قومی زبان

جو دونوں میں جدائی مرحلہ ہے

جو دونوں میں جدائی مرحلہ ہے یہی وہ انتہائی مرحلہ ہے تمہاری انتہا دیکھی تو سمجھا یہ میرا ابتدائی مرحلہ ہے اٹھا کر انگلیاں سب ہنس رہے ہیں سمجھ لو جگ ہنسائی مرحلہ ہے بتا دو دودھ کا کوئی دھلا ہے یہاں اب پارسائی مرحلہ ہے یہ مٹھی بھر ہی لشکر سے لڑیں گے کہ پھر سے کربلائی مرحلہ ...

مزید پڑھیے

ترے ہاتھوں میں جب ہو ہاتھ تو ہمزور لگتا ہے

ترے ہاتھوں میں جب ہو ہاتھ تو ہمزور لگتا ہے مگر جب ساتھ چلنا ہو مرا کیوں زور لگتا ہے محبت کے مذاہب میں سنو دونوں ہی کافر ہیں ترا ایماں مجھے میرا تجھے کمزور لگتا ہے اثر کچھ حادثوں کا یوں پڑا میری سماعت پر کسی کا دھیما لہجہ بھی مجھے اب شور لگتا ہے سنو انسان جو انسانیت سے دور رہتا ...

مزید پڑھیے

لب جو دیکھے تشنگی تڑپا گئی

لب جو دیکھے تشنگی تڑپا گئی پھر نگاہ ناز ہم کو کھا گئی ہم ابھی آنکھوں سے لب تک آئے تھے بات اتنی تھی کہ وہ شرما گئی تھا اگر پتھر کا میرا دل تو پھر تیری قربت کیوں اسے پگھلا گئی اس نے آنکھوں سے دھماکہ کر دیا دل پہ دہشت گرد لڑکی چھا گئی تھا ابھی پہلی محبت کا خمار ایک پھر جام شہادت پا ...

مزید پڑھیے

نیم کے اس پیڑ سے اترا ہے جن

نیم کے اس پیڑ سے اترا ہے جن پھر کسی کے خون کا پیاسا ہے جن گھر میں جتنے لوگ تھے وہ کھا گیا میں بچا ہوں پر ابھی بھوکا ہے جن پھونکتا ہوں پڑھ کے ساری آیتیں اور مجھ کو دیکھ کے ہنستا ہے جن کودتا ہے رات بھر وہ صحن میں ہر جگہ گھر میں مرے پھرتا ہے جن رات ڈائن ہے مچاں سے جھولتی اور اس کے ...

مزید پڑھیے

سرکس

کرتب کا بس شوق ہوا تھا میرے بس کا کام نہیں ہے کب سوچا تھا بن سوچے سمجھے میں یوں ہی چل نکلا تھا چلتے چلتے مجھ کو یہ احساس نہیں تھا چلنا یوں دشوار بھی ہو سکتا ہے اک دن خوف کوئی تلوار بھی ہو سکتا ہے اک دن میرے پاؤں کسی لمحے شل ہو سکتے ہیں آج نہیں ہوں گے شاید کل ہو سکتے ہیں کب تک اپنی ...

مزید پڑھیے

ویپنس آف ماس ڈسٹرکشن

کوئی ہے کوئی بغداد کی فریاد سنتا ہے کوئی ہوگا جسے آواز آتی ہو کسی دشمن کے ٹاپوں کی دھماکوں کی عراقی کوکھ کو یوں روندتے ہیں ٹینک دشمن کے کہ زخم خون تھوکنے لگے بغدادی بدن کے فرات و دجلہ کے پانی کو کس نے خاک کر ڈالا کہ دشمن نے مری جنت کو بھی ناپاک کر ڈالا الف لیلیٰ شہزادی کے کپڑے پھاڑ ...

مزید پڑھیے

16 دسمبر آرمی پبلک اسکول پر حملہ

میرا بچہ راہم جب اسکول سے لوٹا میں نے اس سے بستہ اپنے ہاتھ لے کر اس سے پوچھا اتنا بھاری کیوں ہے بستہ تین کتابیں لے کر تم اسکول گئے تھے اک پانی کی بوتل تھی اور لنچ بکس تھا اتنا بھاری کیوں ہے بستہ بولا بابا میں کیا بولوں روز تو یہ ہلکا ہوتا ہے آج نہ جانے بھاری کیوں ہے مجھ کو کچھ تشویش ...

مزید پڑھیے

الجھن

کس سے پوچھوں میرے مالک میرے جسم سے مجھ کو اب یہ خون کی بو کیوں آتی ہے جبکہ کوئی زخم نہیں ہے گھاؤ نہیں جو دکھتا ہو پھر یہ کیسی بو ہے جو سانسوں میں رینگتی رہتی ہے کپڑوں سے چمٹی ہے میرے دروازوں سے دیواروں سے میز پہ رکھے اخباروں سے رستی ہے کیسے میں اس خون کی باسی بو سے چھٹکارا پاؤں ...

مزید پڑھیے

میڈ فار ایچ ادر

تمہیں کچھ خبر ہے کہ جب میں نہیں تھا تو تب میں کہاں تھا میں اک ماس بن کر کسی سخت گھیرے میں جکڑا ہوا تھا میں خونیں اندھیروں میں لتھڑا ہوا تھا نہیں جانتا تھا کہ میں ہوں کہاں ہوں نہیں جانتا تھا کہ تم ہو کہاں ہو تمہیں کچھ خبر ہے کوئی شکل لے کر میں جنما تھا جس دن میں جنما نہیں تھا کھلی ...

مزید پڑھیے

نوستالجیا

بیس برس وہ پرانی شرٹ نکلی ہے الماری سے میں نے تہہ کر کے اس کو الماری کے سب سے اوپر والے خانے میں رکھا تھا جیسے میری بوڑھی ماں قرآن کو چوم کے رکھتی تھی تیری یادوں کے پرفیوم کے دھبے پڑے ہیں اب تک اور میں چھو کر دیکھوں تو خوشبو بھی اب تک گئی نہیں ہے وقت اس شرٹ کی آستین کا گھسا ہوا ہے بس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5351 سے 6203