ہنستے ہوئے چہرے میں کوئی شام چھپی تھی
ہنستے ہوئے چہرے میں کوئی شام چھپی تھی خوش لہجہ تخاطب کی کھنک نیم چڑھی تھی جلووں کی انا توڑ گئی ایک ہی پل میں کچنار سی بجلی میرے سینے میں اڑی تھی پیتا رہا دریا کے تموج کو شناور ہونٹوں پہ ندی کے بھی عجب تشنہ لبی تھی خوش رنگ معانی کے تعاقب میں رہا میں خط لب لعلیں کی ہر اک موج خفی ...