زندگی
دنیا میں تجھ کو ہے اگر ارمان زندگی تدبیر سے تو باندھ لے پیمان زندگی تاب و تب عمل خلش کوشش دوام ان سے بہم پہنچتا ہے سامان زندگی کر لے رفو تو جوشش کردار سے اسے کیوں کر رہا ہے چاک گریبان زندگی جس زندگی میں جوش خودی کا نہ ہو خیال وہ زندگی نہیں کبھی شایان زندگی کر نوح بن کے اس کا تو ...