وقت برباد کرتی رہتی ہوں
وقت برباد کرتی رہتی ہوں روز فریاد کرتی رہتی ہوں ہچکیاں تجھ کو آ رہی ہوں گی میں تجھے یاد کرتی رہتی ہوں
وقت برباد کرتی رہتی ہوں روز فریاد کرتی رہتی ہوں ہچکیاں تجھ کو آ رہی ہوں گی میں تجھے یاد کرتی رہتی ہوں
غم کی الجھی ہوئی لکیروں میں اپنی تقدیر دیکھ لیتی ہوں آئنہ دیکھنا تو بھول گئی تیری تصویر دیکھ لیتی ہوں
یہ کسی نام کا نہیں ہوتا یہ کسی دھام کا نہیں ہوتا پیار میں جب تلک نہیں ٹوٹے دل کسی کام کا نہیں ہوتا
ساتھ چھوٹے تھے ساتھ چھوٹے ہیں خواب ٹوٹے تھے خواب ٹوٹے ہیں میں کہاں جا کے سچ تلاش کروں آج کل آئنے بھی جھوٹے ہیں
جنگل دکھائی دے گا اگر یہ یہاں نہ ہوں سچ پوچھئے تو شہر کی ہلچل ہیں لڑکیاں ان سے کہو کہ گنگا کے جیسی پوتر ہیں جن کے لیے شراب کی بوتل ہیں لڑکیاں انجمؔ تم اپنے شہر کے لڑکوں سے یہ کہو پیروں کی بیڑیاں نہیں پائل ہیں لڑکیاں
مجبوریوں کے نام پہ سب چھوڑنا پڑا دل توڑنا کٹھن تھا مگر توڑنا پڑا میری پسند اور تھی سب کی پسند اور اتنی ذرا سی بات گھر چھوڑنا پڑا
تری یادوں کو پیار کرتی ہوں سو جنم بھی نثار کرتی ہوں تجھ کو فرصت ملے تو آ جانا میں ترا انتظار کرتی ہوں
اپنی آوارہ مزاجی کو نیا نام نہ دو مجھ کو جنت سے نکلوانے کا الزام نہ دو میکدے بند بھی ہو جائیں تو پروا نہ کرو کسی کم ظرف کے ہاتھوں میں مگر جام نہ دو
عدو تو کیا یہ فلک بھی اسے ستا نہ سکا خوشی ہنسا نہ سکی غم جسے رلا نہ سکا نہ پوچھ اس کی دل افسردگی کی کیفیت جو غم نصیب خوشی میں بھی مسکرا نہ سکا وہ پوچھ بیٹھے یکایک جو وجہ بے تابی کھجا کے رہ گیا سر بات کچھ بنا نہ سکا وہ دیکھ لیں نہ کہیں میری چشم پر نم کو گیا تو ملنے کو آنکھیں مگر ملا ...
واعظ کی کڑوی باتوں کو کب دھیان میں اپنے لاتے ہیں یہ رند بلا نوش ایسے ہیں سنتے ہیں اور پی جاتے ہیں ہم آپ سے جو کچھ کہتے ہیں وہ بالکل جھوٹ غلط اک دم اور آپ جو کچھ فرماتے ہیں بے شبہ بجا فرماتے ہیں دیوانہ سمجھ کر چھیڑ کے وہ سنتے ہیں ہماری باتوں کو ہم مطلب کی کہہ جاتے ہیں وہ سوچ کے کچھ ...