قومی زبان

زندگی

دنیا میں تجھ کو ہے اگر ارمان زندگی تدبیر سے تو باندھ لے پیمان زندگی تاب و تب عمل خلش کوشش دوام ان سے بہم پہنچتا ہے سامان زندگی کر لے رفو تو جوشش کردار سے اسے کیوں کر رہا ہے چاک گریبان زندگی جس زندگی میں جوش خودی کا نہ ہو خیال وہ زندگی نہیں کبھی شایان زندگی کر نوح بن کے اس کا تو ...

مزید پڑھیے

تم اگر چاہو تو

اس سے پہلے کہ شب ماہ کے ٹھنڈے سائے گرمیٔ صبح درخشاں سے پگھل کر رہ جائیں اس سے پہلے کہ ستاروں پہ اجالوں کی گھٹا چھا جائے اس سے پہلے کہ یہ شبنم کے گہر ہائے لطیف نذر خورشید زر افشاں ہو جائیں اس سے پہلے کہ چراغوں کے چمکتے موتی صدف نور سحر میں کھو جائیں اس سے پہلے کہ شب ہجر کا آزار ہو ...

مزید پڑھیے

اٹھ

اٹھ کہ خورشید آسماں پر جلوہ افشاں ہو گیا اٹھ کہ گویا تیری بیداری کا ساماں ہو گیا اٹھ کہ پہنچا چاہتے ہیں غیر منزل کے قریب تو بدلتا ہے ابھی تک کروٹیں اے بد نصیب اٹھ کہ جد و جہد سے ہو تیری ہستی کامیاب خواب آخر خواب ہے کب تک رہے گا محو خواب اٹھ کہ دنیا کو ترے ذوق طلب سے کام ہے زندگی ...

مزید پڑھیے

وہ نہیں آئے

چھٹ گئی ظلمت کٹ گئی رات پھٹ گئی پو گم ہوئے تارے کھو گیا شبنم دھل گئے باغ کھل گئیں کلیاں ہنس دئیے پھول اڑ گئے پنچھی جاگ اٹھی خلق ہو گئی صبح چڑھ گیا سورج بڑھ گئے سائے وہ نہیں آئے وہ نہیں آئے

مزید پڑھیے

روشنی کم ہے

روشنی کم ہے نہ کر اس کی شکایت ہمدم روشنی کم ہی رہے تو اچھا شادمانی و خوشی کے ہم راہ اک نہ اک غم بھی رہے تو اچھا دشت و صحرا ہو کہ باغ دبستاں سطح دریا ہو کہ چٹیل میدان رات ہر چیز پہ ہے سایہ نشاں روشنی کم ہے اندھیرا ہی زیادہ ہے یہاں شاہراہوں کے نظاروں پہ نہ جا قمقموں کی نظر افروز ...

مزید پڑھیے

تبسم

چمک ہیرے سے بڑھ کر اے تبسم تجھ میں پنہاں ہے انہیں ہونٹوں پہ ضو بکھرا تو جن ہونٹوں کو شایاں ہے مثال برق تو گرتا ہے جان ناشکیبا پر گری تھی جس طرح بجلی کلیم طور سینا پر نہ ہوگا لعل کوئی تیری قیمت کا بدخشاں میں تو ہی اک مصرع برجستہ ہے قدرت کے دیواں میں جہاں کی دولتوں میں کوئی بھی دولت ...

مزید پڑھیے

اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے

اب کسی اندھے سفر کے لیے تیار ہوا چاہتا ہے اک ذرا دیر میں رخصت ترا بیمار ہوا چاہتا ہے آخری قسط بھی سانسوں کی چکا دے گا چکانے والا زندگی قرض سے تیرے وہ سبکبار ہوا چاہتا ہے راز سر بستہ سمجھتے رہے اب تک جسے اہل دانش منکشف آج وہی راز سر دار ہوا چاہتا ہے دل وحشی کے بہلنے کا نہیں ایک ...

مزید پڑھیے

اتنی ساری شاموں میں ایک شام کر لینا

اتنی ساری شاموں میں ایک شام کر لینا سوگ چند لمحوں کا میرے نام کر لینا لوٹ کر یقیناً میں ایک روز آؤں گا پلکوں پہ چراغوں کا اہتمام کر لینا اک جنم کا میں پیاسا راستہ بھی ہے لمبا ایک قلزم مے کا انتظام کر لینا ہم فنا نصیبوں کو اور کچھ نہیں آتا خوں شراب کر لینا جسم جام کر لینا یہ ...

مزید پڑھیے

اب اس سادہ کہانی کو نیا اک موڑ دینا تھا

اب اس سادہ کہانی کو نیا اک موڑ دینا تھا ذرا سی بات پر عہد وفا ہی توڑ دینا تھا مہکتا تھا بدن ہر وقت جس کے لمس خوشبو سے وہی گلدستہ دہلیز خزاں پر چھوڑ دینا تھا شکست ساز دل کا عمر بھر ماتم بھی کیا کرتے کہ اک دن ہنستے ہنستے ساز جاں ہی توڑ دینا تھا سفر میں ہر قدم رہ رہ کے یہ تکلیف ہی ...

مزید پڑھیے

دھوپ آتی نہیں رخ اپنا بدل کر دیکھیں

دھوپ آتی نہیں رخ اپنا بدل کر دیکھیں چڑھتے سورج کی طرف ہم بھی تو چل کر دیکھیں بات کچھ ہوگی یقیناً جو یہ ہوتے ہیں نثار ہم بھی اک روز کسی شمع پہ جل کر دیکھیں صاحب جبہ و دستار سے کہہ دے کوئی اس بلندی پہ وہ دیکھیں تو سنبھل کر دیکھیں کیا عجب ہے کہ یہ مٹھی میں ہماری آ جائے آسماں کی طرف ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5173 سے 6203