رتیں بدلیں نئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5367 سے 6203