قومی زبان

میں جب وجود کے حیرت کدے سے مل رہا تھا

میں جب وجود کے حیرت کدے سے مل رہا تھا مجھے لگا میں کسی معجزے سے مل رہا تھا میں جاگتا تھا کہ جب لوگ سو چکے تھے تمام چراغ مجھ سے مرے تجربے سے مل رہا تھا ہوس سے ہوتا ہوا آ گیا میں عشق کی سمت یہ سلسلہ بھی اسی راستے سے مل رہا تھا خدا سے پہلی ملاقات ہو رہی تھی مری میں اپنے آپ کو جب سامنے ...

مزید پڑھیے

اک ہجرت کی آوازوں کا

اک ہجرت کی آوازوں کا کوئی بین سنے دروازوں کا زکریا پیڑوں کی مت سن یہ جنگل ہے خمیازوں کا ترے سر میں سوز نہیں پیارے تو اہل نہیں مرے سازوں کا اوروں کو صلاحیں دیتا ہے کوئی ڈسا ہوا اندازوں کا مرا نخرہ کرنا بنتا ہے میں غازی ہوں ترے غازوں کا اک ریڑھی والا منکر ہے تری توپوں اور ...

مزید پڑھیے

اف ادائیں دکھا رہی ہیں وہ

اف ادائیں دکھا رہی ہیں وہ مسکرا کر ستا رہی ہیں وہ ہم فقیرو کی اپنے کوچے میں ایک محفل سجا رہی ہیں وہ کب سے نظریں بچائے بیٹھے ہیں یہ خبر ہے کہ آ رہی ہیں وہ ہے گہن چاند کو لگا دیکھا رخ سے پردہ اٹھا رہی ہیں وہ سارے عالم میں پھیلی بے چینی زلف بکھرائے جا رہی ہیں وہ زلف ماتھے پہ ...

مزید پڑھیے

وہ حسن بے مثال کہاں جلوہ گر نہیں

وہ حسن بے مثال کہاں جلوہ گر نہیں اپنا قصور ہے ہمیں تاب نظر نہیں سنتے ہیں چاند رات کو آیا تھا بام تک پھر اس کے بعد کیا ہوا کچھ بھی خبر نہیں اس کے سراپا حسن کی تعریف کیا کریں سر تا قدم پری ہے فقط اس کے پر نہیں بکھرے ہوئے ہیں بال ستاروں کی چھاؤں میں سجدے میں گر پڑیں گے ستارے یہ در ...

مزید پڑھیے

تیری زلفوں کے پیچ و خم کی قسم

تیری زلفوں کے پیچ و خم کی قسم چین سے ہیں تیرے ستم کی قسم جس نے دیکھیں سو دل گنوا بیٹھا تیری آنکھیں وہ جام جم کی قسم ہم تو دیکھا کیے تھے حسرت سے سرخیٔ لب کو چشم نم کی قسم لڑکھڑانا ہے ان کی فطرت میں کون کھائے تیرے قدم کی قسم جانے کب پی تھی پر نشہ نہ گیا میرے ساقی تیرے کرم کی ...

مزید پڑھیے

تیرے وعدے پہ اعتبار کیا

تیرے وعدے پہ اعتبار کیا مضطرب دل نے بار بار کیا ہم نے تو اس جہان فانی میں ہو سکا جتنا انتظار کیا اس کو آنہ ہے آئے گا لیکن کب قضا نے خیال یار کیا دامن عشق وقت نے آخر دیکھ تو کیسا تار تار کیا دل کے خس خانے جب سلگنے لگے ہم نے آنکھوں کو آبشار کیا تیری مجبوریاں رہی ہوں گی ٹھیک ہے ہم ...

مزید پڑھیے

ہجر بنا آزار سفر کیسے کٹتا

ہجر بنا آزار سفر کیسے کٹتا عشق کے روگ ہزار سفر کیسے کٹتا دھوپ کا بوجھ سروں پر آخر آن گرا ختم ہوئے اشجار سفر کیسے کٹتا کیا بتلائیں اپنی خالی جھولی میں سانسیں تھیں دو چار سفر کیسے کٹتا دیکھتے دیکھتے نظروں سے معدوم ہوئے رستوں کے آثار سفر کیسے کٹتا پیچھے بے حس دن کے خوف تھا اور ...

مزید پڑھیے

اپنی دیوار اپنے در والے

اپنی دیوار اپنے در والے ہم صبا زاد تھے سحر والے یہ اڑانیں پروں پہ لکھی ہیں ہم پرندے نہیں شجر والے کھل رہا ہے شگاف صبح فلک شب کے وقفے نہیں ہیں ڈر والے کیا خدا آئے گا زمیں پر اب کھو گئے کس جگہ ہنر والے مل بھی جاتے تو رک نہیں پاتے ہم سفر والے تم سفر والے

مزید پڑھیے

میری املاک سمجھ بے سر و سامانی کو

میری املاک سمجھ بے سر و سامانی کو ایک مدت سے میں لاحق ہوں پریشانی کو اب یہ معمول کے غم مجھ کو رلانے سے رہے سانحے چاہئیں اشکوں کی فراوانی کو لوٹ آئے گی جو افلاک سے فریاد مری کون بخشے گا سند میری ثنا خوانی کو پیش منظر بھی وہی تھا جو پس ذات رہا غم کی میراث ملی آنکھ کی حیرانی ...

مزید پڑھیے

یہ کیا کہ خلق کو پورا دکھائی دیتا ہوں

یہ کیا کہ خلق کو پورا دکھائی دیتا ہوں مگر میں خود کو ادھورا سجھائی دیتا ہوں اجل کو جا کے گریبان سے پکڑ لائے میں زندگی کو وہاں تک رسائی دیتا ہوں میں اپنے جسم کے سب منقسم حوالوں کو بنام رزق سخن کی کمائی دیتا ہوں وہ زندگی میں مجھے پھر کبھی نہیں ملتا میں اپنے خوابوں سے جس کو رہائی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5304 سے 6203