قومی زبان

ہنستے ہوئے چہرے میں کوئی شام چھپی تھی

ہنستے ہوئے چہرے میں کوئی شام چھپی تھی خوش لہجہ تخاطب کی کھنک نیم چڑھی تھی جلووں کی انا توڑ گئی ایک ہی پل میں کچنار سی بجلی میرے سینے میں اڑی تھی پیتا رہا دریا کے تموج کو شناور ہونٹوں پہ ندی کے بھی عجب تشنہ لبی تھی خوش رنگ معانی کے تعاقب میں رہا میں خط لب لعلیں کی ہر اک موج خفی ...

مزید پڑھیے

دروازہ وا کر کے روز نکلتا تھا

دروازہ وا کر کے روز نکلتا تھا صرف وہی اپنے گھر کا سرمایہ تھا کھڑے ہوئے تھے پیڑ جڑوں سے کٹ کر بھی تیز ہوا کا جھونکا آنے والا تھا اسی ندی میں اس کے بچے ڈوب گئے اسی ندی کا پانی اس کا پینا تھا سبز قبائیں روز لٹاتا تھا لیکن خود اس کے تن پر بوسیدہ کپڑا تھا باہر سارے میداں جیت چکا تھا ...

مزید پڑھیے

ایک ریاضت یہ بھی

وہی دریا کنارے روز اپنی بانس کی بنسی لیے بیٹھا ہوا وہ شخص کتنی بے نیازی سے ہر اک لمحہ کو اپنی خوش دلی سے داد دیتا ہے کہ جس کے روئے روشن پر قناعت مورچھل جھلتی ہوئی موتی لٹاتی ہے سحر تا شام لہروں سے وہ اپنی بات کہتا ہے ہواؤں کی مدھر سرگوشیوں پر کھلکھلاتا ہے پرندوں کے سہانے چہچہوں پر ...

مزید پڑھیے

نیلسن منڈیلا

یہ بر اعظم کی ساری بلائیں سنا ہے کہ اب منتشر ہو رہی ہیں فلک بوس تہذیب کے کیکٹس جھونپڑوں کی روایات کو ڈس رہے ہیں مگر کم نہیں یہ کہ اپنی زمیں اور اپنی فضا میں سیہ پیکروں کی دو دھاری انا اور آہن ارادوں نے اپنے لیے اب نئے تیوروں کے اجالے تراشے اندھیری زمینوں سے میرے نکالے خط استوا کے ...

مزید پڑھیے

مجھے خبر ہے مجھے یقیں ہے

مجھے خبر ہے یہ آبنوسی چٹان جو دوب کے سبز تختے پہ آ گری ہے نئی سبک نرم پتیوں کا سنگھار پی کر سنہرے لمحوں کی سانس میں پھانس بن کر اٹک گئی ہے مجھے یقیں ہے کہ موسموں کے طلسم یہ تیرگی اڑا کر اسی سلگتی چٹان پر دوب کی سبز زلفیں بکھیر دیں گے مجھے یقیں ہے مرے کٹے بازوؤں کی طاقت مری رگوں سے ...

مزید پڑھیے

ببول کے درخت سے کہو

ببول کے درخت سے کہو ابھی مشام جاں میں ہر سنگھار کی شگفتگی بڑے ہی انہماک سے بہار پاش ہے یہاں جو مڑ کے دیکھتا ہوں ادھ جلے گلاب کا بدن شہادتوں کے رمز پر سنگھار بھی لٹا گیا جو مڑ کے دیکھتا ہوں فاختہ کا احمریں لہو جبین جور کی سبھی رعونتیں مٹا گیا مرے خلاف سازشوں کا یہ مہیب سلسلہ مری ...

مزید پڑھیے

ہم خواب زدہ

ہم خواب زدہ پیلے موسم کے انگاروں سے جلے ہوئے پلکوں میں رنگ برنگے خاکے بھرے ہوئے سانسوں کو روکے ہوئے مسلسل خوابیدہ ہیں دیکھ رہے ہیں خود کو جنگل اور پہاڑوں کے شانوں پر اڑتے ہوئے آگ اگلتے جھرنوں کی بانہوں میں نغمے گاتے ہوئے خوش پیکر روپوش پرندوں کے ہمراہ فضا کی وسعت کو لرزیدہ کرتے ...

مزید پڑھیے

انبساط ازلی

اونچی نیچی دوب پر لہراتا ہوا کالا ناگ جھیل کے بانہوں سے پھوٹتا ہوا جوالامکھی رنگ برنگے پنچھی کو پنجوں میں دبائے ہوئے باز چٹانوں کے پیچھے مردہ جانور کی صاف و شفاف ٹھٹھری پر بھاگتے ہوئے سیاہ چوہوں کی قطار چاندنی رات میں مچھلی پر جھپٹتا ہوا اودبلاؤ پتنگے کو پکڑنے کے لیے لپکتی ...

مزید پڑھیے

گلابی چونچ

گلابی چونچ میں کیڑے لیے اڑتی ہے گوریا جدھر اک آشیاں میں اس کے بچوں نے ابھی آنکھیں نہیں کھولیں مگر ہیں بھوک سے بے کل مچھیرے صبح کی دھندھلی رداؤں میں پرانے چھپروں کی کوکھ سے شانوں پہ رکھ کر جال نکلے ہیں وہیں پر کھانستے ہیں چند محنت کش الاؤ کے کنارے بیڑیاں پی کر فلک پیما عمارت کے ...

مزید پڑھیے

دھنک

ایک کتا جھاڑیوں میں لا وارث نو مولود بچے کی حفاظت کر رہا تھا ایک ماں اپنے ننھے بچے کے گال پر کاجل کا ٹیکہ لگا رہی تھی ایک معصوم بچے کی انگلی پکڑ کر ایک بوڑھا اور نا بینا شخص سڑک پار کر رہا تھا رامش و رنگ میں ڈوبی ہوئی برات میں ہنڈیوں کو اپنے سروں پر مزدور اٹھائے ہوئے تھے میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5276 سے 6203