قومی زبان

گلزار

وہ اک لمحہ بڑا مقدس تھا وہ اک لمحہ کہ جس میں آسماں سب آیتوں کا ورد کرتے تھے ستارے ہاتھ میں لے کر جہنم کی سلگتی اور دہکتی آگ کے اوپر فرشتے اپنے اپنے پنکھوں کی بوندیں جھٹکتے تھے خدا نے ایک لمحے کو نگاہیں موند کر اپنی تسلط کی گرہ کو ڈھیلا چھوڑا تھا نظام ازل توڑا تھا وہ اک لمحہ کہ جس ...

مزید پڑھیے

غنڈہ

موت بندوق لیے پھرتی ہے گلی کوچوں میں دندناتی ہے کان میں سیٹیاں بجاتی ہے آسماں ناک پر اٹھاتی ہوئی ٹھوکروں سے زمیں اڑاتی ہوئی تختیاں غور سے پڑھتی ہے سب مکانوں کی گالیاں بکتی گزرتی ہے ہر محلے سے ریز گاری بھی چراتی ہے روز گلے سے موت بندوق لیے پھرتی ہے کوئی گھر سے نکل نہیں پاتا اس کے ...

مزید پڑھیے

سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا

سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا پڑے جو آگ کا دریا تو پار کر جانا یہ اک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا کسی مقام سے چڑیوں کا کوچ کر جانا یہ انتقام ہے دشت بلا سے بادل کا سمندروں پہ برستے ہوئے گزر جانا تمہارا قرب بھی دوری کا استعارہ ہے کہ جیسے چاند کا تالاب میں اتر جانا طلوع مہر درخشاں ...

مزید پڑھیے

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا

اٹھتے ہوئے طوفان کا منظر نہیں دیکھا دیکھو مجھے گر تم نے سمندر نہیں دیکھا گزرا ہوا لمحہ تھا کہ بہتا ہوا دریا پھر میری طرف اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا اک دشت ملا کوچۂ جاناں سے نکل کر ہم نے تو کبھی عشق کو بے گھر نہیں دیکھا تھے سنگ تو بیتاب بہت نقش گری کو ہم نے ہی انہیں آنکھ اٹھا کر ...

مزید پڑھیے

سوائے دربدری اس کو خاک ملتا ہے

سوائے دربدری اس کو خاک ملتا ہے جو آسمان سے اپنی زمیں بدلتا ہے میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں رات کو تنہا چراغ لے کے کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے عجیب ہوتا ہے نظارگان شوق کا حال ردائے ماہ پہن کر وہ جب نکلتا ہے بروئے چشم ردائے حجاب تان لی جائے وہ زیر سایۂ گل پیرہن بدلتا ہے فریب قرب تو ...

مزید پڑھیے

اب بھی ذروں پہ ستاروں کا گماں ہے کہ نہیں

اب بھی ذروں پہ ستاروں کا گماں ہے کہ نہیں زیر پا اب بھی ترے کاہکشاں ہے کہ نہیں اب بھی وہ جشن طرب ہے کہ نہیں مقتل میں اک تماشے کو ہجوم نگراں ہے کہ نہیں اب بھی فریاد بہ لب ہے کہ نہیں راندۂ عشق وہ ہی بے چارگیٔ دل زدگاں ہے کہ نہیں کہیے نم ہے کہ نہیں چشم ندامت آثار قافلے والوں کو احساس ...

مزید پڑھیے

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے

گنتی میں بے شمار تھے کم کر دیے گئے ہم ساتھ کے قبیلوں میں ضم کر دیے گئے پہلے نصاب عقل ہوا ہم سے انتساب پھر یوں ہوا کہ قتل بھی ہم کر دیے گئے پہلے لہولہان کیا ہم کو شہر نے پھر پیرہن ہمارے علم کر دیے گئے پہلے ہی کم تھی قریۂ جاناں میں روشنی اور اس پہ کچھ چراغ بھی کم کر دیے گئے اس دور ...

مزید پڑھیے

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے

وہ کہ ہر عہد محبت سے مکرتا جائے دل وہ ظالم کہ اسی شخص پہ مرتا جائے میرے پہلو میں وہ آیا بھی تو خوشبو کی طرح میں اسے جتنا سمیٹوں وہ بکھرتا جائے کھلتے جائیں جو ترے بند قبا زلف کے ساتھ رنگ پیراہن شب اور نکھرتا جائے عشق کی نرم نگاہی سے حنا ہوں رخسار حسن وہ حسن جو دیکھے سے نکھرتا ...

مزید پڑھیے

سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا

سفر میں راہ کے آشوب سے نہ ڈر جانا پڑے جو آگ کا دریا تو پار کر جانا یہ اک اشارہ ہے آفات ناگہانی کا کسی جگہ سے پرندوں کا کوچ کر جانا تمہارا قرب بھی دوری کا استعارہ ہے کہ جیسے چاند کا تالاب میں اتر جانا طلوع مہر درخشاں کی اک علامت ہے اٹھائے شمع یقیں اس کا دار پر جانا ہم اپنے عشق کی ...

مزید پڑھیے

آئنہ خانہ بھی اندوہ تمنا نکلا

آئنہ خانہ بھی اندوہ تمنا نکلا غور سے دیکھا تو اپنا ہی تماشا نکلا زندگی محفل شب کی تھی پس انداز شراب پینے بیٹھے تو بس اک گھونٹ ذرا سا نکلا پھر چلا موسم وحشت میں سر مقتل عشق قرعۂ فال مرے نام دوبارہ نکلا داد شائستگیٔ غم کی توقع بے سود دل بھی کم بخت طرفدار اسی کا نکلا ہے عجب طرز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5352 سے 6203