قومی زبان

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں

کوئی محرم نہیں ملتا جہاں میں مجھے کہنا ہے کچھ اپنی زباں میں قفس میں جی نہیں لگتا کسی طرح لگا دو آگ کوئی آشیاں میں کوئی دن بوالہوس بھی شاد ہو لیں دھرا کیا ہے اشارات نہاں میں کہیں انجام آ پہنچا وفا کا گھلا جاتا ہوں اب کے امتحاں میں نیا ہے لیجئے جب نام اس کا بہت وسعت ہے میری ...

مزید پڑھیے

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے

کہہ دو کوئی ساقی سے کہ ہم مرتے ہیں پیاسے گر مے نہیں دے زہر ہی کا جام بلا سے جو کچھ ہے سو ہے اس کے تغافل کی شکایت قاصد سے ہے تکرار نہ جھگڑا ہے صبا سے دلالہ نے امید دلائی تو ہے لیکن دیتے نہیں کچھ دل کو تسلی یہ دلاسے ہے وصل تو تقدیر کے ہاتھ اے شہ خوباں یاں ہیں تو فقط تیری محبت کے ہیں ...

مزید پڑھیے

خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم

خوبیاں اپنے میں گو بے انتہا پاتے ہیں ہم پر ہر اک خوبی میں داغ اک عیب کا پاتے ہیں ہم خوف کا کوئی نشاں ظاہر نہیں افعال میں گو کہ دل میں متصل خوف خدا پاتے ہیں ہم کرتے ہیں طاعت تو کچھ خواہاں نمائش کے نہیں پر گنہ چھپ چھپ کے کرنے میں مزا پاتے ہیں ہم دیدہ و دل کو خیانت سے نہیں رکھ سکتے ...

مزید پڑھیے

آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم

آگے بڑھے نہ قصۂ عشق بتاں سے ہم سب کچھ کہا مگر نہ کھلے راز داں سے ہم اب بھاگتے ہیں سایۂ عشق بتاں سے ہم کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم ہنستے ہیں اس کے گریۂ بے اختیار پر بھولے ہیں بات کہہ کے کوئی راز داں سے ہم اب شوق سے بگڑ کے ہی باتیں کیا کرو کچھ پا گئے ہیں آپ کے طرز بیاں سے ...

مزید پڑھیے

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا

دل سے خیال دوست بھلایا نہ جائے گا سینے میں داغ ہے کہ مٹایا نہ جائے گا تم کو ہزار شرم سہی مجھ کو لاکھ ضبط الفت وہ راز ہے کہ چھپایا نہ جائے گا اے دل رضائے غیر ہے شرط رضائے دوست زنہار بار عشق اٹھایا نہ جائے گا دیکھی ہیں ایسی ان کی بہت مہربانیاں اب ہم سے منہ میں موت کے جایا نہ جائے ...

مزید پڑھیے

حقیقت محرم اسرار سے پوچھ

حقیقت محرم اسرار سے پوچھ مزا انگور کا مے خوار سے پوچھ وفا اغیار کی اغیار سے سن مری الفت در و دیوار سے پوچھ ہماری آہ بے تاثیر کا حال کچھ اپنے دل سے کچھ اغیار سے پوچھ دلوں میں ڈالنا ذوق اسیری کمند گیسوئے خم دار سے پوچھ دل مہجور سے سن لذت وصل نشاط عافیت بیمار سے پوچھ نہیں جز ...

مزید پڑھیے

جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے

جنوں کار فرما ہوا چاہتا ہے قدم دشت پیما ہوا چاہتا ہے دم گریہ کس کا تصور ہے دل میں کہ اشک اشک دریا ہوا چاہتا ہے خط آنے لگے شکوہ آمیز ان کے ملاپ ان سے گویا ہوا چاہتا ہے بہت کام لینے تھے جس دل سے ہم کو وہ صرف تمنا ہوا چاہتا ہے ابھی لینے پائے نہیں دم جہاں میں اجل کا تقاضا ہوا چاہتا ...

مزید پڑھیے

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت

گو جوانی میں تھی کج رائی بہت پر جوانی ہم کو یاد آئی بہت زیر برقع تو نے کیا دکھلا دیا جمع ہیں ہر سو تماشائی بہت ہٹ پہ اس کی اور پس جاتے ہیں دل راس ہے کچھ اس کو خود رائی بہت سرو یا گل آنکھ میں جچتے نہیں دل پہ ہے نقش اس کی رعنائی بہت چور تھا زخموں میں اور کہتا تھا دل راحت اس تکلیف ...

مزید پڑھیے

حق وفا کے جو ہم جتانے لگے

حق وفا کے جو ہم جتانے لگے آپ کچھ کہہ کے مسکرانے لگے تھا یہاں دل میں طعن وصل عدو عذر ان کی زباں پہ آنے لگے ہم کو جینا پڑے گا فرقت میں وہ اگر ہمت آزمانے لگے ڈر ہے میری زباں نہ کھل جائے اب وہ باتیں بہت بنانے لگے جان بچتی نظر نہیں آتی غیر الفت بہت جتانے لگے تم کو کرنا پڑے گا عذر ...

مزید پڑھیے

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز

جیتے جی موت کے تم منہ میں نہ جانا ہرگز دوستو دل نہ لگانا نہ لگانا ہرگز عشق بھی تاک میں بیٹھا ہے نظر بازوں کی دیکھنا شیر سے آنکھیں نہ لڑانا ہرگز ہاتھ ملنے نہ ہوں پیری میں اگر حسرت سے تو جوانی میں نہ یہ روگ بسانا ہرگز جتنے رستے تھے ترے ہو گئے ویراں اے عشق آ کے ویرانوں میں اب گھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5264 سے 6203