قومی زبان

اماں مجھ کو بستہ دے دے

اماں مجھ کو بستہ دے دے دنیا مجھ کو رستہ دے دے جانا ہے اسکول مجھے تو جانا ہے اسکول جان سکوں کہ اچھا کیا ہے کھرا ہے کیوں کر کھوٹا کیا ہے حق اور فرض میں فرق ہے کتنا سچ اور جھوٹ کا جھگڑا کیا ہے اماں مجھ کو بستہ دے دے دنیا مجھ کو رستہ دے دے جانا ہے اسکول مجھے تو جانا ہے اسکول آگ ہوا ...

مزید پڑھیے

وہ ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیں

کس سے پوچھوں وہ کیا شخص ہے جو مری آرزو کے جھروکوں میں ٹھہرے ہوئے سارے چہروں میں بکھرا ہوا ہے مگر خود ابھی اپنے چہرے میں اترا نہیں کس سے پوچھوں وہ کیا نام ہے جو مری دھڑکنوں کے مقدر میں مرقوم ہے اور وہ کیا اجنبی ہے جو صدیوں سے میرے خیالوں کے قریے میں آباد ہے مگر میرا صورت شناسا ...

مزید پڑھیے

آواز کے پتھر

کون آئے گا! شب بھر گرتے پتوں کی آوازیں مجھ سے کہتی ہیں کون آئے گا! کس کی آہٹ پر مٹی کے کان لگے ہیں! خوشبو کس کو ڈھونڈ رہی ہے! شبنم کا آشوب سمجھ اور دیکھ کہ ان پھولوں کی آنکھیں کس کا رستہ دیکھ رہی ہیں کس کی خاطر قریہ قریہ جاگ رہا ہے سونا رستہ گونج رہا ہے کس کی خاطر!! تنہائی کے ہول نگر ...

مزید پڑھیے

اے وقت ذرا تھم جا

اک خواب کی آہٹ سے یوں گونج اٹھیں گلیاں امبر پہ کھلے تارے باغوں میں ہنسیں کلیاں ساگر کی خموشی میں اک موج نے کروٹ لی اور چاند جھکا اس پر پھر بام ہوئے روشن کھڑکی کے کواڑوں پر سایہ سا کوئی لرزا اور تیز ہوئی دھڑکن پھر ٹوٹ گئی چوڑی، اجڑنے لگے منظر اک دست حنائی کی دستک سے کھلا دل میں اک ...

مزید پڑھیے

اے دل بے خبر

اے دل بے خبر جو ہوا جا چکی اب نہیں آئے گی جو شجر ٹوٹ جاتا ہے پھلتا نہیں واپسی موسموں کا مقدر تو ہے جو سماں بیت جائے پلٹتا نہیں جانے والے نہیں لوٹتے عمر بھر اب کسے ڈھونڈھتا ہے سر رہ گزر اے دل کم نظر اے مرے بے خبر اے مرے ہم سفر وہ تو خوشبو تھا اگلے نگر جا چکا چاندنی تھا ہوا صرف رنگ ...

مزید پڑھیے

شکست انا

آج کی رات بہت سرد بہت کالی ہے تیرگی ایسے لپٹتی ہے ہوائے غم سے اپنے بچھڑے ہوئے ساجن سے ملی ہے جیسے مشعل خواب کچھ اس طور بجھی ہے جیسے درد نے جاگتی آنکھوں کی چمک کھا لی ہے شوق کا نام نہ خواہش کا نشاں ہے کوئی برف کی سل نے مرے دل کی جگہ پا لی ہے اب دھندلکے بھی نہیں زینت چشم بے خواب آس کا ...

مزید پڑھیے

بزدل

ہجوم سنگ انا اور ضبط پیہم نے مثال ریگ رواں بے قرار رکھا ہے مرے وجود کی وحشت نے رات بھر مجھ کو غبار قافلۂ انتظار رکھا ہے بہ پیش خدمت چشم سراب آلودہ ہوا نے دست طلب بار بار رکھا ہے میں تیری یاد کے جادو میں تھا سحر مجھ کو نجانے کون سی منزل پہ لا کے چھوڑ گئی کہ سانس سانس میں تیرے بدن ...

مزید پڑھیے

ہم زاد

کچھ کیا جائے نہ سوچا جائے مڑ کے دیکھوں تو نہ دیکھا جائے میری تنہائی کی وحشت سے ہراساں ہو کر میرا سایہ میرے قدموں میں سمٹ آیا ہے کون ہے پھر جو مرے ساتھ چلا آتا ہے میرا سایہ تو نہیں!! کس کی آہٹ کا گماں یوں مرے پاؤں کی زنجیر بنا جاتا ہے دور تا حد نظر شہر کے آثار نہیں اور دشمن کی طرح شام ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5177 سے 6203