قومی زبان

جنگل دکھائی دے گا اگر یہ یہاں نہ ہوں

جنگل دکھائی دے گا اگر یہ یہاں نہ ہوں سچ پوچھئے تو شہر کی ہلچل ہیں لڑکیاں ان سے کہو کہ گنگا کے جیسی پوتر ہیں جن کے لیے شراب کی بوتل ہیں لڑکیاں انجمؔ تم اپنے شہر کے لڑکوں سے یہ کہو پیروں کی بیڑیاں نہیں پائل ہیں لڑکیاں

مزید پڑھیے

عدو تو کیا یہ فلک بھی اسے ستا نہ سکا

عدو تو کیا یہ فلک بھی اسے ستا نہ سکا خوشی ہنسا نہ سکی غم جسے رلا نہ سکا نہ پوچھ اس کی دل افسردگی کی کیفیت جو غم نصیب خوشی میں بھی مسکرا نہ سکا وہ پوچھ بیٹھے یکایک جو وجہ بے تابی کھجا کے رہ گیا سر بات کچھ بنا نہ سکا وہ دیکھ لیں نہ کہیں میری چشم پر نم کو گیا تو ملنے کو آنکھیں مگر ملا ...

مزید پڑھیے

واعظ کی کڑوی باتوں کو کب دھیان میں اپنے لاتے ہیں

واعظ کی کڑوی باتوں کو کب دھیان میں اپنے لاتے ہیں یہ رند بلا نوش ایسے ہیں سنتے ہیں اور پی جاتے ہیں ہم آپ سے جو کچھ کہتے ہیں وہ بالکل جھوٹ غلط اک دم اور آپ جو کچھ فرماتے ہیں بے شبہ بجا فرماتے ہیں دیوانہ سمجھ کر چھیڑ کے وہ سنتے ہیں ہماری باتوں کو ہم مطلب کی کہہ جاتے ہیں وہ سوچ کے کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5146 سے 6203