قومی زبان

غفلت میں سویا اب تلک پھر ہووے گا ہشیار کب

غفلت میں سویا اب تلک پھر ہووے گا ہشیار کب یاری لگایا خلق سوں پاوے گا اپنا یار کب جھوٹی محبت باندھ کر غافل رہا اپنے سوں حیف بلبل ہوں سنپڑا دام میں دیکھے گا پھر گل زار کب یہ خواب و خور فرزند و زن اور مال و زر زنداں ہوا تو چھوٹ کر اس قید سوں حاصل کرے دیدار کب حرص و ہوا بغض و حسد کبر ...

مزید پڑھیے

لگا کر عشق کا کجرا نین کو

لگا کر عشق کا کجرا نین کو دکھاؤں یاں سیتی حب الوطن کو بزاں لے جاؤں ہر لحظے میں اک بار کہ جب لگ روح سوں رشتہ ہے تن کو رہے عالم میں اس کا سیر اور طیر نہ دیکھے اس کے کوئی مستانے پن کو چمن سوں دل کے عالم کو خبر نہیں ہمیشہ دیکھتے خاکی بدن کو کر آؤں سیر دل کے بوستاں کا نہ جاوے وہ کبھی ...

مزید پڑھیے

عبث کیوں عمر سونے میں گنوایا

عبث کیوں عمر سونے میں گنوایا جو کوئی جاگا سو اپنے پیو کو پایا مسافر راہ پر سونا بھلا نہیں جو کوئی سویا وہی حسرت لجایا جتن ہشیار لے جا مال اور دھن جہاں میں آ کے تو جو کچھ کمایا اگر کوئی سو رہے رہ میں خطر کے گنوایا مال اپنے کو کھپایا علیمؔ اللہ سوتا تھا خواب میں مست کریم اپنا ...

مزید پڑھیے

نور حق بے حجاب عشق اللہ

نور حق بے حجاب عشق اللہ یاد دلبر شراب عشق اللہ می محبت کے آسماں پہ ظہور پرتو آفتاب عشق اللہ جب دکھاتا ہے رب جمال اپنا دیکھ لے بے نقاب عشق اللہ عشق میں دل ربا کے اے زاہد سرنگوں شیخ و شاب عشق اللہ بزم لاہوت میں سن اے درویش ہے صدائے رباب عش اللہ جو سنا ہے صدائے سر نگوں وو چہ پایا ...

مزید پڑھیے

راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو

راہ میں حق کے عزیزاں آپ کو قرباں کرو یا نہیں اس پر تصدق اپنا جسم و جاں کرو سالکاں کب لگ چلو گے رہ میں حق کے مور چل عشق کی تیزی کو اپنے چھیڑ کر جولاں کرو کاں تلک خاطر رکھو گے آرزو میں تنگ کر غنچہ دل باد صبا سوں عشق کے خنداں کرو عقل نفسانی تمن میں برقعۂ حیوان ہے پھاڑ کر پردہ نظر کا ...

مزید پڑھیے

بحریؔ پچھانے نیں اسے گل کے سو وہ دم ساز تھے

بحریؔ پچھانے نیں اسے گل کے سو وہ دم ساز تھے چنچل چھبیلے چلبلے مغرور صاحب ناز تھے نیں خوب دیکھے تم اسے وہ عاشقوں کا تخت تھا مثل سلیماں بر ہوا در نیم-شب پرواز تھے کیا پارسا کا پیرہن اور تجھ گدا کی گودڑی مل کے سو اپنے پاؤں تل جسمانیاں سوں پاز تھے تأمل کے تم کو دور سے جو بھول گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5286 سے 6203