قومی زبان

جب دل ہی نہیں ہے پہلو میں پھر عشق کا سودا کون کرے

جب دل ہی نہیں ہے پہلو میں پھر عشق کا سودا کون کرے اب ان سے محبت کون کرے اب ان کی تمنا کون کرے اب ہجر کے صدمے سہنے کو پتھر کا کلیجہ کون کرے ان لمبی لمبی راتوں کا مر مر کے سویرا کون کرے ہم رسم وفا کو مانتے ہیں آداب محبت جانتے ہیں ہم بات کی تہہ پہچانتے ہیں پھر آپ کو رسوا کون کرے اے ...

مزید پڑھیے

صبح دم آیا تو کیا ہنگام شام آیا تو کیا

صبح دم آیا تو کیا ہنگام شام آیا تو کیا تو مری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا التفات اولیں کی بات ہی کچھ اور ہے مجھ تک ان کی بزم میں اب دور جام آیا تو کیا طاقت نظارہ جب منت پذیر ہوش ہو بہر جلوہ پھر کوئی بالائے بام آیا تو کیا شورش‌ ہنگامہ منصور کی تجدید ہے قتل کو میرے وہ با ایں ...

مزید پڑھیے

ذرا سی بات

زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں وقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہے سخت بے زمینی ہے سخت لا مکانی ہے ہجر کے سمندر میں تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے تم کو جو سنانی ہے بات گو ذرا سی ہے بات عمر بھر کی ہے عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ...

مزید پڑھیے

دیکھو میری باربی ڈال

دیکھو میری باربی ڈال دیکھو میری باربی ڈال نیلی نیلی آنکھیں اس کی خوب سنہرے بال دیکھو میری باربی ڈال کپڑے اس کے رنگ رنگیلے اجلے اجلے اور چمکیلے آنکھوں کو مٹکاتی ہے یہ بالوں کو لہراتی ہے یہ اچھے اچھے پیارے پیارے کیا کیا گیت سناتی ہے یہ دنیا بھر کی گڑیاؤں میں اس کی نہیں مثال دیکھو ...

مزید پڑھیے

مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے

مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے زمیں جس پہ میرے قدم ٹک سکیں اور تاروں بھرا کچھ فلک چاہیے مجھے اپنے جینے کا حق چاہیے نعمتیں جو میرے رب نے دھرتی کو دیں صاف پانی ہوا بارشیں چاندنی یہ تو ہر ابن آدم کی جاگیر ہیں یہ ہماری تمہاری کسی کی نہیں مجھ کو تعلیم صحت اور امید کی سات رنگوں بھری اک دھنک ...

مزید پڑھیے

آخری بوسہ

مرے ہونٹوں پہ اس کے آخری بوسے کی لذت ثبت ہے وہ اس کا آخری بوسہ جو مستقبل کے ہر اک خوف سے آزاد اک روشن ستارا تھا گزرتی رات کے ننگے بدن پر تل کی صورت قائم و دائم ہمیشہ جاگنے والا ستارا میں جسے اس آگ برساتے ہوئے سورج کے آگے جگمگاتا دیکھ سکتا ہوں وہ اس کا آخری بوسہ جو اس نفرت بھری دنیا ...

مزید پڑھیے

تجدید

اب مرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم یاد ہے تم نے کہا تھا ''جب نگاہوں میں چمک ہو لفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفس اس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنے تو وہ گھڑی عہد وفا کی ساعت نایاب ہے وہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافت جن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہے نگاہیں ...

مزید پڑھیے

دیس دیس میں پلنے والے پیارے پیارے بچو

دیس دیس میں پلنے والے پیارے پیارے بچو آنے والا کل ہے تمہارا اب تک تو حق دار نے پایا مشکل سے انصاف تم مت کرنا ظلم گوارا آنے والا کل ہے تمہارا نگر نگر کو اپنی روح کی آگ سے روشن کر دو دنیا کی مایوس نگاہیں امیدوں سے بھر دو مستقبل کی راہ سے چن لو سب انگارے بچو دیش دیش میں پلنے والے پیارے ...

مزید پڑھیے

ہری بھری اک شاخ بدن پر

ہری بھری اک شاخ بدن پر میرے لبوں کے لمس سے پھوٹے ایسے ایسے پھول سادہ سے ملبوس میں بھی وہ ساتوں رنگ کھلاتی ہے اپنے حسن کی تیز مہک سے لوگوں کے انبوہ میں بیٹھی یوں گھبرا سی جاتی ہے جیسے باتیں کرتے کوئی! جاتا ہے کچھ بھول میرے لبوں کے لمس سے پھوٹے ہری بھری ایک شاخ بدن پر کیسے کیسے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5178 سے 6203