قومی زبان

نہ پوچھ منظر شام و سحر پہ کیا گزری

نہ پوچھ منظر شام و سحر پہ کیا گزری نگاہ جب بھی حقیقت سے آشنا گزری ہمارے واسطے ویرانئ نظر ہر سو ہمیں نے دشت سجائے ہمیں پہ کیا گزری نہ جانے کیسی حقیقت کا آئنہ ہوں میں نظر نظر مرے نزدیک سے خفا گزری یہ زرد ہو گئے کیسے ہرے بھرے اشجار جو لوگ سائے میں بیٹھے تھے ان پہ کیا گزری غروب ...

مزید پڑھیے

دور بیٹھا ہوا تنہا سب سے

دور بیٹھا ہوا تنہا سب سے جانے کیا سوچ رہا ہوں کب سے اپنی تائید بھی دشوار ہوئی آئنہ ٹوٹ گیا ہے جب سے گھر سے نکلوں تو منا کر لاؤں وہ تبسم جو خفا ہے لب سے میرے الفاظ وہی ہیں لیکن میرا مفہوم جدا ہے سب سے جب سے آزاد کیا ہے اس نے ہر نفس ایک سزا ہے تب سے

مزید پڑھیے

خوف بن کر یہ خیال آتا ہے اکثر مجھ کو

خوف بن کر یہ خیال آتا ہے اکثر مجھ کو دشت کر جائے گا اک روز سمندر مجھ کو میں سراپا ہوں خبرنامۂ امروز جہاں کل بھلا دے نہ یہ دنیا کہیں پڑھ کر مجھ کو ہر نفس مجھ میں تغیر کی ہوائے لرزاں مرتسم کر نہ سکا کوئی بھی منظر مجھ کو اپنے ساحل پہ میں خود تشنہ دہن بیٹھا ہوں دیکھ دریا کی ترائی سے ...

مزید پڑھیے

وہ سرپھری ہوا تھی سنبھلنا پڑا مجھے

وہ سرپھری ہوا تھی سنبھلنا پڑا مجھے میں آخری چراغ تھا جلنا پڑا مجھے محسوس کر رہا تھا اسے اپنے آس پاس اپنا خیال خود ہی بدلنا پڑا مجھے سورج نے چھپتے چھپتے اجاگر کیا تو تھا لیکن تمام رات پگھلنا پڑا مجھے موضوع گفتگو تھی مری خامشی کہیں جو زہر پی چکا تھا اگلنا پڑا مجھے کچھ دور تک تو ...

مزید پڑھیے

ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب

ہر گام حادثہ ہے ٹھہر جائیے جناب رستہ اگر ہو یاد تو گھر جائیے جناب زندہ حقیقتوں کے تلاطم ہیں سامنے خوابوں کی کشتیوں سے اتر جائیے جناب انصاف کی صلیب ہوں سچائیوں کا زہر مجھ سے ملے بغیر گزر جائیے جناب دن کا سفر تو کٹ گیا سورج کے ساتھ ساتھ اب شب کی انجمن میں بکھر جائیے جناب کوئی ...

مزید پڑھیے

زباں ہے مگر بے زبانوں میں ہے

زباں ہے مگر بے زبانوں میں ہے نصیحت کوئی اس کے کانوں میں ہے چلو ساحلوں کی طرف رخ کریں ابھی تو ہوا بادبانوں میں ہے زمیں پر ہو اپنی حفاظت کرو خدا تو میاں آسمانوں میں ہے نہ جانے یہ احساس کیوں ہے مجھے وہ اب تک مرے پاسبانوں میں ہے سجا تو لیے ہم نے دیوار و در اداسی ابھی تک مکانوں میں ...

مزید پڑھیے

بنتے ہیں فرزانے لوگ

بنتے ہیں فرزانے لوگ کتنے ہیں دیوانے لوگ دیر و حرم کی راہ سے ہی جاتے ہیں مے خانے لوگ دیکھ کے مجھ کو گم صم ہیں آئے تھے سمجھانے لوگ کیا سنتے ناصح کی بات ہم ٹھہرے دیوانے لوگ نیچی نظر سے مجھ کو نہ دیکھو گھڑ لیں گے افسانے لوگ دیوانہ کہتے ہیں امیرؔ خوب مجھے پہچانے لوگ

مزید پڑھیے

آنکھیں کھلی ہوئی ہیں تو منظر بھی آئے گا

آنکھیں کھلی ہوئی ہیں تو منظر بھی آئے گا کاندھوں پہ تیرے سر ہے تو پتھر بھی آئے گا ہر شام ایک مسئلہ گھر بھر کے واسطے بچہ بضد ہے چاند کو چھو کر بھی آئے گا اک دن سنوں گا اپنی سماعت پہ آہٹیں چپکے سے میرے دل میں کوئی ڈر بھی آئے گا تحریر کر رہا ہے ابھی حال تشنگاں پھر اس کے بعد وہ سر منبر ...

مزید پڑھیے

ہر رہ گزر میں کاہکشاں چھوڑ جاؤں گا

ہر رہ گزر میں کاہکشاں چھوڑ جاؤں گا زندہ ہوں زندگی کے نشاں چھوڑ جاؤں گا میں بھی تو آزماؤں گا اس کے خلوص کو اس کے لبوں پہ اپنی فغاں چھوڑ جاؤں گا میری طرح اسے بھی کوئی جستجو رہے از راہ احتیاط گماں چھوڑ جاؤں گا میرا بھی اور کوئی نہیں ہے ترے سوا اے شام غم تجھے میں کہاں چھوڑ جاؤں ...

مزید پڑھیے

نظر نظر حیرانی دے

نظر نظر حیرانی دے مجھ کو میرا ثانی دے جگنو پھول ستارہ چاند اپنی کوئی نشانی دے انسانوں کو دانا کر تھوڑی سی نادانی دے ہر چہرہ بے رنگت ہے شکل کوئی نورانی دے تیرے بچے پیاسے ہیں ان پودوں کو پانی دے راون رات جگاتا ہے کوئی رام کہانی دے مجھ کو مجھ سے دور نہ رکھ ملنے کی آسانی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5222 سے 6203