مسٹر کافی
اک یار سے میں نے کہا دو لفظ ہی لکھ دو چلتی ہے سفارش یہاں اور تم ہو صحافی کہنے لگے کافی کی پیالی کو اٹھا کر بس نام بتا دینا مرا نام ہے کافی
اک یار سے میں نے کہا دو لفظ ہی لکھ دو چلتی ہے سفارش یہاں اور تم ہو صحافی کہنے لگے کافی کی پیالی کو اٹھا کر بس نام بتا دینا مرا نام ہے کافی
ٹریفک کے اک افسر سے یہ بولیں ایک محترمہ ہمیں مجبور کیوں کرتے ہو تم رکنے رکانے پر ہماری عمر اب ایسی ہے ہم سیٹی نہیں سنتے رکا کرتے تھے خوش ہو کر کبھی سیٹی بجانے پر
بھولے سے بھی لب پر سخن اپنا نہیں آتا ہاں ہاں مجھے دنیا میں پنپنا نہیں آتا دل کو سر الفت بھی ہے رسوائی کا ڈر بھی اس کو ابھی اس آنچ میں تپنا نہیں آتا یہ اشک مسلسل ہیں محض اشک مسلسل ہاں نام تمہارا مجھے جپنا نہیں آتا تم اپنے کلیجہ پہ ذرا ہاتھ تو رکھو کیوں اب بھی کہوگے کہ تڑپنا نہیں ...
مری باتوں پہ دنیا کی ہنسی کم ہوتی جاتی ہے مری دیوانگی شاید مسلم ہوتی جاتی ہے توجہ کی نظر میری طرف کم ہوتی جاتی ہے میں خوش ہوں عشق کی بنیاد محکم ہوتی جاتی ہے ضرورت کچھ بھی کہنے کی بہت کم ہوتی جاتی ہے مری صورت ہی اب شوق مجسم ہوتی جاتی ہے کبھی تو نے پکارا تھا مجھے کچھ شک سا ہوتا ...
محبت سے بھی کار زندگی آساں نہیں ہوتا بہل جاتا ہے دل غم کا مگر درماں نہیں ہوتا کلی دل کی کھلے افسوس یہ ساماں نہیں ہوتا گھٹائیں گھر کے آتی ہیں مگر باراں نہیں ہوتا محبت کے عوض میں او محبت ڈھونڈنے والے یہ دنیا ہے یہاں ایسا ارے ناداں نہیں ہوتا دل ناکام اک تو ہی نہیں ہے صرف مشکل ...
ہجر کی شب گھڑی گھڑی دل سے یہی سوال ہے جس کے خیال میں ہوں گم اس کو بھی کچھ خیال ہے ہائے ری بے بسی شوق دل کا عجیب حال ہے اس کا جواب سن چکا پھر بھی وہی سوال ہے خواب و فسوں نہیں تو کیا دل یہ جنوں نہیں تو کیا خلوت دوست اور تو تیرا کہاں خیال ہے میں ترے در کو چھوڑ دوں شرط وفا کو توڑ ...
کیوں زیست کا ہر ایک فسانہ بدل گیا یہ ہم بدل گئے کہ زمانہ بدل گیا صیاد یاں وہی وہی طائر وہی ہیں دام لیکن جو زیر دام تھا دانہ بدل گیا بازیٔ حسن و عشق میں کچھ ہار ہے نہ جیت نظریں ملیں دلوں کا خزانہ بدل گیا بخت بشر وہی ہے بساط جہاں وہی ہر دور نو میں مات کا خانہ بدل گیا طاقت کے دوش پر ...
فتنہ پھر آج اٹھانے کو ہے سر لگتا ہے خون ہی خون مجھے رنگ سحر لگتا ہے علم کی دیو قدی دیکھ کے ڈر لگتا ہے آسمانوں سے اب انسان کا سر لگتا ہے مجھ کو لگتا ہے نشیمن کی مرے خیر نہیں جب کسی شاخ پہ گلشن میں تبر لگتا ہے مان لو کیسے کہ میں عیب سراپا ہوں فقط میرے احباب کا یہ حسن نظر لگتا ہے کل ...
جنوں کا دور ہے کس کس کو جائیں سمجھانے ادھر بھی ہوش کے دشمن ادھر بھی دیوانے کرم کرم ہے تو ہے فیض عام اس کا شعار یہ دشت ہے وہ گلستاں سحاب کیا جانے کسی میں دم نہیں اہل ستم سے کچھ بھی کہے ستم زدوں کو ہر اک آ رہا ہے سمجھانے بشر کے ذوق پرستش نے خود کیے تخلیق خدا و کعبہ کہیں اور کہیں ...
حیات اک ساز بے صدا تھی سرود عمر رواں سے پہلے بشر کی تقدیر سو رہی تھی خطائے باغ جناں سے پہلے نظر نے کی نذر روح و دل پیش لب پہ شور فغاں سے پہلے ادا ہوا سجدۂ محبت خروش بانگ اذاں سے پہلے بدل گیا عشق کا زمانہ کہاں سے پہنچا کہاں فسانہ انہیں بھی مجھ پر زبان آئی وہی جو تھے بے زباں سے ...