قومی زبان

قید خانے کی ہوا میں شور ہے آلام کا

قید خانے کی ہوا میں شور ہے آلام کا بھید کھلتا کیوں نہیں اے دل ترے آرام کا فاختائیں بولتی ہیں بجروں کے دیس میں تو بھی سن لے آسماں یہ گیت میرے نام کا ٹھنڈے پانی کے گگن میں ساتویں کا چاند ہے یا گرا ہے برف میں کنگرا تمہارے بام کا کوکتا پھرتا ہے کوئی دھوپ کی گلیوں میں شخص سن لیا ہے ...

مزید پڑھیے

امن قریوں کی شفق فام سنہری چڑیاں

امن قریوں کی شفق فام سنہری چڑیاں میرے کھیتوں میں اڑیں شام سنہری چڑیاں ناریاں دل کے مضافات میں اتریں آ کر ہو بہو جیسے سر بام سنہری چڑیاں میرے اسلوب میں کہتی ہیں فسانے گل کے چہلیں کرتی ہیں مرے نام سنہری چڑیاں کچی عمروں کے شریروں کو سلامی میری جن کے اطراف بنیں دام سنہری ...

مزید پڑھیے

ہوا کے تخت پر اگر تمام عمر تو رہا

ہوا کے تخت پر اگر تمام عمر تو رہا مجھے خبر نہ ہو سکی پہ ساتھ ساتھ میں بھی تھا چمکتے نور کے دنوں میں تیرے آستاں سے دور وہ میں کہ آفتاب کی سفید شاخ پر کھلا حجاب آ گیا تھا مجھ کو دل کے اضطراب پر یہی سبب ہے تیرے در پہ لوٹ کر نہ آ سکا وہ کس مکاں کی دھوپ تھی، گلی گلی میں بھر گئی وہ کون ...

مزید پڑھیے

زرد پھولوں میں بسا خواب میں رہنے والا

زرد پھولوں میں بسا خواب میں رہنے والا دھند میں الجھا رہا نیند میں چلنے والا دھوپ کے شہر مری جاں سے لپٹ کر روئے سرد شاموں کی طرف میں تھا نکلنے والا کر گیا آپ کی دیوار کے سائے پہ یقیں میں درختوں کے ہرے دیس کا رہنے والا اس کے تالاب کی بطخیں بھی کنول بھی روئے ریت کے ملک میں ہجرت تھا ...

مزید پڑھیے

چاندی والے، شیشے والے، آنکھوں والے شہر میں

چاندی والے، شیشے والے، آنکھوں والے شہر میں کھو گیا اک شخص مجھ سے، دیکھے بھالے شہر میں مندروں کے صحن میں صدیوں پرانی گھنٹیاں دیویوں کے حسن کے کہنہ حوالے شہر میں سرد راتوں کی ہوا میں اڑتے پتوں کے مثیل کون تیرے شب نوردوں کو سنبھالے شہر میں کانچ کی شاخوں پہ لٹکے تیری وحشت کے ...

مزید پڑھیے

حریم دل، کہ سر بسر جو روشنی سے بھر گیا

حریم دل، کہ سر بسر جو روشنی سے بھر گیا کسے خبر، میں کن دیوں کی راہ سے گزر گیا غبار شہر میں اسے نہ ڈھونڈ جو خزاں کی شب ہوا کی راہ سے ملا، ہوا کی راہ پر گیا ترے نواح میں رہا مگر میان دین و دل گجر بجا تو جی اٹھا، سنی اذاں تو مر گیا سفید پتھروں کے گھر، گھروں میں تیرگی کے غم ہزار غم کا ...

مزید پڑھیے

دل کے داغ میں سیسہ ہے اور زخم جگر میں تانبا ہے

دل کے داغ میں سیسہ ہے اور زخم جگر میں تانبا ہے اتنا بھاری سینہ لے کر شخص آوارہ پھرتا ہے کانچ کے ریزے تیز ہوا میں باؤلے اڑتے پھرتے ہیں ننگے بدن کی چاندنی سے پھر تارا تارا گرتا ہے آدھے پیڑ پہ سبز پرندے آدھا پیڑ آسیبی ہے کیسے کھلے یہ رام کہانی کون سا حصہ میرا ہے کالے دیوتا مٹھی ...

مزید پڑھیے

کنول ہوں آب میں خوش گل صبا میں شاد رہیں

کنول ہوں آب میں خوش گل صبا میں شاد رہیں ترے حزیں تری آب و ہوا میں شاد رہیں پلٹ کے دیس کے باغوں میں ہم نہ جائیں گے شفق مزاج ہیں صحرا سرا میں شاد رہیں چراغ بانٹنے والوں پہ حیرتیں نہ کرو یہ آفتاب ہیں، شب کی دعا میں شاد رہیں گلوں کی کھیتیاں کاٹی ترے شہیدوں نے گلاب گوندھنے والے عزا ...

مزید پڑھیے

گھنٹیاں بجنے سے پہلے شام ہونے کے قریب

گھنٹیاں بجنے سے پہلے شام ہونے کے قریب چھوڑ جاتا میں ترا گاؤں مگر میرے نصیب دھوپ پھیلی تو کہا دیوار نے جھک کر مجھے مل گلے میرے مسافر، میرے سائے کے حبیب لوٹ آئے ہیں شفق سے لوگ بے نیل مرام رنگ پلکوں سے اٹھا لائے مگر تیرے نجیب میں وہ پردیسی نہیں جس کا نہ ہو پرساں کوئی سبز باغوں کے ...

مزید پڑھیے

غنچہ غنچہ ہنس رہا تھا، پتی پتی رو گیا

غنچہ غنچہ ہنس رہا تھا، پتی پتی رو گیا پھول والوں کی گلی میں گل تماشا ہو گیا ہم نے دیکھیں دھوپ کی سڑکوں پہ جس کی وحشتیں رات کے سینے سے لگ کر آخرش وہ سو گیا آسماں کے روزنوں سے لوٹ آتا تھا کبھی وہ کبوتر اک حویلی کے چھجوں میں کھو گیا اک گلی کے نور نے تاریک کتنے گھر کیے وہ نہ لوٹا شخص ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5338 سے 6203