قومی زبان

سوکھی ٹہنی پر ہریل

ہم چشموں کے غول مگن ہیں شاخوں پر خوش رفتار ہوائیں پنکھے جھلتی ہیں گولر کے کچے پھل بھی ہر جانب ہیں میٹھے پانی والی جھیل ہے پہلو میں موسم کی شطرنجی چالیں عنقا ہیں کوئی شکاری بھی اس سمت نہیں آتا ہرے بھرے جنگل کی مشفق بانہوں میں رات گئے جانے کیا برسا ہے دل پر الگ تھلگ برگد کی سوکھی ...

مزید پڑھیے

یدھشٹھر

ابھی چیڑ کے جنگلوں سے گزرنا بہت جاں فزا ہے کئی میل کے بعد برفیلے تودوں کا صحرا ملے گا جہاں سرد پروائیوں کے تھپیڑے تھرکتے ملیں گے عمودی ڈھلانوں کا اک سلسلہ بھی ملے گا اچانک جسے پار کرنے کی دھن میں تمہیں اپنے سب ساتھیوں کو گلانا پڑے گا حسیں دروپدی اور تمہارے جری بھائیوں کی ...

مزید پڑھیے

خود بھی صیاد امتحان میں ہے

خود بھی صیاد امتحان میں ہے ایک ہی تیر اب کمان میں ہے دھوپ اب آ گئی منڈیروں پر صبح کا شور میرے کان میں ہے دن مرا ڈھل گیا تو غم کیسا دھوپ اب بھی بہت سی لان میں ہے اس کو مجھ پر یقیں نہیں ہوتا جانے وہ کون سے گمان میں ہے آسماں کی طرف ہے اس کی نظر جو بھی اب عمر کی ڈھلان میں ہیں جو مکیں ...

مزید پڑھیے

سونے کی کوششیں تو بہت کی گئیں مگر

سونے کی کوششیں تو بہت کی گئیں مگر کیا کیجئے جو نیند سے جھگڑا ہو رات بھر میں نے خود اپنا سایہ ہی بانہوں میں بھر لیا اس کا خمار چھایا تھا مجھ پہ کچھ اس قدر آنکھوں میں چند خواب تھے اور دل میں کچھ امید جلتا رہا میں آگ کی مانند عمر بھر کیوں کوئی اس پے ڈالے نظر احترام کی کہلائے علم و ...

مزید پڑھیے

شہر کی ویراں سڑک پر جشن غم کرتے ہوئے

شہر کی ویراں سڑک پر جشن غم کرتے ہوئے جا رہا ہوں خشکئ مژگاں کو نم کرتے ہوئے زندگی تنہا سفر پر گامزن ہوتی ہوئی اور ہم یادوں کو پچھلی ہم قدم کرتے ہوئے بول اٹھتے ہیں کئی برسوں پرانے زخم بھی دل ہو جب مصروف اپنی چپ رقم کرتے ہوئے اس کا بھی کہنا یہی برباد ہو جاؤ گے تم اور ہم بھی ٹھیک ...

مزید پڑھیے

آج یوں ہی سر بہ سر دل بہت اداس ہے

آج یوں ہی سر بہ سر دل بہت اداس ہے بات کچھ نہیں مگر دل بہت اداس ہے جسم ہے تھکا ہوا حوصلہ نڈھال ہے اور سب سے پیشتر دل بہت اداس ہے شہر ممکنات میں ہو کے نہ امید میں پھر رہا ہوں در بہ در دل بہت اداس ہے پھر ہنسی کو دیکھ کر سب فریب کھا گئے ہے بھلا کسے خبر دل بہت اداس ہے پھر وہ قرب یار ہو ...

مزید پڑھیے

اس قدر بھی دل نہیں ٹوٹا ہوا

اس قدر بھی دل نہیں ٹوٹا ہوا کچھ سمٹ سکتا نہ ہو بکھرا ہوا کب تلک خود کو یہی کہتا رہوں دل پہ مت لے جو ہوا اچھا ہوا کون سے منظر پہ ٹھہرے آنکھ بھی سب نظر آتا ہے بس دیکھا ہوا ہم یقیں کر کے اسے پڑھتے رہے جو بھی تھا حرف گماں لکھا ہوا سب مراسم رکھ گیا دہلیز پر دل گرفتار انا ہوتا ...

مزید پڑھیے

تو گیا لیکن تری یادیں یہاں پر رہ گئیں

تو گیا لیکن تری یادیں یہاں پر رہ گئیں بعد تیرے بس تری باتیں زباں پر رہ گئیں پہلے تیری ذات کا پیکر کہیں پر گم ہوا اور نہ جانے پھر تری یادیں کہاں پر رہ گئیں آج پھر ایسا ہوا جب سوچ کر تجھ کو اے دوست آسماں تکتی نگاہیں آسماں پر رہ گئیں کیا ستم ہے کل تلک جو سامنے آنکھوں کے تھیں آج وہ ...

مزید پڑھیے

نشاط درد کا دریا اترنے والا ہے

نشاط درد کا دریا اترنے والا ہے میں اس سے اور وہ مجھ سے ابھرنے والا ہے میں اس کی نرم نگاہی سے ہو گیا مایوس وہ میری سادہ دلی سے مکرنے والا ہے وہ میرے عشق میں دیوانہ وار پھرنے لگے یہ معجزہ تو فقط فرض کرنے والا ہے مرے خیال کی پرواز سے جو واقف ہے وہ آشنا ہی مرے پر کترنے والا ہے ابھی ...

مزید پڑھیے

اب گماں ہے نہ یقیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں

اب گماں ہے نہ یقیں کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں آسماں کچھ بھی نہیں اور زمیں کچھ بھی نہیں مٹ گیا دل سے عقیدت کا بھرم یعنی اب اس کا در کچھ بھی نہیں اپنی جبیں کچھ بھی نہیں کیوں نہ یک رنگئ حالات سے جی اکتائے اب کوئی بزم طرب دور حزیں کچھ بھی نہیں اب تو ہر حسن و نظر رنگ و مہک ساز و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5277 سے 6203