یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں
یہ محبت کا جو انبار پڑا ہے مجھ میں اس لیے ہے کہ مرا یار پڑا ہے مجھ میں چھینٹ اک اڑ کے مری آنکھ میں آئی تو کھلا ایک دریا ابھی تہہ دار پڑا ہے مجھ میں میری پیشانی پہ اس بل کی جگہ ہے ہی نہیں صبر کے ساتھ جو ہموار پڑا ہے مجھ میں ہر تعلق کو محبت سے نبھا لیتا ہے دل ہے یا کوئی اداکار پڑا ہے ...