ترک وفا کی بات کہیں کیا (ردیف .. ے)
ترک وفا کی بات کہیں کیا
دل میں ہو تو لب تک آئے
دل بیچارہ سیدھا سادا
خود روٹھے خود مان بھی جائے
چلتے رہیے منزل منزل
اس آنچل کے سائے سائے
دور نہیں تھا شہر تمنا
آپ ہی میرے ساتھ نہ آئے
آج کا دن بھی یاد رہے گا
آج وہ مجھ کو یاد نہ آئے